مسئلہ داڑھی کا نہیں، اسمبلیوں کے اختیارات کی حدود کیا ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ نون کی رخسانہ کوثر صاحبہ نے داڑھیوں کے بارے میں ایک قرارداد پیش کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ چونکہ داڑھی سنت ہے، اس لئے داڑھیوں کے مختلف ڈیزائن بنانے پر پابندی لگائی جائے۔ اور ایسے اشخاص اور ایسے نائیوں کے خلاف کارروائی کی جائے جو اس کے مرتکب ہوں۔ 2018 میں ڈیرہ غازہ خان کی ڈسٹرکٹ کونسل نے اسی قسم کی قرارداد منظور کی تھی اور ہارون آباد اور بلوچستان کے ایک قصبہ کی مقامی انتظامیہ نے داڑھیوں کا ڈیزائن نہ بنانے کا حکم جاری کیا تھا۔

کیا پاکستان وہ واحد ملک ہے جس میں اس قسم کی پابندی عائد کی گئی ہے؟ تاجکستان کی حکومت کے نزدیک دہشت گردی سے نمٹنے کا مجرب نسخہ یہی ہے کہ زبردستی لوگوں کی داڑھیاں مونڈی جائیں۔ چنانچہ 2016 میں الجزیرہ نے خبر دی کہ تاجکستان پولیس نے سولہ ہزار افراد کی داڑھیاں مونڈ دی ہیں۔ اور اس کے ساتھ یہ خبر بھی آئی کہ داڑھی والے مردوں کو پاسپورٹ جاری نہیں کیے جا رہے۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری صاحب نے یہ ٹویٹ کی کہ ”یہ خاتون سپر مسلمان بننے کے شوق میں سب کو پیچھے چھوڑ گئی ہیں۔ کیسا کیسا ہیرا بیٹھا ہے ایوانوں میں۔ ۔ ۔“ ۔ یہ مسئلہ صرف اہل پنجاب کی داڑھیوں کا نہیں ہے۔ اس مسئلے کا تعلق بہت سی آئینی بحثوں سے ہے جو ایک عرصہ سے جاری ہیں۔

مثال کے طور پر اس مجوزہ قانون کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ داڑھی سنت نبوی ﷺ ہے۔ احادیث نبویہ ﷺ میں بالوں کی کنگھی، لباس، خوشبو، انگوٹھی، جوتوں اور موزوں کے بارے میں بھی سنت نبوی کی تفاصیل بیان کی گئی ہیں۔ اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کروڑوں افراد عقیدت اور محبت سے تفصیل سے ان کی پیروی کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اور صدیوں سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔ لیکن کیا مستقبل میں کوئی اسمبلی ان امور کے بارے میں بھی قانون سازی کر کے شہریوں کو ان قوانین کا پابند کر سکتی ہے؟

اگر ان سب امور کے بارے میں باقاعدہ قانون سازی کر کے سزا دینے کا عمل شروع کر دیا جائے تو کیا یہ شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت نہیں ہوگی؟ اور اگر داڑھی کے بارے میں قانون نافذ کر دیا جائے تو یہ فیصلہ کون کرے گا کہ کون سے داڑھی کا ڈیزائن بنایا گیا ہے اور کون سی داڑھی کا ڈیزائن نہیں بنا ہوا؟ کون سی داڑھی مناسب ہے اور کون سی مناسب نہیں لگ رہی۔ کیا پھر ڈیزائن والی داڑھی رکھنے والے احباب کو کوئی سزا بھی دی جائے گی۔ اگر داڑھی کا ڈیزائن بنانا جرم ہے تو پھر داڑھی منڈوانے کو جرم کیوں نہیں قرار دیا جا سکتا؟

اہل پنجاب نے پنجاب اسمبلی کو اس لئے نہیں منتخب کیا تھا کہ وہ ان کی داڑھیوں کو ٹھیک کرنے کا کام شروع کردے۔ اس اسمبلی کا یہ فرض تھا کہ وہ اہل پنجاب کی تعلیم، صحت، روزگار، صفائی اور رہائش جیسے مسائل کو حل کرے۔

اس قسم کی قراردادوں کے حق میں کچھ احباب یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اگر عوام کے منتخب نمائندے کوئی قانون بناتے ہیں تو یہ قانون جمہوری عمل کے نتیجے میں بنتا ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

اگر ہم کچھ دیر کے لئے داڑھی کے متعلق قرارداد کو بھول جائیں تو بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی بھی قانون ساز اسمبلی کا قانون سازی کا اختیار غیر محدود ہوتا ہے؟ یعنی وہ اکثریت سے جو چاہے قانون منظور کر لے یا اس اختیار کی کچھ حدود ہوتی ہیں۔ اس بارے میں دو آرا پائی جاتی ہیں۔ ایک طبقہ کہتا ہے کہ قانون ساز اسمبلی کوئی سا بھی قانون بنا سکتی ہے۔ اگر کوئی قانون غلط اور ظالمانہ ہے تو اسے اس اسمبلی کے ذریعہ ہی درست کیا جا سکتا ہے۔ عدالت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ کسی قانون کو ختم کرے۔

دوسرے گروہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ کسی بھی قانون ساز اسمبلی کا یہ اختیار لا محدود نہیں ہوتا ہے۔ ہر آئین نے اس کی کچھ حدود مقرر کی ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی اسمبلی یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ آج سے ملک میں جمہوریت ختم کی جاتی ہے اور اب سے فلاں صاحب بطور بادشاہ سلامت راج کریں گے۔ نہ ہی پارلیمنٹ کسی شخص یا گروہ کے بنیادی حقوق کو سلب یا کم کرنے کا قانون منظور کر سکتی ہے۔

پاکستان کے آئین کا دوسرا باب اس اعلان سے شروع ہوتا ہے کہ مملکت اس باب میں درج کردہ بنیادی حقوق کو سلب یا کم کرنے کا کوئی قانون نہیں بنا سکتی۔ اور اگر ایسا قانون بنالیا جائے تو یہ قانون کالعدم ہوگا۔ لیکن 1974 میں جب دوسری آئینی ترمیم کے لئے قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا تو اس میں اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار صاحب نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ قومی اسمبلی اور سینٹ اس بات کا اختیار رکھتی ہیں کہ دو تہائی اکثریت سے آئین میں ترمیم کر کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی شق کو یا بنیادی انسانی حقوق کی کسی بھی شق کو منسوخ کر سکتی ہیں۔ [کارروائی سپیشل کمیٹی 1974 ص 39 ]

اس کے بعد 2010 کو ایک مقدمے کی سماعت کے بعد پاکستان کی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا تھا کہ پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کرنے کا یا قانون سازی کا غیر محدود اختیار حاصل نہیں ہے۔ مثال کے طور پر بعض بنیادی انسانی حقوق ایسے ہیں جو کہ نا قابل تنسیخ ہیں۔ یعنی انہیں نہ سلب کیا جا سکتا ہے اور نہ کم کیا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ ان حقوق کو سلب کرنے کا قانون منظور نہیں کر سکتی۔ چنانچہ سپریم کورٹ اس بات اختیار رکھتی ہے کہ کسی بھی آئینی ترمیم کا جائزہ لے۔
[Const. P. No. 12 of 2010. P 865-867]

اسی طرح کے فیصلے بھارت اور بنگلہ دیش کی علیٰ عدالتیں بھی سنا چکی ہیں۔ پنجاب اسمبلی کی قرارداد کے بعد جو سوالات پیدا ہوئے ہیں ان کا تعلق ہر انسان کی نجی زندگی کی آزادی سے ہے۔ اگر پاکستان کے شہری اپنی نجی زندگیوں میں ان باتوں میں بھی آزاد نہیں تو پھر آزادی کا مطلب کیا ہے۔

آج اگر یہ قانون منظور کیا جاتا ہے کہ پنجاب کے شہری داڑھی کا ڈیزائن نہیں بنوا سکتے تو پھر یہ قانون بھی بن سکتا ہے کہ مرد یا خواتین ہیئر سٹائل نہیں بنا سکتے۔ کل کو یہ قرارداد پیش ہو سکتی ہے کہ مرد پبلک میں ٹوپی پہن کر آئیں۔ پھر یہ قانون بنانے میں کیا حرج ہے کہ مرد بعض مخصوص رنگوں کے کپڑے نہیں پہن سکتے۔ طالبان نے بھی داڑھی کے بارے میں بہت سے قوانین نافذ کیے تھے لیکن جب 2001 میں وہ کابل چھوڑ کر بھاگ رہے تھے تو اسی رات مردوں نے داڑھیاں منڈوا کر، سڑکوں پر رقص کرنا شروع کر دیا تھا۔ ایسی داڑھیاں رکھوانے کا فائدہ؟

ایران کی حکومت نے اس بارے میں ایک ”بہشتی زیور“ جاری بھی کیا تھا کہ کون کون سے ہیئر سٹائل بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ اسی طرح کئی مغربی حکومتوں کو یہ وہم ہو گیا ہے کہ مسلمان عورتوں کے حجاب کو اتارنا ان کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ ان حکومتوں کی دور کی نظر کمزور ہے۔ اس طرح یہ حکومتیں جو دروازہ کھول رہی ہیں اس کو بند کرنا ان کے بس میں بھی نہیں ہوگا۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ بہتر ہوگا کہ تمام اسمبلیاں اپنے فرائض پر توجہ مرکوز رکھیں۔ لوگوں کی نجی زندگی میں اس طرح کی مداخلت سے کوئی مثبت نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔ مناسب ہوگا اگر تمام سیاسی پارٹیاں اپنے ممبران کی کچھ قانونی اور پارلیمانی تربیت کریں کہ ان کے کام کی حدود کیا ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply