خصوصی معاونین کے اثاثے اور خود ساختہ بشپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عوام کے بے حد اصرار اور آئینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر تقریباً دوسال کے بعد مشیروں اور خصوصی معاونین کی فوج ظفر موج کے اثاثوں کی تفصیلات کابینہ ڈویژن کی ویب سائٹ پر شائع کردی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ وزیروں کے اثاثہ جات کی الگ سے فہرست موجود ہے۔ آپ کو یقیناً یہ جان کر خوشی ہوگی کہ عمران خان نے وزیراعظم بننے سے پہلے جو وعدہ کیا تھا ان میں سے کم ازکم ایک وعدہ تو پورا کر دیا کیونکہ خصوصی معاونین اور مشیروں میں سے صر ف پانچ پاکستانی شہریت کے حامل ہیں باقی سب بیرونی ممالک سے پاکستان ملازمت کے لئے آئے ہیں۔

اور پھر یقین کریں ان کے اثاثوں کی تفصیلات جان کر اتنی خوشی ہوئی کہ ہم ”ایویں“ غربت کا رونا روتے رہتے ہیں۔ وفاقی کابینہ میں شامل افراد کے اثاثوں کی فہرست دیکھ امریکہ کے سابق نائب صدر جو بائیڈن کی حیثیت پر ترس آنے لگا جو اپنے بیٹے کے علاج کے لئے اپنا اکلوتا گھر گروی رکھنے جا رہا تھا کہ اس وقت کے صدر اوبامہ کو اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے بیٹے کے علاج کے لئے پیسے منتقل کرنا پڑے۔ اب میری وزیراعظم عمران خان سے دست بستہ اپیل ہوگی کہ وہ لگے ہاتھوں ان وزیروں، مشیروں او ر خصوصی معاونین کی اثاثہ جات کی تفصیل کے ساتھ ساتھ منی ٹریل بھی جاری کروا دیں تو مہربانی ہوگی کیونکہ کیا پتہ کل ان میں کوئی وزیراعظم بن جائے تو سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرح منی ٹریل پیش کرنے میں مشکل درپیش نہ آئے۔

ایک خبر کے مطابق حلقہ پی پی 83 کے پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی ملک غلام رسول سانگھا نے اپنے گھر سے چوری کی واردات کی ایف آئی آر میں جو تفصیلات دی ہیں بہتر ہوگا کہ تحقیقاتی ادارے اس ”مال“ کی منی ٹریل بھی حاصل کر لیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ اس بات سے اتفاق کریں کہ پارلیمان (صوبائی یا وفاقی، بشمول سینیٹ ) میں بیٹھے ممبران نے جواثاثہ جات کی جو تفصیلات جمع کروائی ہوتی ہیں ان میں بھی ہیرا پھیری موجود ہوتی ہے (مثلاگاڑیوں اور زمینوں کی قیمتیں کم ظاہر کرنا وغیرہ وغیرہ) اس کے باوجود ان کی تفصیلات پڑھتے ہوئے عام آدمی یقیناً یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ ہم بیرونی ممالک میں کیوں کشکول لے کر گھومتے رہتے ہیں۔

جناب والا۔ آپ ابھی سے سرپکڑ کر بیٹھ گئے ہیں ابھی تو آپ نے صرف یہ تفصیلات دیکھی ہیں اگر آپ کو ہمارے بڑے بڑے بزنس مین، ٹاپ بیورو کریٹس، افواج پاکستان کے اعلی افسران اور ہمیں صبروقناعت اور نیکی کا درس دینے والے مذہبی راہنماؤں کے اثاثہ جات کی تفصیل دیکھیں گے تو آ پ کے ہوش اڑ جائیں گے۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ یہ لوگ ملک کی کل آبادی میں چند خاندان ہیں جبکہ بقیہ لوگ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبورہیں۔

لیکن قربان جاؤں اس قوم پر جن کے بچے اور خود آلودہ پانی پیتے ہیں مگر جب بھی کوئی عوامی نمائندہ یا بڑا مذہبی لیڈر کبھی کبھار ان کے ہاں قدم رنجا فرماتا ہے تو عوام اسے سیل بند منرل واٹر پیش کرتے ہیں۔ اور یقیناً ایسے لوگوں کے ایسے ہی نمائندگان ہونے چاہیے۔ ان کوئی حق نہیں کہ غربت وافلاس کا رونا روئیں۔ آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ میں دو ٹکے کا رپورٹر کس حساب کتاب میں پڑ گیا ہوں۔ ویسے عام طور پر میں ایسے معاملات میں خواہ مخواہ کی بحث میں الجھنے سے گریز ہی کرتا ہوں۔

اب آپ سے کیا پردہ گزشتہ دنوں میرے ایک کالم سے ناراض ہوکر پشاور کے خود ساختہ بشپ ہمفری سرفراز پیٹر نے ہتک عزت کا جو دعوی کیا اس کے صفر گنتے ہوئے رات گزر گئی۔ اس دن سے میں سوچ رہا ہوں کہ اگر موصوف اتنے خوددار ہیں کہ میرے ایک کالم پر دعوی دائر کر دیا۔ مجھے ان کے عزت دار ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا بشرطیہ کہ وہ یہ واضح کردیں کہ وہ کون سے ”مراحل“ طے کرکے ”از خود نوٹس کے تحت“ بشپ کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں اور انہوں نے دوسروں کو مذہبی تعلیم دینے کی ڈگریاں کہاں سے اور کب حاصل کی ہیں؟ کیونکہ جہاں تک ہماری عقل کام کرتی ہے پاکستان سمیت پوری دنیا میں بشپ کے عہدے تک پہنچنے کے لیے آپ کو قواعد وضوابط کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے جمہوری دور حکومت میں جہاں عوامی نمائندوں کو اپنے اثاثہ جات کی تفصیل پیش کرنا لازم ہوتا ہے وہیں کیا مذہبی راہنماؤں کے لیے کو قانون میں کوئی شق موجود ہے اگر نہیں تو کیا اس پر کوئی قانون سازی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ منبر پر کھڑے ہوئے عوام کو نیکی، پرہیزگاری اور ہدیہ دینے کا درس دینے والے یہ حضرات خود اس تعلیم پر کتنا عمل کرتے ہیں۔

وطن عزیز میں مین اسٹریم چرچز کے دعویدار مذہبی راہنما خود کو ماورائے آئین کیوں سمجھتے ہیں؟ کیونکہ یہ لوگ خود کو اعلی اور اسٹیک ہولڈر قرار دیتے ہوئے پینٹی کاسٹل چرچ کے بشپ حضرات کو ”ڈائریکٹ حوالدار“ کا لقب دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ خیبر پختونخوا سے پی ٹی آئی کے اقلیتی رکن قومی اسمبلی جمشید تھامس نے ایوان میں پوائنٹ آف آرڈر پر یہ نقطہ اٹھایا کہ مذہبی حلقوں کو بیرون ملک سے آنے والی امداد پر طے کردہ قواعد وضوابط میں چھوٹ دی جائے۔

موصوف نے یہ موقف اختیار کیا کہ بیرونی ممالک سے آنے والی امداد سے بہت سے خیراتی ادارے چلتے ہیں اور غریبوں کے زخموں پر مرہم رکھا جاتا ہے۔ میں اگر جمشید تھامس صاحب کی اس بات سے اتفاق کر لوں تو ساتھ ہی ساتھ یہ بھی درخواست کرونگا کہ کسی دن ایوان میں یہ نقطہ بھی پیش کردیں کہ انہی مذہبی راہنماؤں کو اس بات کا بھی پابند کیاجائے کہ بیرون اور اندرون ملک سے حاصل ہونے والے فنڈز کا حساب کتاب بھی دیا جائے۔ بڑی مہربانی ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply