سیاسی نظام ’میڈیا اور عوام!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا ہم ذہنی طور پر اتنے اپاہج ہو چکے ہیں کہ علمی و سیاسی شعور رکھنے کے باوجود انہی آزمودہ سیاستدانوں کو خود پر مسلط کرنے میں ہچکچاہٹ تک محسوس نہیں کرتے ان سیاستدانوں کی نظر میں عوام کی حیثیت ایک ووٹر سے زیادہ نہیں یہ تجربہ بلکہ تجربات انہی مفاداتی سیاستدانوں کو بار بار اپنے ووٹ کے دوام سے منتخب کر کے عوام آزما چکی ہے۔ عوام آج بھی تہی دست مایوسی کے دوراہے پر کھڑی اپنی قسمت پر نوحہ کناں ہے یہ حالات کسی طور پر ملک و ملت کی ترقی و خوشحالی کے ضامن نہیں ہیں۔

ملک کا سیاسی نظام اس حد تک مفلوج دکھائی دیتا ہے کہ عوام کو انسانی بنیادی حقوق تک میسر نہیں جس سے اخذ کرنا دشوار نہیں کہ یہ نظام اس قابل نہیں جو عام فرد کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں ممدومعاون ثابت ہو سکے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے در پر کھڑے ہو کر جھانک لیں تو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ انسانی بنیادی حقوق ’وسائل اور اختیارات نے ہمیشہ سیاسی اشرافیہ کے در کا ہی طواف کیا اور عام آدمی کا دامن ریلیف سے ہمیشہ خالی ہی رہا۔

چند جاگیر دار اور سرمایہ دار خاندان اس ملک کے سیاسی نظام پر قابض چلے آ رہے ہیں جس کے باعث عوام اس نظام میں فیصلہ سازی سے یکسر محروم ہے ایک مخصوص سیاسی طبقہ عوام کا استحصال کرتے ہوئے اپنے مفادات‘ اختیارات اور اقتدار کو دوام بخش رہا ہے۔ یہ سیاسی خاندان اس قدر اس نظام میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکے ہیں کہ یہی سیاسی اشرافیہ کا طبقہ وفاداریاں بد ل بدل کر ہر نئی بننے والی حکومت کا حصہ ہوتے ہیں موجودہ نظام قطعاً نظریاتی اساس پر قائم نہیں جس کی وجہ سے عوام آج تک متحد ہو کر ایک قوم نہ بن سکی۔

حکمرانوں کی ترجیحات میں یہ کبھی شامل ہی نہیں رہا کہ ایسا خاطر خواہ نظام ہی نافذ کر دیں جس سے غریب آدمی کو ریلیف مل سکے دیکھنا ہو گا کہ کیا اس ملک کے حکمران بہتر سال گزرنے کے باوجود عام آدمی کو انسانی بنیادی ضروریات سے آراستہ کرنے میں کامیاب رہے ’کیا جانی تحفظ اور سوشل سکیورٹی فراہم کی گئی‘ کیا روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے ’کیا ریاستی اداروں میں عوام کے عمل دخل کو یقینی بنایا گیا‘ کیا معاشرہ میں عدل و انصاف کا پیمانہ قائم کیا گیا ’اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ملے تو یہ سمجھنے میں کہیں دشواری نہیں کہ اس نظام کو مزید تجربات کی بھینٹ چڑھا کر عوام کے لئے سوہان روح بنایا جائے۔

ایک ایسا نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں موروثی خاندانوں کے غیرجمہوری چوہدری‘ جاگیر دار ’سرمایہ دار‘ نواب ’وڈیرے‘ لغاری ’مزاری‘ چھٹے ’زرداری‘ شریفی ہی فٹ نہ آئیں بلکہ محب وطن قیادت اس عوام کو میسر آسکے جو مسائل کا ادراک رکھتی ہو اور ان مسائل کو حل کرنے کی اہلیت و قابلیت کے پیمانے پر بھی پورا اترتی ہو۔ المیہ ہے کہ ان بے رحم سیاستدانوں نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی بجائے آپسی لڑائی اور ایکدوسرے کے خلاف نفرت و تعصب کے ہتھیار سے عوام کو تقسیم کر کے رکھ دیا۔

ملک میں اس وقت حالات یہ ہیں کہ ہر محکمہ کرپشن اور رشوت ستانی میں لتھڑا ہوا ہے ’عدم تحفظ کی فضا قائم ہے‘ اقرباء پروری ’انصاف کی عدم دستیابی جیسے مسائل اس معاشرے کی وحشت کی کہانی بیان کر رہے ہیں کوئی ایک ادارے کی نشاندہی کر دیں جہاں وہ ملک و ملت کے مفاد میں درست سمت میں سفر کر رہا ہوایک تصادم کی فضا قائم ہے جس نے ملک میں ایک بے یقینی کی صورتحال کو جنم دیا ہے۔ یقین جانئیے اگر ان حالات کا ادراک نہ کیا گیا اور اس نظام میں اصلاحات کا بیج بو کر آبیاری نہ کی گئی تو شاید آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہ کر پائیں۔

ہر ایک کو اپنا اپنا گریبان ٹٹولنا ہو گا کہ اس ملک و ملت کی بہتری کے لئے کیا کردار ادا کر سکتے ہیں میڈیا کو اپنے مثبت کردار کو اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے جو اہل قلم ادیب اور دانشور طبقہ ان حالات میں بھی لب کشائی سے گریز کر رہے ہیں انہیں چاہیے کہ عوام کی راہنمائی کریں اور حکمرانوں کے لئے بھی درست طرز حکمرانی کی نشاندہی کریں یہ بائیس کروڑ افراد کا ملک جمہوریت کے نام پر ایک ایسی چارہ گاہ بن چکا ہے جہاں صرف سیاستدان طبقہ ہی اس سے فیض یاب ہو سکتا ہے اور اس نظام میں عوام کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔

میڈیا کو حکومتی یا اپوزیشن کا آلہ کار بننے کی بجائے عوام کے حقوق کی بازیابی کے لئے آلہ کار بننے کی ضرورت ہے عوام میڈیا کی جانب مسیحائی نظروں سے دیکھ رہی ہے۔ زیادہ تر ذرائع ابلاغ کا ایسا مکروہ چہرہ سامنے آیا ہے جس نے اس کے تقدس‘ اعتباراور غیر جانبداریت کو خاک میں ملا دیا جو اس پیشہ کے تقدس پر سوالیہ نشان ہے۔ جس میڈیا کا کام عوام کی بھلائی کرنا تھا آج وہی میڈیا حکومت اور اپوزیشن کے ایجنڈا پر کام کر کے عوام کے حقوق کی جنگ لڑنے سے کوسوں دور ہے اب صرف میڈیا کا کام عوام کو الجھا کر رکھنا ہے۔

بہر حال کون اپنے کردار و عمل سے جنت کا حقدار ٹھہرتا ہے اور کون اپنے لئے دہکتی دوزخ خریدتا ہے یہ طے ہونے میں زندگی اور موت کے درمیان ایک عارضی سانسوں کی ڈور ہے جو کسی وقت بھی کٹ سکتی ہے۔ ان حالات میں جب کورونا وبا کے باعث عوام تو پہلے ہی ایک ان دیکھی جنگ سے نبرد آزما ہے جس سے پوری قوم ڈیپریشن میں مبتلا ہو چکی ہے جس کی وجہ سے بے چینی ’بے خوابی اور دیگر درجنوں عوارض پیدا ہو چکے ہیں۔ بازاروں میں کاروبار تو شروع ہو گیا لیکن معاشی بحران نے لوگوں میں روزی روٹی چھن جانے کا ایسا خوف پیدا کر دیا ہے جس کے تسلط سے وہ ابھی تک آزاد نہیں ہوئے۔

ویسے بھی ملک میں بیروزگاری‘ مہنگائی ’غربت کی شرح میں حکومت کی جانب سے عملی ٹھوس اقدامات نہ ہونے کے باعث اضافہ ہوا ہے تبدیلی کی شہسوار حکومت کو چاہیے کہ عوام کے حقوق کی بازیابی اور ان کے مسائل کے تدارک کے لئے اقدامات اٹھائے اپنے وزیروں مشیروں کی ظفر موج کو پابند کرے کہ وہ صرف اپنے محکموں کی کارکردگی کے بارے بیانات داغے تاکہ عوام کو بھی معلوم ہو سکے کہ موجودہ حکومت کی گورننس کا پیمانہ کیا ہے۔ دوسال کے سفر میں تحریک انصاف کی حکومت کیا کر پائی اس گپت کارگزاری کا بھی عوام کو پتہ چلنا چاہیے عوام کا کام صرف یہی نہیں کہ سیاستدانوں کو منتخب کر کے ایوانوں میں بٹھادے بلکہ عوام یہ حق بھی رکھتی ہے کہ اس کے دیے گئے مینڈیٹ کا استعمال ملک و ملت کے مفادات کے تحت درست ہو رہا ہے یا نہیں‘ وقت اور حالات دن بدن کروٹیں لے رہے ہیں تحریک انصاف کی حکومت کے پاس وقت کم ہے لیکن چیلنجز زیادہ ہیں۔

عمران خان ایماندار ’محب وطن ہیں تو اپنے ارد گرد کا جائزہ لے کر ان مہروں کو الگ کریں جو انہیں اگلی چال چلنے میں رکاوٹ ہیں عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ کی بہتر طرز حکمرانی میں کون کون سی رکاوٹیں حائل ہیں بلکہ عوام کو تو آپ کی جانب اس امید کے ساتھ دیکھ رہی ہے کہ جس نئے پاکستان کا خواب آپ نے آنکھوں میں چنا تھا وہ کب شرمندہ تعبیر ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *