اسرائیل: نسل پرست ریاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین پر نوزائیدہ یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، تو انہوں نے کیا خوب کہا تھا، ”انہیں (یہودیوں کو) تو حضرت عیسٰی بھی، جب وہ زمین پر تھے، خوش نہ کر پائے تھے، پھر بھلا یہ توقع کیسے رکھی جائے کہ میں انہیں خوش رکھ پاؤں گا۔“

یہودی دو ہزار سے زائد برسوں تک، صبح بیدار ہوتے ہی دعا کی شکل میں خواہش کیا کرتے تھے کہ اگلا سال یروشلم میں گزرے، اور پھر جب وہ دھمکیوں، لالچ اور دہشت گردی سمیت تمام مکاریوں کو بروئے کار لا کر بالآخر 1948 میں عربوں کی سرزمین پر اسرائیل کا خنجر گاڑنے میں کامیاب ہوتے تو انہوں نے فلسطین کے باسیوں پر ان کی ہی زمین تنگ کرنا شروع کر دی تھی۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ یہ زمین خدا نے انہیں تفویض کی تھی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جب بنی اسرائیل کے لوگ مصر سے نکل کر یہاں وارد ہوئے تھے۔ اس سے پہلے بھی فلسطین کے اصل باسی یہیں رہتے تھے۔

1922 میں برطانیہ کی جانب سے کی گئی اس خطے کی مردم شماری کے مطابق، یہودی فلسطین کی آبادی کا محض 10 فیصد تھے، اس کے برعکس اسرائیل کے قیام سے صرف ایک برس پہلے کی گئی مردم شماری میں، ان علاقوں میں، جنہیں بعد میں اسرائیل کا نام دیا گیا تھا، یہودی آبادی کی نصف تعداد کے برابر ہو چکے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ دو عالمی جنگوں کا بہانہ کرکے دنیا بھر کے یہودی ہجرت کرکے ایک خاص مقصد کے تحت اس علاقے میں آ کر آباد ہو گئے تھے البتہ تب تک 93 فیصد زمین عربوں کی ہی ملکیت تھی۔ اسرائیل بنتے ہی یہودی کثرت سے نقل مکانی کرکے یہاں آ نے لگے۔ اکثریت اختیار کرتے ہی انہوں نے ہتھیاروں کے بل بوتے پر فلسطینیوں کو زبردستی نکال کر ان کی جائیداد پر ناجائز قبضہ کرنا شروع کر دیا تھا۔

ایک اندازے کے مطابق 1948 سے پہلے، بعد میں اسرائیل قرار دی جانے والی سرزمین پر 8 لاکھ عرب رہتے تھے لیکن 1948 میں عربوں کی تعداد کم ہو کر ایک لاکھ ستر ہزار نفوس رہ گئی تھی۔ 6 لاکھ تیس ہزار فلسطینی مجبور ہو کرہمسایہ عرب ممالک کو ہجرت کر گئے تھے۔ انہیں اس خطے میں اپنے کاموں سے روک دیا گیا تھا اور ان گھروں سے بے دخل کر دیا گیا تھا جہاں ان کے اجداد ہزارہا برسوں سے رہتے چلے ائے تھے۔ اسرائیل نے 1965، 1967 اور 1973 کی جنگوں کے طفیل اور 1982 میں لبنان پر چڑھائی کرکے اپنی سرحدوں کو وسیع کیا تھا۔

صیہونی اقلیت ایک طویل عرصے سے قائل تھی کہ اسرائیل کو نوآبادکاری اور قبضے کے ذریعے ہی وسیع اور مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ کٹر صیہونی رہنما ولادی میر جابوتنسکی نے 1923 میں اپنی کتاب ”دیوارآہن، ہم اور عرب“ میں لکھا تھا، ”صیہونی نوآبادکاری کو مقامی آبادی کی خواہشات کے خلاف ہی جاری رکھا جانا ہوگا۔ مقامی آبادی کی مزاحمت روکنے کی خاطر ایک آہنی دیوار کھڑی کر دینی ہوگی۔ عربوں کے ساتھ مفاہمت کا سوال ہی پیدا نہین ہوتا۔ بغیر ہتھیاربند قوت کے نوآبادکاری ناممکن ہے۔ عبرانی زبان بولنا اہم ہے مگر اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم عربوں کو گولی مارنے کے قابل ہوں“

خود کو بر تر سمجھنے کی روایات یہودیوں میں تب سے چلی آ رہی ہیں جب بنی اسرائیل مشرق وسطٰی میں ایک چھوٹا سا قبیلہ تھا۔ انہوں نے اپنی مذہبی وقائع نگاری کو ایسا رنگ دے دیا تھا جس سے یہ ثابت ہو کہ یہودی پروردگار کے ”منتخبہ لوگ“ ہیں اور دنیا پر حکومت کرنے کا حق بھی انہیں خدا نے ہی ودیعت کیا ہے۔ عہد نامہ قدیم میں درج ہے،

”۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور بادشاہ تم میں سے ہوں گے اور روئے زمین پر جہاں بھی انسان کے قدم پڑیں گے وہاں حکمران تم ہی ہوگے۔ میں تمہارے نطفے (سے پیدا ہونے والوں ) کو آسمان تلے کی ساری دھرتی بخش دوں گا، اور وہ تمام قوموں پر اس طرح حکومت کریں گے جس طرح وہ چاہیں گے، بالآخر تمام دھرتی ان کے قبضے میں آ جائے گی اور دھرتی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کی میراث بن جائے گی۔“

صیہونی دنیا پر حکومت کرنے کا محض خواب ہی نہیں دیکھتے بلکہ اپنی برتری کے تفاخر کو نقطہ انجام تک پہنچانے کی خاطر مسلسل کام بھی کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسرائیل میں رہنے والے یہودی النسل لوگوں کی ایک بڑی تعداد یعنی 80 فیصد غیر مذہبی ہے بلکہ اکثریت تو خدا کے وجود سے ہی انکاری ہے مگر یہ سب لوگ خود پر مسلط حددرجہ مذہبی ریاست کو جو صیہونی ثقافت اور صیہونی نسل پرستی کا پرچار کرتی ہے، بسروچشم قبول کرتے ہیں۔ ریاست بھی اپنی جانب سے چند جنونی مذہبی گروہوں سمیت دہریوں اور غیرمذہبی لوگوں بلکہ ایک نیم جادو پرست عقیدے یعنی ”کبالزم“ والوں کو بھی مکمل چھوٹ دیتی ہے اور کوشش کرتی ہے کہ قدامت پسند یہودی افراد اور ادارے ایسے لوگوں پر کم سے کم تنقید کریں۔ اس طرح یہودی نسل کو متحد رکھنے کا چارہ کیا گیا ہے۔ ان کے مقابلے میں عربوں کا متحد ہونا عبث ہے کیونکہ وہ مختلف ا لنسل ہیں، مختلف اقوام اور ممالک سے ہیں اور ان کے گروہی اور سیاسی مفادات بھی مختلف اور متصادم ہیں۔

جنگ عظیم اول اسرائیل کے قیام کے لیے سنگ بنیاد ثابت ہوئی تھی۔ برطانیہ پر کڑا وقت تھا۔ جنگ کے دوران یورپ میں یہودیوں کی ہمدردیاں بٹی ہوئی تھیں۔ کچھ یہودی کاروباری یا دیگر وجوہات کی بنا پر اتحادیوں کے حق میں تھے اور کچھ محض اس لیے جرمنوں کی طرفداری کرتے تھے کہ یہودیوں کے قدیمی دشمن روس کو زک پہنچے اور زار روس کی سلطنت ڈگمگا جائے۔ برطانیہ جرمنی کے ساتھ بے نتیجہ جنگ لڑے جا رہا تھا۔ اتحادی جانتے تھے کہ جیسے ہی روس کمزور ہوگا تو جرمنی کی افواج مشرقی محاذ سے واپس آ جائیں گی اور پھر مغربی محاذ پر جرمن فوج کی نفری دوگنا ہو جائے گی۔

اتحادی بالخصوص برطانیہ اپنی مدد کے لیے امریکہ کو اس جنگ میں گھسیٹنا چاہتا تھا۔ شدید بحران کا یہی وہ مرحلہ تھا جب لارڈ آرتھر بالفور نے قدم آگے بڑھایا تھا۔ وہ معروف یہودی مہاجن روتھ چائلڈ سے ملا تھا اور اس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا کہ برطانیہ فلسطین کی سرزمین پر یہودی ریاست کے قیام کی حمایت کرے گا لیکن اس کے بدلے یہودیوں کو اپنی پوری بین ا لاقوامی قوت اور اثر، امریکہ کو اس جنگ میں ملوث کرنے کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ لارڈ بالفور نے ”بالفور ڈیکلیریشن“ کے نام سے ایک دستاویز تیار کی تھی جس میں یہودیوں کی ریاست کے قیام کا مطا لبہ کیا گیا تھا۔

تب امریکہ کے صدر ووڈرو ولسن تھے جن کے مشیران اعلٰی میں سپریم کورٹ کا جسٹس لوئیس پرینڈس یہودی ا لنسل تھا۔ ربی سٹیفن وائز اور با اثر بینکار اور بین ا لاقوامی فنانسر برنارڈ باروچ بھی ان کے یہودی ا لنسل مشیر تھے۔ صدر ولسن کے صدارتی انتخاب جیتنے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ امریکہ کو جنگ سے علیحدہ رکھنے میں پیش پیش تھے لیکن جوں ہی بالفور ڈیکلیریشن سامنے آیا صدر ووڈرو ولسن نے جنگ میں مداخلت کرنے کی پالیسی اپنا لی تھی، ظاہر ہے اس فوری تبدیلی کا سبب یہودیوں کا با اثر ہونا تھا۔ جب مئی 1917 میں لارڈ بالفور امریکہ آیا تو امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ملنے سے انکار کے باوجود وہ اس شعبے کے کچھ مخصوص افراد سے ملا تھا۔ معروف ترین صیہونی شخصیت اور 1917 سے 1922 تک صیہونی تنظیم کے سیکرٹری رہنے والے سیموئل لانڈمان نے اپنی کتاب ”یہودی اور فلسطین“ میں لکھا تھا، :

”امریکی صدر کو جنگ پر اکسانے کا واحد طریقہ (جو بعد میں صحیح ثابت ہوا تھا) یہی تھا کہ صیہونی یہودیوں سے اسرائیل کی ریاست کے قیام کا وعدہ کرکے ان کا تعاون حاصل کیا جائے اور یوں امریکہ اور دوسرے ملکوں میں با اثر صیہونیوں کا اثر استعمال میں لایا جائے۔ ”

ذرائع ابلاغ نے امریکی شہریوں کو اس حقیقت سے بے خبر رکھنے کی حتی الوسع کوشش کی تھی کہ جنگ عظیم اول کے اواخر میں امریکہ کو جنگ میں گھسیٹنے میں یہودی اثرو نفوز کا کس قدر ہاتھ تھا، یہاں تک کہ 1999 تک دنیا کو یہ بھی معلوم نہیں ہونے دیا تھا کہ لارڈ بالفور دراصل ایک یہودی تھا جو برطانیہ کے مفادات کی نگہبانی کی آڑ میں خفیہ طور پر شدومد سے عالمی صیہونی تنطیم کے لیے کام کر رہا تھا۔

پہلی جنگ عظیم کے ختم ہوتے ہی صیہونی تنظیموں نے فلسطین کی سرزمین پر اپنی مملکت قائم کرنے کا منصوبہ بنا لیا تھا جس کے لیے زیادہ سے زیادہ یہودیوں کا اس سرزمین پر پہنچنا ضروری قرار پایا تھا تاکہ وہاں قابض برطانیہ کے خلاف ”دہشت گردانہ“ کارروائیاں کرکے اسے جلد از جلد آزاد اسرائیل کے قیام پر مجبور کر سکیں۔ اس جنگ عظیم کے بعد ایسی ہی ایک اور بڑی جنگ یہودی برادری کے مفاد میں تھی تاکہ قبضہ جمانے کے لیے یورپ سے زیادہ سے زیادہ یہودی سرزمین فلسطین پہنچیں۔

Golda Meir

جنگ عظیم دوم کے دوران ہی صیہونیوں نے یہودیوں کے مسائل حل کرنے کے لیے ”ورلڈ جیوئش کانگریس“ نام کی تنظیم تشکیل دے لی تھی۔ اس تنظیم کے ایک ذیلی انسٹی ٹیوٹ نے پہلے سے طے کر لیا تھا کہ جرمنوں کو شکست ہوگی اور وہ بعد میں یہودیوں کو معاوضہ بھی ادا کریں گے۔ پہلے وہ ان یہودیوں کو معاوضہ دیں گے جن کی املاک ان کے ہاتھوں تباہ ہوں گی اور پھر، جیسا کہ یہودیوں کو یقین تھا، ایک یہودی ریاست تشکیل پائے گی اور تب جرمنوں کو زندہ بچ جانے والے یہودیوں کو اسرائیل میں بسانے کے لیے مالی امداد فراہم کرنا ہوگی۔

یہ تصور جنگ شروع ہونے سے بہت پہلے امریکہ کے شہر بالٹی مور میں ہوئی ایک کانفرنس میں پیش کیا گیا تھا۔ جنگ کے بعد ایک تو اتحادی ممالک کے لوگ اپنی اپنی فوجوں کے جانی اور مالی نقصان کی وجہ سے جرمنوں کے شدید خلاف تھے، دوسرے یہودی ذرائع ابلاغ نے ہولوکاسٹ کا ہوا کھڑا کرنے کی خاطر من گھڑت ہولناک داستانوں کے منہ کھولے ہوئے تھے۔ یہودی دھڑادھڑ فلسطین پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ صیہونیوں کو فلسطین میں اسرائیل بسانے کی خاطر بے تحاشا معاشی، عسکری اور سیاسی امداد درکار تھی۔

انہوں نے ہولوکاسٹ کے غبارے میں خوب ہوا بھر کے دنیا بھر کی ہمدردیوں کا رخ اپنی جانب کر لیا اور اس طرح 1948 میں دنیا کے نقشے پر عالم عرب بلکہ کل عالم اسلام کے دل کے عین بیچ اسرائیل کا خنجر گاڑا گیا تھا، جس سے لہو ٹپکتا رہتا ہے اور اکثر اوقات زور شور سے بہایا بھی جاتا ہے۔ مظلوموں کے خون کا بہنا بند نہیں کیا جا سکتا کیونکہ صرف یہودی ہی دنیا بھر میں اور خاص طور پر اسرائیل میں نسل پرستانہ بنیاد پر متحد ہیں جب کہ ان کے مدمقابل صرف فلسطینی ہیں اور وہ بھی آپس میں بنٹے ہوئے۔ ان کے بظاہر حمایتی عرب ممالک، پاکستان، ترکی، انڈونیشیا اور دوسرے اہنی سرشت اور سیاست میں کون اور کیا ہیں؟ کیا یہ حقیقت کسی سے مخفی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply