غریب مہنگائی کے بوجھ سے مر جائے گا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس مملکت خدا داد میں طے ہو چکا ہے کہ یہاں عوام ہمیشہ غریب رہیں گے اور خواص کے حصے میں امارت آئے گی۔ عوام کی خواہش ہی رہی کہ کاش ہم جیسا غریب بھی اقتدار میں آئے، برسوں غریب کا نعرا سب نے لگایا، مگرکسی غریب کو حاکم نہیں بنایا ہے۔ اس ملک پر حکمرانی کاحق صرف موروثی اشرافیہ کو دے دیا گیا ہے، یہ سب اشرافیہ عوام کے خلاف اکٹھے اور ان کا مقصد عوام کو بے وقوف بنانا ہے۔ یہ سب کروڑ پتی، بلکہ ارب پتی ہیں، مگر ان کی تان ہمیشہ غریبوں کی بری حالت پر ٹوٹتی ہے، یہ سب بظاہر غریبوں کے غم میں ہلکان نظر آتے ہیں، لیکن اندر سے غریبوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔

غریب انہیں کندھوں پر بٹھا کر ایوان اقتدار میں لے کر آتا ہے، مگر اقتدارکے کلب میں کسی غریب کا کوئی عمل دخل ہی نہیں ہے، کیو نکہ بر سراقتدار آنے کے لیے غریب کا صرف کندھا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ چند فیصد اشرافیہ کبھی عوام کو امیر نہیں ہونے دے گی، یہ غریب کے نام پر اربوں روپے لوٹے گی، مگرایک دوسرے کا کبھی احتساب نہیں کرے گی، البتہ احتساب کے نام پر غریب عوام کو بے وقوف ضرور بناتی رہے گی۔

تحریک انصاف حکومت بھی احتساب اور تبدیلی کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے، مگر احتسابی عمل پر سوالیہ نشان اورغریب کی زندگی میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی ہے۔ حکومت ایک کے بعد ایک بحران کے ساتھ سر سے پاؤں تک مسائل میں گھری ہوئی ہے جو بقول ان کے زیادہ تر ورثے میں ملے ہوئے ہیں، لیکن بعض اہم مسائل اسی دورکی پیداوار ہیں۔ مثلاً آٹا، گندم، چینی وغیرہ کی غیرمعمولی مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل بنادیا ہے، تاجر برادری کی ہٹ دھرمی کا حال دیکھیں کہ اس خود ساختہ مہنگائی کو منصفانہ قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ حکومت تماشائی بنی ہوئی ہے۔

اگرچہ حکومت کے پاس مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے پرائس کنٹرول کمیشن کے نام سے ہزاروں افراد پر مشتمل ایک بڑا سیٹ اپ موجود ہے اور حکومت سختی سے سیٹ اپ کے ذریعے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سیٹ اپ سر سے لے کر پیر تک کرپٹ زدہ ہے، اس کا بخوبی علم حکومت کو ہے، لیکن نہ جانے کیوں حکومت اس بیماری سے نجات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہی ہے۔

یہ امرواضح ہے کہ مہنگائی سے ہر آدمی پریشان ہے اور اس سے ہر قیمت پر نجات چاہتا ہے۔ حکومت تاجر برادری کو غیر معمولی مراعات دے رہی ہے جس کے جواب میں تاجر برادری عوام کی کھال اتارنے میں مصروف ہے۔ یہ ایک اوپن سیکرٹ ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ تاجروں کی ناک میں نکیل نہیں ڈالی جارہی ہے۔ تاجر برادری کتنا ہی منظم اور طاقتور کیوں نہ ہو، لیکن حکومت کی طاقت کے سامنے کوئی برادری عوامی مفادات کے خلاف سر نہیں اٹھا سکتی، پھر کیا وجہ ہے کہ حکومت نے تاجر برادری کو عوام کو لوٹنے کا کھلا لائسنس دے دیا ہے، شاید ایک دوسر ے سے وابستہ مفادات قانونی چارہ جوئی میں بڑی روکاوٹ ہیں۔ اس تنا ظر میں مہنگائی سے متاثر عوام فطری طور پر حکومت سے نالاں ہیں جو اپوزیشن کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں، اس مسئلے پر اپوزیشن عوام کو متحرک کر سکتی ہے، لیکن اپوزیشن کی کارکردگی نے عوام کو اس قدر بدظن کر دیا ہے کہ وہ ان کی کال پر سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

یہ سچ ہے کہ عوام سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں، لیکن اس عوامی روئیے کے باعث حکومت اپنی ذمے داریوں سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ حکومت دوسال گزرنے کے بعد بھی نئے پاکستان کی رٹ لگائے ہوئے ہے، عوام سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سر سے گزر جانے والی مہنگائی، بے روز گاری کا نئے پاکستان سے کوئی تعلق بنتا ہے؟ حکومت ابھی تک عوامی

مسائل کے حل کے لیے کسی قسم کی ترجیحات کا تعین ہی نہیں کر پارہی ہے، اگر کہیں اس حوالے سے کچھ کیا بھی جا رہا ہے تو وہ ادھورا کیا جا رہا ہے۔ اس ملک میں سب سے پہلے سرکاری اداروں کے ساتھ بوسیدہ نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے، جب تک سسٹم تبدیل نہیں ہو گا نہ میں کرپشن کا خاتمہ ہو گا اور نہ ہی حکومت مہنگائی سمیت دیگر عوامی مسائل پر قابو پا سکے گی، موجودہ حکومت سسٹم کی خا میوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بدلنے کی دعوئیدار ہے، مگر عملی طور پرمکمل بے بس نظر آتی ہے۔

در اصل حکومت اور اپوزیشن کی تر جیحات میں عوام کے مسائل کے تدارک کی بجائے حصول اقتدار کی رسہ کشی میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانا رہ گیا ہے۔ پا رلیمان کے ا جلاس میں حزب اقتدار کے ارکان اور وزراء کی جانب سے حکومتی کارکردگی اور عوامی فلاح کے لیے اقدامات اور پالیسیاں پیش کرنے کے بجائے اپوزیشن پر زور دار تنقید کرتے نظر آتے ہیں، اپوزیشن ارکان بھی حکومت کی خوب خبر لینے میں کوئی کوتاہی نہیں کر رہے ہیں، اس طرح تمام پارلیمانی اجلاس ملکی نظام میں موجود خرابیاں دور کرنے، ملکی ترقی کے لیے پالیسیاں تشکیل دینے اور عوام کو بڑھتی مہنگائی سے نجات دلانے کی بجائے الزامات در الزامات کی گونج میں اختتام پذیر ہورہے ہیں۔ پار لیمان عوام کے مسائل کے تدارک کے حوالے سے موثر فورم ہے، مگرسیاسی قائدین نے عوامی فورم کا استعمال اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لیے کرنا شروع کر دیا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ وزیراعظم کا ویژن ایک خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی تشکیل ہے، لیکن حکو مت کے ترقیاتی منصوبے نظام کی خرابی کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو رہے۔ وزیراعظم بھی سسٹم درست کرنے کی بجائے خرابیوں کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں، جبکہ اس وقت مرکز میں تحریک انصاف حکومت تمام تر اختیارات کے ساتھ موجود ہے، پنجاب، خیبرپختونخوا میں انہیں کی حکومت اورصدر بھی اپنا منتخب کردہ ہے۔ اس سب کے باوجود نظام کی خرابیوں کا اپنی جگہ موجود رہنا اور ان کے حل کے لیے کوئی پالیسی تشکیل نہ دینے کا الزام تحریک انصاف حکومت پر ہی عائد ہوتا ہے۔ حکو مت کو اپنی کو تاہیاں دوسروں پر ڈالنے کی روش چھوڑ کر اپنی ذمہ داریوں سے عہدا برا ہو نا پڑے گا، نظام کی خرابیوں کا شکوہ کرنے کی بجائے انہیں درست کرنے کی جانب توجہ دینی ہو گی، ورنہ غریب مہنگائی کے بوجھ کے نیچے بھوک سے مر جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply