فوٹو گراف


وہ آگے بڑھا اورا س سے پہلے کہ پھولوں پر بیٹھی وہ تتلی کسی اور سمت پرواز کرتی وہ اسے پھول سمیت قید کرچکا تھا، اپنے کیمرے میں، جہاں اس طرح کی ہزاروں تصویریں پہلے سے موجود تھیں۔

اسے تصویریں کھینچنا بہت پسند تھا، اس کے موبائل میں ہزاروں تصویریں تھیں، اس کے دن کا آغاز ہی تصویر کشی سے ہوتا تھا۔

اس کی فون میموری ایک زندان خانہ تھی جہاں ہر منظر قید ہوجاتا تھا۔ اس کی تصویریں پسند کرنے والوں میں سر فہرست اس کے دوست تھے، لیکن جب اسس کی تصویروں کو سوشل میڈیا پر بین الاقوامی فوٹو گرافروں کی جانب سے بھی سراہاگیاتو اس کی گردن فخر سے کچھ اور تن گئی تھی۔

وہ تصویریں اپنے سوشل اکاؤنٹس پر پوسٹ کر رہا تھا کہ گھر سے کال آنا شروع گئی۔
”السلام علیکم“
اس نے فون کان سے لگاتے ہوئے کچھ بیزاری سے کہا
اس وقت امی کا فون اس کے شوق میں خلل ڈال رہا تھا
لیکن دوسری طرف جو خبر اس کی منتظر تھی اسے خبر ہی نہیں تھی کہ وہ کس طرح سب کچھ بدل کر رکھ دے گی
”فوراً گھر واپس آؤ“
مگر امی ابھی تو میں جامعہ میں داخل ہوا ہوں
ہوا کیا ہے آخر
بیٹا کورونا کی وجہ سے حکومت نے چھٹی کا اعلان کر دیا ہے
لیکن وہ تو کل سے ہے امی آج تو کلاسز لینے دیجیے مجھے
”تم آرہے ہو یا نہیں“ دوسری طرف سے جس انداز میں سوال کیا گیا تھا
اس کا ایک ہی جواب ہو سکتا تھا
”جی“
مرے مرے قدموں سے وہ واپس گھر کی سمت رواں تھا
گھر پہنچنے تک اس کی تصویر کو دو ہزار لائکس مل چکے تھے

اس کے نزدیک فوٹو گرافی ایک نشہ تھی۔ وہ معمولی چیز کو بھی ایسے زاویوں سے کیپچر کرتا تھا کہ ان میں جان لڑ جاتی تھی۔

کافی دن سے وہ گھر پر تھا موقع ہی نہیں مل رہا تھا باہر جانے کا
گروسری کرنے امی یا ابو خود جاتے تھے

اسے اور اس کے بہن بھائیوں کو گھر سے نکلنے کی بالکل اجازت نہیں تھی۔ گھر میں موجود چیزوں کی تصویریں لے لے کر وہ تھک چکا تھا

اسے باہر نکلنے کا موقع چاہیے تھا اور ایک دن اسے موقع مل گیا۔
چاچو کا فون آیا تھا، دادا بہت بیمار تھے اور سب بچوں کو یاد کر رہے تھے۔

”امی نے ابو کے ساتھ صرف اسے جانے کی اجازت دی تھی“ دونوں بہن بھائی ابھی چھوٹے تھے اور امی کی بتائی ہوئی احتیاطی تدابیر پرعمل کرنا ان کے لیے مشکل تھا۔

”آپ فواد کو ملوا کر لے آئیے
میں ثنا اور فہد کو خود لے کر جاؤں گی
ابھی ایک ساتھ اتنے لوگوں کو گاڑی میں دیکھ کر پولیس روکے گی ”
وہ گیا تو دادا سے ملنے تھا
لیکن جب ابو اور چاچو داد کے پاس بیٹھے کچھ ضروری باتیں کر رہے تھے وہ نظر بچا کر باہر نکل گیا
کچھ دور پیدل چلتے ہوئے اسے مزدور پیشہ شخص دکھائی دیا
وہ کوئی رنگ ساز تھا
ہاتھ میں پینٹ کا خالی ڈبہ اور برش تھامے زندگی کے اس نئے رنگ پر حیران بھی لگتا تھا اور پریشان بھی
فواد کو تصویر مل گئی تھی
بھائی رکو
وہ کسی امید کے تحت رک گیا، اس کی دھندلی آنکھوں میں ہلکی سی چمک ابھر کر معدوم ہوئی تھی
”ذرا یہاں بیٹھو وہ ایک پتھر کی جانب اشارہ کر کے بولا
اور اس برش کو ذرا ترچھاکر کے پکڑو ”
”ہاں ایسے“
”بس ایک منٹ پلیز
زیادہ وقت نہیں لوں گا تمھارا ”
رنگ ساز حیرانی سے اس کی ہدایات سن رہا تھا اور نہ جانے کیوں ان پر عمل بھی کر رہا تھا
کلک کی آواز کے ساتھ تصویریں کھنچتی چلی جارہی تھیں

شکریہ بھائی! اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا کہ اسے سو پچاس روپے دے دے لیکن والٹ تو وہ ساتھ رکھنا ہی بھول گیا تھا

رنگ ساز عجیب بے بس نظروں سے اسے دیکھ کر آگے بڑھ گیا
اس کے موبائل پر ابو کی کال آ رہی تھی
”کہاں ہو تم، کسی کو بتائے بغیر باہر نکل گئے
فوراً آؤ ”
ابو نے اس کی سنے بغیر فون بند کر دیا تھا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ *********
” چھے ہزار لائک ملے تھے اس کی تصویر کو“
کیپشن بھی تو بہترین تھا اس کے ساتھ
رنگ ساز کی آنکھوں میں پھیلا بے بسی کا رنگ بغیر کسی ایڈیٹنگ کے ہائی لائٹ ہورہا تھا۔
لوگوں نے بہت سراہا تھا اس تصویر کو
وہ بہت خوش تھا
بڑے دن بعد اس نے کوئی ایسی تصویر لی تھی جس پر ہزاروں لائکس ملے تھے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
”غریب رنگ ساز نے فاقوں سے تنگ آکر زہریلی دوا پی لی“
نیوز اینکر اپنے بے تاثر چہرے کے ساتھ معمول کی خبریں سنا رہا تھا

فواد نے موبائل پر جھکی ہوئی گردن سیدھی کی اور ٹی وی پر نظر آتا منظر اس کی گردن ہمیشہ کے لیے جھکا گیا کیمرے نے پیروں کو فوکس کیا تھاپیر کے دونوں انگوٹھے آپس میں بندھے ہوئے تھے لیکن وہ رنگ ساز زندگی کی قید سے آزاد ہوگیا تھا

Latest posts by عائشہ ناز (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عائشہ ناز کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments