سیاسی تبدیلیاں اور عوام کی حالت زار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد کے اندر مائنس ون کی گپ شپ کیا شروع ہوئی ہر کسی نے اپنا ایک محاذ بنا لیا۔ لیکن اب کی بار حالات مختلف ہیں نہ تو اس کی بار کسی کو ان پر اعتبار ہے اور نہ اس کی بار حکومت کو کوئی ڈر۔ اس کی وجہ کیا ہے؟

کوئی بھی کسی کے کہنے پر کسی کو مائنس نہیں کرنے جا رہا اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے سب جانتے ہیں اگر آج انھوں نے کسی کو مائنس کیا تو کل ان کو بھی مائنس کر دیا جائے گا کیونکہ وہ سب کو اب یہ بات تو روز اول کی طرح عیاں ہے

لیکن اس تبدیلی کا عذاب عوام کے گلے میں ڈالنے والے اب بے بس ہیں کیونکہ اب کی بار ان کو بھی یہ بات عیاں ہے کہ اب کی بار بات پہلے کی نہیں۔ اب ملک میں موجود کروڑوں سوشل میڈیا صارفین اور ٹائیگر فورس کے نام پر بھرتی دس لاکھ انصاف کے رضا کار ایک کال پر کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

یہ ملک پاکستان مافیا کا ہے اور اس مافیا کا نیٹ ورک بہت مضبوط ہے شاید یہی وجہ ہے وہ اس حکومت کو چلنے ہی نہیں دے رہے۔ کوئی بھی کام ہو حکومت بے بس نظر آتی ہے جب حکومت ان پر ہاتھ ڈالنے کا سوچتی ہے تو ان میں سے اکثر روالپنڈی کی یاترا کرتے ہیں اور پھر سارا معاملہ ادھر ہی رک جاتا ہے

آٹا مافیا ہو یا چینی مافیا اس کا عذاب عوام کو ہی بگھتنا پڑتا ہے۔ پٹرولیم کے ریٹ میں اضافہ ہو تو اس کا فائدہ بھی اسی مافیا کو جا تا ہے۔ لیکن آنے والا بحران عوام کے لیے ایک سخت امتحان ہو گا۔ آٹا ملز مالکان مافیا نے بھی اپنا کام شروع کر دیا ہے اس وقت ملک میں آٹا کا بحران سر اٹھا رہا ہے۔ پٹرول چینی مہنگی ہو تو گزارا ہو سکتا ہے لیکن آگر عوام کے ہاتھ سے روٹی اگر چھین لی جائے تو کیا ہو گا۔ اس کا جواب درکار ہے؟

اس وقت ملک میں گندم کی پیداوار پہلے کی نسبت بہت کم ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود ملک کے حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ہے۔ آج سے ایک ماہ پہلے فائن آٹے کی 85 کلوگرام کی ایک بوری کی قیمت 3700 روپے تھی اب اس وقت 80 کلو گرام کی یہی بوری 5200 روپے ہے۔ یہ اس وقت ملز ریٹ ہیں اب اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں روٹی کا ریٹ ہو گا۔ شاید ایک روٹی 15 روپے کی فروخت ہو گی۔

یہ سب اس حکومت کی ناکامی اور مافیا کی جیت ہے جس نے گندم کو اپنے گوداموں میں چھپا کر من مانی قیمت بنا لی ہے اور ایک بوری پر ایک ہزار تک کما رہے ہیں۔ عوام منتظر ہیں کہ کون سا مسیحا ان کو اس کرب و تکلیف سے نجات دلائے گا۔ کیونکہ جن کی ذمہ داری ہے وہ تو مائنس ون کے چکر میں بیٹھے ہیں اور عوام کو اس عذاب میں ڈال کر خود سازشوں کا شکار ہو رہے یا دوسروں کو کر رہے ہیں

اب تو ان سے ایک ہی التماس ہے۔ خدارا عوام پر رحم کریں اور جس کو تخت اسلام آباد پر جانشیں کرنا ہے، کر لیں۔ لیکن اس سے پہلے عوام کے لیے روٹی کا سستا بندوبست کر دیں اور اس کے بعد جو بھی گیم کھیلنی ہے ایک دوسرے سے وہ کھیل لیں کیونکہ آپ کو شاید پتہ بھی نہ ہو کہ آٹے کا ریٹ کیا ہے کیونکہ آپ نے کون سا عوام سے دوبارہ ووٹ لینا ہے کہ ان کا درد بھی آپ کو معلوم ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply