ریشیاں سے لیپہ سیکٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم اتوار شام کھوڑیاں گاؤں پہنچے جوباغ سے دو گھنٹے کی مسافت پہ تھا۔ اگر ہم باغ سے ہی صبح لیپہ روانہ ہوتے تو ہم ایک دن میں لیپہ سے واپس نہیں آ سکتے تھے۔ لہذا ہمارے دوست شرافت حسین نے ہمیں مشورہ دیا کہ ہم رات کھوڑیاں (آبائی گاؤں ) قیام کریں اور سفر لمباہونے کے باعث صبح سویرے ہی لیپہ کے لیے روانہ ہو جائیں تاکہ ایک ہی دن میں ہم واپس بھی پہنچ سکیں۔ کھوڑیا ں سے لیپہ کا سفر اگرچہ صرف چالیس سے پینتالیس منٹ کا ہے مگر کوئی سڑک یا راستہ نہ ہونے کی وجہ سے ریشیاں سے جیب کے ذریعے انتہائی برے راستوں سے لیپہ جانا پڑتا ہے اور یہ سفر جو چالیس منٹ کا ہے، تین سے چار گھنٹوں میں طے کرنا پڑتا ہے۔

اگر یہاں چکار، ریشیاں یا کھوڑیاں سے ٹنل بنا دیا جائے تو یہ سفر آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں طے کیا جا سکتا ہے مگر افسوس یہاں کی حکومت بھی کشمیری عوام کے ساتھ ہمیشہ سیاست کرتی رہی۔ کہا جاتا ہے کہ میاں نواز شریف نے دو دفعہ یہ ٹنل اپنے دور حکومت میں بھی منظور کروایا مگر ہمیشہ کی طرح یہ منصوبہ التوا کا شکار ہوتا رہا۔ آج کشمیری عوام یا سیاحوں کے لیے یہ سفر ایک اذیت ناک کہانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جیب جو ریشیاں سے لیپہ کا (آنے جانے کا) دس ہزار روپے مانگتی ہے، نارمل کرایہ پانچ سو ہے اور ایک گھنٹے کا سفر کئی گھنٹوں میں کرنا پڑتا ہے۔ مجھے شدید حیرانی ہوئی کہ لیپہ، تلہ واڑی اور غائی پوری کے لوگ یہ سفر کیسے کرتے ہوں گے؟ جب کوئی وہاں بیمار ہو یا برف باری کے موسم میں ج ب یہ راستے بند ہوتے ہیں تو وہ لوگ کیسے پیدل سفر کرتے ہیں؟ کیا ہر دفعہ انہیں اسی اذیت سے گزرنا پڑتا ہوگا؟

ہم صبح نو بجے ریشیاں پہنچے جہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ کرونا کے باعث لیپہ جانے والی جیپیں بالکل بند پڑی ہیں۔ اگر کوئی جیپ جاتی بھی ہے تو وہ کئی گھنٹے تو بس اسٹینڈ پر انتظار کرتی ہے گاڑی بھر جائے تو نکلیں، اسی چکر میں کئی گھنٹے ریشیاں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ میں نے اپنے میزبانوں (شرافت اور رمیض) کو مشورہ دیا کہ ہم سپیشل گاڑی کروا لیتے ہیں تاکہ بر وقت واپسی بھی ہو سکے اور یوں ایک جیپ والے نے ہمیں لاہوری سیاح مان کے خصوصی ڈسکاؤنٹ کی اور ہم جیپ سے لیپہ کے لیے نکلے تو ریشیاں کی پہلی چیک پوسٹ پہ ہی ہمیں پولیس گردی کا سامنا کرنا پڑا۔

باغ والے دوستوں کو تو زیادہ تنگ نہ کیا گیا مگر مجھے مہمان سمجھ کر این او سی کی ڈیمانڈ کی گئی۔ میرے میزبان نے ان سے کہا کہ ”جناب جو بورڈ سامنے چسپاں ہے ’اس پر تو جلی حروف میں لکھا ہے کہ کشمیر اور پاکستانی عوام کے لیے این او سی لازمی نہیں“ ، جس پر وہ پولیس کانسٹیبل سیخ پا ہو گیا اور انتہائی غصے میں بولا ”تسی بدمعاشی کرن آئے او“ ۔ میں گاڑی سے اترا اور اس سپاہی (جس کا نام قاضی نثار تھا‘ جو چناری تھانے میں ملازم تھا اور بنیادی تعلق قاضی آباد سے تھا) سے دست بستہ گزارش کی کہ جناب یہ کوئی بدمعاشی نہیں ’اگر این او سی لازمی ہے تو آپ بورڈ ہٹا دیں تاکہ لوگ غلط فہمی کا شکا ر نہ ہوں اور دوسرا میں نے اسے تفصیل بھی بتائی کہ ہم وہاں ایک دوست کی والدہ کی وفات پر جا رہے ہیں مگر پولیس کی ہٹ دھرمی اور انا سے کون واقف نہیں‘ اس نے ضد کی اور ہمیں چیک پوسٹ سے واپس مڑنے کا کہا۔

میں نے وہاں موجود فوجی (جس کا نام سفیر تھا) سے بھی گزارش کی کہ اگرچہ آپ کی بات درست ہے مگر ایمرجنسی میں این او سی ممکن نہیں اور ہمارا جانا بھی ضروری ہے سو جانے دیا جائے جس پر اس نے بھی ڈیوٹی کا خوب فائدہ اٹھایا اور ہمیں روک دیا اور کہاں کہ ڈی سی او، اے سی، ایس پی یا ڈی پی او کی کال کروا دیں تو جانے دیں گے۔ ہم نے کچھ دوستوں کو کالز بھی کیں مگر کئی سرکاری افسران سو رہے تھے کیونکہ کشمیر میں 13 جولائی شہدائے کشمیر کی سرکاری چھٹی ہوتی ہے سو ڈی سی او سمیت کئی سرکاری افسران کو کالز کیں مگر زیادہ تر کالز رسیو نہ ہوئیں اور کچھ دوستوں نے رسیو کیں جنہوں نے چوکی پر رابطہ بھی کیا۔ یوں ریشیاں چوکی پر موجود حوالدار قاضی ضمیر کے تعاون اور کچھ سرکاری دوستوں کی کالزسے ہمیں چوکی کراس کرنے کی اجازت مل گئی اور ہم لیپہ کی جانب روانہ ہوئے۔

میرا دوست شرافت ذرا جذباتی آدمی ہے ’وہ بار بار پولیس والے سے ایک ہی بات کرتا کہ ”ہم سب کالجز، یونیورسٹیز کے استاد ہیں، پولیس کے سپاہیوں کو مہذب شہریوں سے بات کرنے کی تھوڑی سی تمیز تو ہونی چاہیے“ ۔ میں مسکرا کر اسے سمجھا رہا تھا کہ جس دن پولیس ملازمین کو شرم آ نا شروع ہو جائے گی، سمجھ جانا تبدیلی آ گئی ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ ہم اٹھارہویں سکیل کے استاد کو تو عزت نہیں دیتے مگر نویں سکیل کے پولیس کانسٹیبل کو اہمیت دے لیتے ہیں کیونکہ ان کے پاس وردی کی پاور ہے۔

کیا یہ سسٹم صرف ان لوگوں کے لیے ہے جن کے پاس کوئی سرکاری سیٹ یا پاور ہے؟ کیا یہ قوم اپنے استاد کو کسی بھی طرح کی عزت نہیں دینا چاہتی؟ کیا یہ قوم ایک مہذب شہری کو ”کاٹ کھانا“ چاہتی ہے؟ مجھے چوکی پر موجود پولیس کانسٹیبل اور حوالدار کا رویہ دیکھ کر پختہ یقین ہو گیا کہ واقعی پولیس گردی کبھی ختم نہیں ہو گی اور عمران خان تو کیا، یہاں اس سے بھی کوئی بڑا آدمی آ جائے، پولیس کو تبدیل کرنا ناممکن ہے کیونکہ پچھلے ستر سال پولیس کو صرف یہی سکھایا گیا کہ ”آ پ کے پاس پاور ہے‘ لہٰذاآپ کسی بھی مہذب شہری، کسی بھی استاد اور کسی بھی عورت کو گالی دے سکتے ہیں ’اس کی سر عام بے عزتی کر سکتے ہیں اور ان کی عزت کی دھجیاں اڑا سکتے ہیں کیونکہ آپ کی ڈیوٹی قوم کا تحفظ ہے لہٰذا ایسے ہی تحفظ جاری رکھیں“ ۔

یہی وجہ ہے کہ آپ کسی پولیس والے سے بات کر لیں، نوے فیصد بات کا آغاز ہی گالی اور غصے سے کرتے ہیں۔ میرے کچھ سرکاری اور میڈیا کے دوستوں کو اس واقعے کی خبر ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ہم چناری تھانے کے ایس ایچ او سے رابطہ کرتے ہیں‘ سارا واقعہ اس کے نوٹس میں لاتے ہیں مگر میں نے انکار کر دیا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ایسا کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ ایس ایچ او (جس کا نام ساجد بتایا جا رہا ہے ) زیادہ بھی کرے گا تو اس کانسٹیبل کا ٹرانسفر کر دے گا مگر مسئلہ ٹرانسفر کرنے یا اسے ذلیل کرنے سے حل نہیں ہو سکتا، مسئلہ پولیس کی تربیت کا ہے جو شاید اب ممکن نہیں لگتی۔

میں آج اس کالم کے توسط سے اپنے تمام پروفیسرز، اساتذہ اور مہذب شہریوں سے گزارش کروں گا کہ آپ کتنے ہی عزت دار اور مہذب کیوں نہ ہوں، پولیس گردی میں سرنڈر کر دیں کیونکہ یہ کسی بھی وقت آپ کی عزت اتار سکتے ہیں لہٰذا جہاں کہیں کسی سپاہی سے سامنا ہو، خاموشی اختیار کریں، اپنی عزت بچائیں اور گھر کی راہ لیں کیونکہ آپ چاہیے عالم دین ہیں یا انیسویں سکیل کے استاد، آپ کو نویں سکیل کے پولیس کانسٹیبل، ایس ایچ او کے کلرک اور ڈی پی او کے چوکیدار کا احترام آپ پر لازم ہے لہٰذا ان کی گالیاں بھی پھول سمجھ کر قبول کریں کیونکہ اس ملک میں بہتر زندگی گزارنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply