بہادر خاتون نے فیس بک کے ذریعے ڈاکو پکڑوا دیئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن ایکسٹنشن ایم بلاک میں رہنے والی صبا بانو کورونا وائرس کا شبہ ہونے کی وجہ سے مکان کی اوپر والی منزل کے ایک کمرے میں خود کو قرنطینہ کیے ہوئے تھی کہ 6 جون ہفتے کی شب آٹھ بج کر 40 منٹ پر ان کے گھر میں دو ڈاکو گھس آئے۔ اس وقت مکان کی نچلی منزل پر صبا کی بہن، ان کے بچے اور والد تھے، جو کھانا کھانے کی تیاری کر رہے تھے۔ صبا اپنے کمرے میں بیٹھی ہیڈ فونز لگا کر فلم دیکھ رہی تھی کہ اسے محسوس ہوا کہ جیسے کسی کے چیخنے کی آواز آ رہی ہے۔

پہلے توصبا نے دھیان نہ دیا مگر آواز اتنی اونچی اور جانی پہچانی لگی کہ صبا نے ہیڈ فونز اتارکر چیخوں کی آواز پر غور کیا تو اسے پتہ چلا کہ یہ تو اس کی بہن چیخ رہی تھی۔ وہ جلدی سے کمرے سے باہر نکلی اور سیڑھیوں کی طرف بھاگی، سیڑھیوں سے نیچے دیکھا توچونک گئی۔ دو نامعلوم افراد اس کے ابو کو گھسیٹ کر لے جا رہے تھے، اس کے ابو ان سے کہہ رہے تھے کہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، آپ کو جو لے جانا ہے وہ لے جائیں۔ ’صبا فوراً سمجھ گئی کہ گھر میں چور ڈاکو گھس آئے ہیں۔

اس اچانک اور خطرناک صورتحال میں کوئی بھی خاتون اپنے اوسان کھوسکتی ہے لیکن صبا نے اپنے اندر ہمت پیدا کی اور فوراً الٹے قدموں اپنے کمرے میں لوٹی اور کمرے کا دروازہ بند کر کے اس کے آگے صوفہ رکھ دیا۔ اسے اندازہ تھا کہ ڈاکو اوپر ضرور آئیں گے اس لئے وہ کسی نہ کسی کو اطلاع کرنا چاہتی تھی۔ صبا سوچنے لگی کہ کیا کروں، ڈر کے مارے وہ کانپ رہی تھی۔ صبا کے ذہن میں کچھ نہیں آ رہا تھا، اسے ایسا لگا جیسے اس کا ذہن بالکل خالی ہو۔ اس کے پاس حفاظت کے لئے کوئی ہتھیاربھی نہیں تھا۔

آخر اسے خیال آیا کہ اس صورتحال کے متعلق فیس بک پر سٹیٹس لگا دیتی ہوں، کوئی تو پڑھے گا اور مدد مل سکے گی۔ صبا نے فوراً فیس بک پر اپنا سٹیٹس ڈالا کہ (Robbers at my home) میرے گھر میں ڈاکو گھس آئے ہیں ”خوف سے صبا کے ہاتھ اتنے کانپ رہے تھے کہ اس سے زیادہ وہ ٹائپ ہی نہ کر سکی۔ کچھ لمحے سوچنے کے بعد اس نے دوسرا سٹیٹس ڈالتے ہوئے اپنے گھر کا پتہ درج کیا تاکہ مدد کرنے والے کو اس کے گھر کا پتہ معلوم ہو سکے۔ فیس بک پر ڈاکوؤں کی اطلاع اور مدد کا سٹیٹس پوسٹ ہوتے ہی اسے کمینٹس آنا شروع ہو گئے۔ صبا کی ایک دوست نے اسی وقت اس کو کال کی اور مشورہ دیا کہ وہ فورا، 15 پر پولیس کو کال کرے۔ سہیلی کے مشورے پر صبا نے فوراً 15 پرکال کی اور سارا معاملہ پولیس کو بتایا۔ پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے صبا کے گھر کی طرف روانہ ہوئی۔

ادھر صبا کا بھائی جو کہیں اور رہائش پذیر تھا اس نے بھی صبا کا ا سٹیٹس پڑھ کر وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہیلپ لائن پر کال کردی جبکہ صبا کی ایک اور دوست جو صوبائی حکومت سے منسلک ہے، نے بھی اپنے ذرائع کو متحرک کر دیا۔ اب صبا کو بے صبری سے پولیس کا انتظار تھا، پولیس صبا کا گھر ڈھونڈ رہی تھی اور صبا کو کال کر کے گھر کی ڈائریکشن سمجھنے میں مدد لینے لگی۔ اسی دوران صبا کے کمرے کے دروازے کو ڈاکوؤں نے باہر سے کھولنے کی کوشش کی، دروازہ لاک سمجھ کر وہ واپس نیچے چلے گئے۔

صبا کے گھر والوں نے بھی یہ ظاہر نہ کیا کہ اوپر کوئی ہے۔ ڈاکو کبھی صبا کی بہن کو دھمکی دیتے کہ وہ اپنا زیور ان کے حوالے کر دے نہیں تو نقصان پہنچائیں گے اور کبھی صبا کے ابو کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ ڈاکو یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اوپر صبا کمرے میں موجود ہے اور پولیس سے رابطے میں ہے۔ صبا کو کچھ ہمت ہوئی تو اس نے فیس بک پر لائیو بھی چلا دیا اور فون ایسی جگہ رکھ دیا کہ کسی کو نظر نہ آئے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اگر کوئی کمرے میں آ بھی جاتا ہے تو کم ازکم فیس بک پر لوگ یہ دیکھ اور سن پائیں گے کہ اس کے گھر میں کیا ہو رہا ہے۔

فیس بک لائیو چلانے سے صبا کو یہ فائدہ ہوا کہ پولیس کو اس کی ایگزیکٹ لوکیشن آسانی سے مل گئی۔ بالاخر پولیس پہنچ گئی اورصبا کے گھر کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا۔ ڈاکو گھر کی چھت پر چڑھے تاکہ وہاں سے بھاگ سکیں لیکن اردگرد کی چھتوں پر بھی پولیس ان کو پکڑنے کے لئے کھڑی تھی، اب ڈاکوؤں کے لیے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا، اپنے بچاؤ کے لئے ڈاکوؤں نے فائرنگ بھی کی مگر پھر پولیس نے مقابلہ کر کے انہیں گرفتار کر لیا۔ اس طرح ایک بہادر خاتون نے ایک سنگین صورتحال میں حاضر دماغی سے فیس بک استعمال کرکے اپنی اور اپنے گھر والوں کی جان بچالی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply