کیا تبدیلی کا بیانیہ پٹ گیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روٹی، کپڑا اور مکان پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ طاقتور بیانیہ تھا جس نے انتخابات کے دوران مغربی پاکستان میں موجود ہر سیاسی بت کو منہ کے بل گرا دیا۔ قیام پاکستان سے لے کر 1970 تک کی مدت میں ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ کسی انتخابی مہم میں واضح طور پر عوام کی بنیادی ضروریات اور ان کے حقوق کی بات کی گئی۔ اور اس نعرے کا بھرپور فائدہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے اٹھایا اور طاقتور سیاسی حریفوں کو شکست سے دوچار کرتے ہوئے شاندار کامیابی سمیٹٰی۔ پاکستان کی سیاست میں یہ پہلا موقع تھا جب دائیں بازو کے مقابلے میں بائیں بازو کے سیاسی نظریات نے پذیرائی حاصل کی تھی۔ روٹی، کپڑا اور مکان کے بیانیے نے قوم کو سحر میں لے لیا۔ اس کے بعد پاکستان میں کل وقتی یا جز وقتی بیانیہ ہی پاکستان کی سیاست کا محور رہا ہے۔

انڈیا کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں میاں نواز شریف نے بھی تمام تر مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پہلی بار ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو ایٹمی ممالک کی فہرست میں شامل کرا دیا۔ مگر اس بار جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی اور جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ جنرل مشرف نے اپنے عہد میں سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگایا۔ سب سے پہلے پاکستان کے بیانیے کی حمایت یا مخالفت سے قطع نظر جب تک جنرل مشرف برسراقتدار رہے ریاست کا یہی بیانیہ رہا۔

2007 کی انتخابی مہم کے دوران محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ محترمہ کے بعد بلاول بھٹو زرداری کو پیپلزپارٹٰی کا چیئرمین نامزد کیا گیا تو اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ وہ اپنی والدہ کے اس قول پر یقین رکھتے ہیں کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے اور پاکستان پیپلزپارٹی کے اس بیانیہ کو جمہوری قوتوں نے سراہا۔

2013 کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن نے کامیابی حاصل کی اور میاں نواز شریف تیسری بار ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ میاں نواز شریف کی بڑھتی ہوئی سیاسی قوت شاید اقتدار دینے والوں کو پسند نہیں آئی۔ ن لیگ کے دور حکومت کے دوسرے سال ہی سے اپوزیشن کی جماعت کی طرف سے تبدیلی کا بیانیہ تشکیل دیا گیا۔ کرپشن کے خلاف جنگ اور کرپٹ عناصر سے لوٹی گئی قومی دولت کی واپسی اور پرانے پاکستان سے نئے پاکستان کی تبدیلی کے بیانیے کا دن رات پرچار کیا گیا۔

تحریک انصاف کے بیانئے کو مقبول عام بنانے کے لیے ہر ممکن جتن کیے گئے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپوزیشن کے دور میں ریاست کے ہر اس عمل کو غلط کہا جو بطور وزیراعظم وہ خود کرنے پر مجبور ہیں۔ تبدیلی کے نام پر عوامی توقعات کا ایک ہمالیہ کھڑا کیا گیا۔ عوامی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے زمینی حقائق کے برعکس انتخابی وعدے کیے گئے۔ عوام سے ہر وہ وعدہ کیا گیا جس کو پورا کرنا کسی طور ممکن نہیں تھا۔

میاں نواز شریف وزارت عظمی سے معزول ہوئے اور بالآخر جیل چلے گئے۔ تاہم انہوں نے تمام تر حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ جاری کیا۔ اس بیانئے سے ان کی مراد بلاشبہ سویلین بالادستی کی تھی۔ میاں نواز شریف کے اس بیانیے کو بھی عوامی پذیرائی حاصل ہونا شروع ہوگئی۔ سنجیدہ سیاسی حلقے اس بیانیے پر چونکے مگر ان میں سے اکثریت کی رائے یہ تھی کہ شاید میاں نواز شریف اس بیانیے کا بوجھ نا اٹھا سکیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ بیانیہ کسی فکری تسلسل کا نقطہ عروج نہیں تھا بلکہ یہ بیانیہ ایک ردعمل کی صورت میں سامنے آیا تھا۔

تاہم اس کو عوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی اور وقتی طور پر لوگوں کو اطمینان ہوا کہ چلو کسی نے تو سویلین بالادستی کی بات کی ہے۔ میاں نواز شریف لندن سے واپس آئے اور لاہور ائرپورٹ پر گرفتار کر لیے گئے ان کے بھائی میاں شہبازشریف لاہور شہر سے ائرپورٹ تک نا جا سکے اور ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ میاں نواز شریف کے ساتھ ہی پابند سلاسل ہوگیا۔ کوئی شک نہیں کہ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ اپنے معنوی اعتبار سے اس قدر بھاری تھا کہ سوائے میاں نواز شریف کے کوئی بھی اس بیانیے کا بوجھ نا اٹھا سکا۔

تبدیلی کے بیانیے کا پرچار کرنے والوں کے لیے میاں نواز شریف اور ان کے بیانیے کی خاموشی وقتی طور پر اطمینان کا باعث ثابت ہوئی۔ وقتی طور پر اس لیے کہ ان کا اپنا تبدیلی کا بیانیہ پٹ گیا۔ عوامی توقعات کا ہمالیہ زمین بوس ہونے لگا۔ بلند بانگ دعوے ریت کی دیوار ثابت ہوئے جو کچھ اپوزیشن کے دور میں کنٹینر پر تقریر کرتے ہوئے کہا گیا ہراس بات سے یو ٹرن لینا پڑا۔ تبدیلی کے نام کتنا جھوٹ بولا جا سکتا ہے اور کب تک جھوٹ بولا جا سکتا ہے اور کوئی تبدیلی کے نام پر کب تک کسی مصلحت کے تحت جھوٹ کو برداشت کرئے نتیجہ یہ نکلا یہ دو سال کے دوران تبدیلی سرکار کے پاؤں اکھڑ چکے ہیں۔

اس وقت سیاست کی بساط پر تبدیلی سرکار ہر چال بری چل رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے ردعمل شاید اتنا سخت نا ہو جتنا تبدیلی سے نالاں عوام کا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اقتدار کی مسند پر بیٹھنے والوں اور بٹھانے والوں کو دو سال بعد ہی احساس ہو گیا ہے کہ بقیہ مدت شاید گزارنا مشکل ہو۔ بقیہ مدت جیسی بھی گزرے یہ طے ہے کہ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ مجھے باہر جانے دو میں بدل گیا جبکہ تبدیلی کا بیانیہ اپنے انجام کی طرف رواں دواں ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام اب مزید کسی نئے بیانیے کو قبول کرئے گی کسی نئے سراب کے پیچھے بھاگیں گے۔ اگر پاکستانی سیاست کے بیانیے اسی طرح فلاپ ہوتے رہے تو پھر یہاں کا سیاسی منظر نامہ کیا ہوگا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ محض سیاسی بیانیہ ہی نہیں بلکہ سیاسی نظام ہی فلاپ ہوگیا ہے اور کسی نئے نظام کی طرف جانے کی تیاری ہو۔ ہو سکتا ہے کہ تبدیلی کا بیانیہ حکومت کی نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی سے متعلق ہو۔ اگر ایسا ہے تو کیا نیا ممکنہ سیاسی نظام جمہور کے فیصلے کے تحت تشکیل دیا جائے گا یا پھر 2018 کے انتخابی نتائج کی طرح “صاف اور شفاف” طریقے سے تشکیل دیا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *