پتہ نہیں ایک ڈرامہ ہے بس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس نے ساری دنیا کے طول و غرض میں تباہی مچادی ہے۔ اس تباہی نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک طرف انسانیت کے بچاؤ کے لئے ڈاکٹروں، نرسوں اور دوسرے شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ جو دن رات کام کر رہے ہیں۔ اپنی زندگیاں داؤ پرلگائے ہوئے ہیں۔ ہر ملک میں ہزاروں کے تعداد میں میں زندگیاں گنوا بیٹھے ہیں لیکن ان لوگوں کے زندگی کا مقصد انسانیت کا بچانا ہے۔ بہت سے لوگوں نے کرونا وائرس کے مریضوں کی مالی مدد کی۔ کسی نے دکان کا کرایہ معاف کیا تو کسی نے دوا کا بل ادا کیا۔ یہ امداد مذہب، رنگ اور نسل کو بالائے طاق رکھ کر ہو رہا ہے۔ میرے خیال میں انسانی تاریخ میں یہ واحد ایک ایسا موقع ہے جس نے سارے انسانوں کو ایک صف میں کھڑا کیا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔ ایک تعاون کی فضا پیدا ہوئی ہے۔ جس سے بین الاقوامی سطح پر ایک بدلاو آ سکتاہے۔

یہ انسانیت کا ایک رخ ہے جس سے دنیا میں امن اور محبت کی ایک کرن نظر آ رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف کچھ انسان جو اس معاشرے کاحصہ ہے اور موجودہ حالات میں فرعون سے زیادہ ظالم بن گئے ہے۔ ان لوگوں کا ایمان اور سب کچھ پیسہ ہے۔ ان کے نظرمیں انسان کی کوئی اہمیت نہیں۔ وہ پیسے کو جمع کرنے کے لئے انسان کی زندگی سے کھیلتے ہے۔ یہ لوگ آخر کتنا کمانا چاہتے ہے۔ اس دولت کے انبار پر کیا کریں گے۔ اگر خدا تعالی نے اس دنیا کو ایک جھٹکا دیا تو سب کچھ ملیامٹ ہو جائے گا۔ دولت رہے گا نہ بنگلہ صرف خاک رہے گی۔ پھر ہم اس مال اور دولت کا کیا کریں گے۔

آپ کے اردگرد ایسے ہزاروں وحشی صفت انسان رہ رہے ہیں جس کا اٹھنا بیٹھنا پیسہ ہوتا ہے۔ کل میرے ساتھ بھی اسی طرح کا ایک واقعہ ہوا۔ میرے بائیں ہاتھ کی درمیان والی انگلی زخمی ہوئی تھی جس کو پلاسٹک سرجری کی ضرورت تھی۔ ہمارے ایک پہچاننے والے نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے پلاسٹک سرجری ڈیپارٹمنٹ کا ایک پروفیسر کا پتہ دیا جو کہ ڈبگری گارڈن میں شام کو بیٹھتے ہے۔ شام پانچ بجے ڈاکٹر صاحب کلینک آگئے۔ خوش قسمتی سے میرا پہلا نمبر تھا۔

میں دل میں بہت خوش تھا کہ پروفیسر صاحب سیئنر ڈاکٹر ہے بس تھوڑے وقت میں مسئلہ حل ہو جائے گا۔ لیکن میں غلط تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اس کی سرجری پر پینسٹھ ہزار روپے خرچ آئے گا۔ قسم سے دماغ ہل گیا۔ میں تو سمجھ رہا تھا ایک دو ہزار میں مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ڈاکٹر صاحب کو ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم مشورہ کرتے ہیں۔ باہر آکرمیں نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ میں آپریشن کسی سرکاری ہسپتال میں کرانا چاہتا ہوں۔

یار وہاں سے میں پھر خیبر ٹیچنگ ہسپتال گیا۔ وہاں پر ایک لیبارٹری اٹنڈنٹ جو میرے جاننے والا ہے کو اپنا مدعا بیان کیا۔ انھوں نے اپنے وارڈ کے ڈاکٹر سے بات کی۔ ڈاکٹر صاحب نے میرا چیک آپ کیا اور ادھے گنٹھے بعد آپریشن شروع کیا۔ آپریشن ختم ہوئی تومیں حیران ہوا کیونکہ اس آپریشن پر دو ہزار روپے خرچ آیا۔ آپ دیکھے کہ پینسٹھ ہزار اور دو ہزار۔

ایسے مریض بھی ہوسکتے ہیں جن کے لئے یہ دو ہزار روپے ادا کرنا بھی قیامت ہو تو وہ کیا کریں گے۔

ایک طرف مریض زندگی اور موت کے کشمکش میں ہے اور دوسرے طرف یہ حضرات پیسے کمانے کے تگ و دو میں لگے رہتے ہے۔ کہاں ہیں ہماری اقدار، کہاں گیا ہمارا مذہب۔ کہاں گئی انسانیت۔ پتہ نہیں ایک ڈرامہ ہے بس۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply