بار روم کا ہائیڈ پارک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج خلجی صاحب سب پہ بازی لے گئے، جون کی چھٹیوں کے بعد آئے تو سادہ لباس میں تھے یعنی یونیفارم میں تو نہیں تھے پر فل فارم میں تھے، آج بار میں جسٹس فائز عیسی ریفرنس خارج ہونے پر بار روم میں یوم تشکر کا انعقاد بھی کیا ہوا تھا اور گیارہ بجے کے بعد کورٹ ورک سسپنڈ تھا، تو مجھے امید تھی کہ آج ہمارا ہائیڈ پارک نہ صرف خوب سجے گا بلکہ جمے گا بھی، اور ایسا ہی ہوا۔

کاظمی صاحب سفاری سوٹ زیب تن کیے ہوئے آن پہنچے، خلجی صاحب رامپوری پوشاک میں جچ ریے تھے، نیازی صاحب، لودھی صاحب اور ملک صاحب عام پینٹ شرٹ میں شریک محفل تھے، البتہ فیاض یوسفزئی شلوار قمیض پر واسکٹ میں ملبوس تھے اور چارسدہ کی کالی کھیڑیاں زیب پا تھیں۔ ایک دوسرے پر نوک جھونک کے بعد اور سبز چائے اور سلیمانی چائے کی مکسر نوش کرنے کے بعد جیسے خلجی صاحب اپنا مدعا بیان کرنے کے لئے بالکل بیتاب ہوں۔ لیکن کاظمی صاحب سے کسی جونئیر وکیل نے پوچھا، کاظمی صاحب یہ ہماری بار کیوں یوم تشکر منارہی ہے، جس پر کاظمی صاحب بس اتنا سا بولے ہماری بار بھی اس پیٹیشن میں فریق تھی اور پھر بالکل خاموش ہوگئے، جب کاظمی صاحب یہ بات کر رہے تھے تو ایک دو جونئیر وکلاء نے مسکرانے کے انداز میں اس جونئیر وکیل پر طنز بھی کیا، گویا کہ ان کو بتانا چاہ رہے ہوں کہ تم کو یہ بھی پتہ نہیں تھا، جبکہ سچ یہ تھا کہ ان دونوں کو بھی معلوم نہیں تھا اور اسی لمحے، اسی محفل میں ان کو کاظمی صاحب کے جواب اور اس جونئیر وکیل کے پوچھنے سے آگاہی ہوئی۔

خلجی صاحب نے پھر سے اپنی بات کرنی چاہی، لیکن اب کی بار نیازی صاحب، لودھی صاحب کو مخاطب کر کے طنزاً بولے، آج کاظمی کچھ زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا ہے، جس پر ملک صاحب نے شرارت بھرے لہجے میں کہا، آج کاظمی نے سفاری سوٹ کی لاج بھی تو رکھنا ہے، جس پر کاظمی صاحب دھیمے مسکراہٹ کے ساتھ بولے ملک ( ملوک) سدھر جا، سدھر جا، تیسری بار بھی بولے لیکن ہنستے ہوئے اس میں ان کی کھانسی شریک ہوگئی اور ساتھ ساتھ دیگر اہل محفل بھی ان کی اس شگفتگی میں شامل ہوگٰئے۔

خلجی صاحب اب کی بار اپنی بات کہنے میں کامیاب ہوگئے اور کاظمی صاحب سے اخباری خبر شیئر کی، جس کا لب لباب یہ تھا کہ پشاور ہائی کورٹ نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ جنس تبدیل کرنے کی خواہاں لڑکی کو طبی معاونت فراہم کرے کہ اس حوالے سے اس کی سرجری ممکن ہے یا نہیں، جبکہ علاج سمیت تمام پہلوں سے متعلق رپورٹ تین ماہ میں عدالت میں پیش کی جائے اس موقع پر درخواست گزار وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار جینڈر ڈائسفوریا نامی بیماری سے متاثرہ ہے، جس کا علاج ایس۔آر۔ایس سرجری ہے۔ حکومت نے حال ہی میں ٹرانس جینڈر پروٹیکشن ایکٹ منظور کیا، جو ایسے افراد کو حق دیتا ہے کہ اگر انہیں جسمانی مسئلہ ہو تو وہ سرجری کر سکتے ہیں، جبکہ ڈاکٹر نے بھی اسے سرجری تجویز کی ہے، جس پر جسٹس صاحب نے کہا، آپ سرجن کے پاس جائیں! عدالت کیوں آئے ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ جنس تبدیل ہونے کے بعد اسے سی۔ این۔ آئی۔ سی میں نام تبدیل کرنے اور وراثت سمیت دیگر قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ ان کو طبی سہولت نہیں دی جارہی ہے اس بنا پر عدالت سے رجوع کیا، جس پر عدالت نے ہسپتال سے تین ماہ میں رپورٹ بھی مانگ لی، کہ آیا سرجری ممکن ہے یا نہیں اور اس حوالے سے کیس کے میڈیکو لیگل اور تیکنیکی پہلوؤں کو بھی دیکھنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

نیازی صاحب نے لودھی صاحب سے مسکراتے ہوئے کہا لودھی یہ خلجی آج دو کشتیوں میں چپو چلاتے ہوئے نظر نہیں آرہے؟ جس پر لودھی صاحب اداکارانہ سنجیدگی سے بولے، اگر خلجی کو ٹرانس جینڈر افراد کی لیگل ایڈوائزری ملی ہے، تو اس پر تو ہمیں بھی خوش ہونا چاہیے کہ ہمارے جگری یار کی مستقل ماہانہ انکم کا بندوبست ہوگیا ہے، جس پر خلجی صاحب نے جواباً بولا! لودھی کبھی تو سنجیدہ بھی ہوا کر یار، جس پر پنڈال میں بیٹھے ہوئے ینگ وکلاء ایک دوسرے کو دیکھ کر ہونٹوں ہونٹوں میں مسکرائے۔

کاظمی صاحب جو صوفے میں ٹیک لگائے ہوئے تھے سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور اپنی شرٹ جو پیٹ میں موٹاپے کی وجہ سے پھنسی ہوئی تھی کو دونوں ہاتھوں سے سیدھے کرتے ہوئے بولے خلجی نے درست خبر ہم سے شیئر کی ہے، بلکہ یہ قانون آن دی فیلڈ ہے اور یہ قانون دو ہزار اٹھارہ سے نافذ العمل ہے، اس کے ٹوٹل اکیس دفعات ہیں یہ پورے پاکستان پر محیط ہے اور دفعہ دو اور تین ٹرانس جینڈر کی شناخت کو واضح کرتا ہے۔ دفعہ چار اور پانچ اس کے خلاف امتیازی سلوک اور ہراساں کرنے کی روک تھام کرتی ہے۔ دفعہ چھہ اور سات ان کے حق میں اوبلیگیشن اور حق وراثت کی تشریح کرتی ہے۔ دفعات آٹھ، نو، دس، حق ایجوکیشن، حق ملازمت، اور حق رائے دیہی، دفعات گیارہ، تا سولہ بالترتیب حق افس، حق صحت، حق اسمبلی، عوامی مقامات تک دیگر شہریوں کی مانند رسائی کا حق، حق جائیداد، بنیادی حقوق کی پاسداری، اور سب سے اہم دفعہ سترہ ہے، کہ اگر کوئی ان کو ہراساں کرتا ہے یا بیگنگ پر آمادہ کرتا ہے یا دیگر تشریح شدہ حقوق سے ان کو محروم کرتا ہے، تو ان کو چھ مہینے کی سزا اور پچاس ہزار تک کا جرمانہ کیا جائے گا۔

کاظمی صاحب کی بات کے احتتام پر ملک صاحب نے نیازی صاحب سے کہا، لے ایک نہ شد دو شد جس پر ساتھ ساتھ دونوں ہاتھوں سے تالی بھی بجائی لیکن نیازی صاحب نے ملک صاحب سے بولے ملک (ملوک) یہ تم نے کاظمی کی بات کے اختتام پر تالیاں کیوں بجائی اور وہ بھی ڈھیلے کلائیوں کے ساتھ جس پر محفل میں ایک اجتماعی قہقہہ گونج اٹھا اور پنڈال میں جو سنجیدگی کی کیفیت تھی وہ یکایک زعفرانی ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *