Death, I love you

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ستر برس کے سفر کے بعد تھک گیا تھا اور کچھ دیر آرام کرنے کی غرض سے زندگی کی دوڑ سے الگ ہوا تھا جس یوں کہئیے اب زندگی نے خود ہی مجھے سائیڈ پرکر دیا سوچا ذرا ماضی میں جھانک کر دیکھو کہ کیسے گزری ہے۔ زندگی کیا کھویا کیا پایا۔

پہلی جھلک جو میں نے ماضی کے جھروکوں میں دیکھی وہ میری پہلی سائیکل تھی جسے چوم کر اسے دوڑاتے ہوئے اپنے پاپا سے آئی لو یو پاپا کہہ رہا تھا اور اسے دیوانہ وار دوڑانے کے لئے صبح ہونے کا انتظار کرتا تھا۔ کب صبح ہوجاٰئے اور میں اسے چلاؤ ں اس وقت میری سائیکل ہی میری کل کائنات تھی۔ اس کے بعد اگلے منظر میں مجھے میری نئی موٹر سائیکل نظر آئیں جس کی ٹنکی پر ہاتھ پھیر کر میں مسکرارہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ ہر سال کی نئی کلاس کی نئی نئی محبتیں بھی ساتھ نظر آنے لگیں پھر اپنی ہونے والی بیگم سے آئی لو یو کہتا نظر آ رہا تھا۔

اگلے منظر میں بالآخر وہ میری بیگم بن ہی گئیں زندگی میں ٹھراؤ آ گیا۔ اب گھر جانے کی جلدی میں دوستوں سے ملاقاتیں کم ہونے لگیں پھر ایک دن میرا بیٹا میری گود میں آ گیا اسے دیکھ کر لگا ساری کائنات میری گود میں سمٹ کر آ گئی ہو جیسے اس کے بعد مزید بچوں کی آمد، ان کی تعلیم، ان کی ننھی خواہشیں، ان کی سائیکلیں موٹر سائیکل اور موٹر کار سے جہاز تک کا سفر اور جہاز میں بیٹھ کر ساتھ سمندر پار جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور وہ مجھے وہیں بھول گئے کہ جس نے انہیں یہاں تک پہنچایا وہ کہاں رہ گیا۔ وہ شاندار مکان جسے بنانے کے لئے دن رات ایک کر دیا، آج میری طرح پرانا ہو گیا ہے۔ مستقبل میں اس کو یہ کہہ کر فروخت کر دیا جائے گا کہ پرانا گھر ہے۔ رہنے کے لائق نہیں۔ میری بیوی جس کے ساتھ میرے پاس خوبصورت لمحے گزارنے کا ٹائم نہیں تھا۔ آج وہ تازہ گلاب کے پھول سے مرجھائے ہو ئے گلاب کے پھولوں کی طرح قبر کی مٹی کے ساتھ مٹی ہو چکی ہے۔ اب ہوش آیا کہ کن چیزوں سے پیار کیا جو آج ہوتے ہوئے بھی میرے ساتھ نہیں اورمیں زندگی کے ٹائم ٹیبل کو مینٹین کرتے کرتے زندگی گزارنا بھول گیا۔ دوست بھلا دیے اور آج اسی زندگی نے مجھ ہی بھلادیا اور میرے بچے بھی اسی دوڑ میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔ بچوں کی تربیت ان کا خیال کرنا گھر والوں کے فرائض ادا کرنا ضروری ہے۔ مگر اس میں بچوں کی کامیابی کے لئے حلال و حرام کی تمام حدوں سے گزر جانا غلط ہے۔ ان معاملات محنت کر کے نتائج اللہ پر بھی چھوڑنا چاہیے۔

کرونا ایک وبا ہے۔ مہلک بیماری ہے۔ احتیاط کرنی چاہیے مگر جس طرح سے ہم موت سے ڈررہے ہیں اور موت سے بھی پہلے کئی بار روز مر رہے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ نفسیاتی مریض بن رہے ہیں۔ متاثرہ لوگوں سے نفرت کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور ایمان کا بنیادی سبق بھول گئے ہیں۔ ایمان مفصل، ایمان مجمل بھول گئے ہیں۔ اپنی رب سے کیے ہوئے اچھے اور بری تقدیرکی ہونے کا اقرار اور مرنے اور جینے کے عہد سب بھول گئے ہیں۔ ایک مرتبہ ضرورت ہے۔

ان کا مطلب پڑھنے کی یہ زندگی تو آزمائش ہے۔ اصل زندگی تو موت کے بعد شروع ہوگی جس کا ابتدائی نتیجہ تو ہم سب کو معلوم ہے اور وہ ہیں۔ ہمارے اعمال کیونکہ ہم خود سے تو نہیں جھوٹ بول سکتے اگر آپ اپنی ماضی سے مطمئن ہیں تو موت سے ڈرنا نہیں اگر آپ پشیمان ہیں تو قدرت اس تحریر سے آپ کو پیغام دے رہی ہے کہ ابھی دیر نہیں ہوئی توبہ کے دروازے کھلے ہیں۔ ابھی معافی مانگ لیں اور اپنی موت کو خوبصورت کر لیں کہ جب آپ کے جانے کا وقت آ جائے تو آپ کو افسوس نہ ہو کہ جن فانی رشتوں اور چیزوں کے لئے میں نے عارضی زندگی کو جہنم بنایا ہوا تھا اور ہمیشہ باقی رہنی والی موت کے بعد کی زندگی بھلایا ہوا تھا۔ اس کو صحیح کر لیں۔ جہاں اللہ تعالی کی بے حساب نعتیں آپ کا انتظار کررہی ہیں تو آج سے اپنے ہر مسلمان بھا ئی رشتے داروں کو خوشیاں دینی شروع کریں اور ان کی پریشانی دور کریں اپنی کمائی میں سے ان کا حصہ اپنی حیثیت کے مطابق نکالیں تاکہ جب آپ اگلے جہاں جائیں تو ان تمام کوششوں کو آ پ اپنے آگے پائیں اورآج کے بعد جب بھی اس وبا سے موت کا خطرہ محسوس ہو تو ٖڈرنا نہیں ہے کیونکہ اب مجھے موت کا کوئی ڈر نہیں اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہنا ہے کہ آئی لو یو ڈیتھ۔۔۔ آئی لو یو ڈیتھ۔

Latest posts by عدنان رؤف (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عدنان رؤف کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *