آئیے! ”ایکس ون“ سے ملتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چھے سو سے زائد عمران سیریز کے ناول اور بچوں کے لئے پانچ ہزار سے زائد چھوٹی کہانیاں لکھ کر ناول نگاری کی دنیا میں افسانوی شہرت رکھنے والے نامور ادیب، صحافی، کالم نگار، ممتاز براڈ کاسٹر اور معروف قانون دان، ہم سب کے محبوب و مقبول مصنف جناب مظہر کلیم (ایم اے ) کی 22 جولائی کو 78 ویں سالگرہ منائی گئی۔

وہ بھی کیسے عجیب دن تھے۔ ہم گرمیوں کی طویل نہ ختم ہونے والی شاموں میں اپنے نصاب کی کتابوں کے علاوہ دنیا جہاں کی کتابیں پڑھا کرتے تھے۔ ان کتابوں میں مظہر کلیم (ایم اے ) کے عمران سیریز کے ناول بھی تھے۔ مظہر کلیم صاحب ہر مہینے ایک تازہ ناول لکھتے جس کے انتظار میں ان کے چاہنے والے دیدہ و دل فرش راہ کیے ہوتے۔

ہمارے بچپن اور لڑکپن میں مظہر کلیم صاحب کے ناولوں کا حصول ہماری زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہوا کرتا تھا۔ بعض اوقات کسی ناول کا ایک حصہ تو ہمارے پاس موجود ہوتا تو دوسرے حصے کا حصول ہی مقصد حیات بن جاتا۔ اس سلسلے میں اوچ شریف میں ہسپتال روڈ پر ملت صاحب کی لائبریری، درگاہ محبوب سبحانی کے قریب واقع خورشید صاحب کی ”عمران دی گریٹ لائبریری“ ، گرلز ہائی سکول کے ساتھ ماسٹر عبدالواحد صدیقی صاحب کی جاسوسی لائبریری کی خاک چھاننے اور پانچ روپے فی کرایہ پر عمران سیریز کے ناولوں کے حصول میں سرگرداں رہنے میں جو نشہ تھا اس کی کیفیت آج بھی دل کو گدگداتی ہے، حتیٰ کہ ہم نے بورڈنگ سکول کے قریب اپنے والد گرامی نسیم صاحب سے منسوب عمران سیریز کے ناولوں کی ایک لائبریری ہی قائم کر لی۔

پاک گیٹ ملتان کے مقام پر واقع ”یوسف برادرز“ کے شو روم میں مظہر کلیم صاحب روزانہ سرشام اپنی موٹر سائیکل پر تشریف لاتے اور وہیں براجمان ہو کر بچوں کا ادب تخلیق کیا کرتے تھے۔ ان سے ہماری پہلی اور آخری ملاقات بھی اسی مقام پر ہوئی تھی۔ مصافحہ کے دوران ان کے گداز ہاتھوں کا لمس ابھی تک روح میں ہمکتا ہے۔ ان کو ناول لکھتے دیکھ کر ہمیں ایک عجیب سا سکون محسوس ہوا تھا۔ ہماری آٹو گراف ڈائری میں ان کا آٹو گراف بیت جانے والے اسی خوبصورت لمحوں کی بازآفرینی ہے۔ یقیناً نسل نو میں کتب بینی اور کتب دوستی کو فروغ دینے میں مظہر کلیم صاحب کا بہت بڑا کردار ہے۔

مظہر کلیم صاحب ہمارے سرائیکی وسیب کے ایک ایسے لیجنڈ تھے جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر ادب کی دنیا میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ آپ عالمی شہرت یافتہ شخصیت اور اپنی ذات میں مکمل ادارہ تھے، پوری دنیا میں اپنے کمال فن سے نہ صرف اپنے خطے بلکہ اپنے ملک کا نام روشن کرنے والے اس عظیم تخلیق کار نے گزشتہ پانچ دہائیوں سے ایک زمانے کو اپنے سحر میں مبتلا رکھا، ان کی ہر تخلیق جذب و اسرار کا مجسمہ ہے جس کی ہر سطر میں منطق، مشاہدہ، تحقیق، تفتیش، تجسس و دیگر ذائقے ملتے ہیں جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں، جاسوی ناول نگاری میں ان کا منفرد اسلوب ایک ایسی ابدی شہرت کا باعث بنا جس کی ابتدا بھی وہ خود رہے اور انتہا بھی۔

22 جولائی 1942 ء کو ملتان کے ایک پولیس افسر حامد یار خان کے ہاں پیدا ہونے والے مظہر کلیم صاحب جب تک زندہ رہے بھرپور زندگی جئے، ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی سکول دولت گیٹ سے حاصل کی، 1957 ء میں یہاں سے میٹرک کیا اور اس کے ایک سال بعد تک اسی سکول میں پڑھاتے رہے، بعدازاں ایمرسن کالج ملتان سے ایف اے اور بی اے کیا، اس دوران ملتان میں پنجاب یونیورسٹی کا کیمپس شروع ہوا تو اس کے پہلے ہی سیشن میں ایم اے اردو کیا، ایم اے اردو کے بعد مختلف انشورنس کمپنیوں میں کام کرتے رہے۔

1965 ء میں مظہر کلیم صاحب کی زندگی میں دو اہم موڑ آئے، ایک تو اسی سال ان کی شادی برصغیر کے معروف شاعر اور صحافی اسد ملتانی کی صاحبزادی سے ہوئی، دوسرا یہ کہ انہوں نے اپنے ایک پبلشر دوست بی اے جمال کی فرمائش پر اپنی زندگی کا پہلا جاسوسی ناول ”ماکازونگا“ لکھا، ان کے پہلے ناول نے جہاں مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے وہیں مستقبل میں جاسوسی ادب کے ایک بڑے ادیب کی راہ بھی ہموار کر گیا۔

1973 ء میں آپ بطور زرعی فیچر رائٹر ریڈیو پاکستان ملتان سے وابستہ ہوئے، سرائیکی وسیب کے مقبول ترین ثقافتی ریڈیو پروگرام ”جمہور دی آواز“ کے لئے سرائیکی ڈرامے اور فیچرز لکھے، ان میں ایک ڈرامہ ”ادھی رات دا سجھ“ بہت مقبول ہوا جو بعد میں ریڈیو بہاول پور سے بھی نشر ہوا، ”اتم کھیتی“ سے کمپیئرنگ کا آغاز کیا، کئی عشروں تک ”جمہور دی آواز“ میں کمپیئرنگ کے فرائض سرانجام دیتے رہے، وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے کیے جانے والے ایک سروے میں بطور براڈکاسٹر ان کی آواز کو ریڈیو ملتان کی سب سے پسندیدہ آواز قرار دیا گیا۔

1976 ء میں ملتان کے موقر روزنامہ ”آفتاب“ میں نیوز ایڈیٹر اور بعدازاں میگزین ایڈیٹر کے طور پر صحافت کا شعبہ اپنایا، ”آفتاب“ میں ان کالم ”تماشا میرے آگے“ مسلسل تین سال شائع ہوتا رہا، تحقیقی فیچرز، کالم، ایڈیٹوریل، سماجی موضوعات پر مضامین غرض ہر کام میں ہاتھ ڈالا، 1978 ء میں وکالت کے شعبے میں باقاعدگی سے قدم رکھا اور آخر دم تک اس شعبے سے وابستہ رہے۔

مظہر کلیم صاحب عمران سیریز تحریر کرنے میں ابن صفی کے معاصر رہے ہیں تاہم اس میں مزید توسیع اور نئے کرداروں کو متعارف کروایا۔ ان کے تخلیق کردہ کرداروں کی جامعیت اور ہمہ جہتی ہمارے لئے بڑی متاثر کن ہوا کرتی تھی۔ بلکہ ہماری ہم عصر نسل کی شخصیت سازی میں ان کے کرداروں کا کلیدی کردار ہے۔ علی عمران، ٹارزن، ہرکولیس، آنگلو بانگلو، چلوسک ملوسک، چھن چھنگلو اور عمرو عیار کے کرداروں پر مشتمل کہانیاں ہمارے تخیل کی سنہری دنیا کو آباد رکھتی تھیں۔

یوں تو عمران سیریز صفدر شاہین، مشتاق قریشی، ایم اے راحت، ایچ اقبال وغیرہ بھی لکھ رہے تھے مگر جو مقبولیت مظہر کلیم صاحب کے ناولز کو حاصل ہوئی اس کا عشر عشیر بھی معاصرین کوحاصل نہ ہو سکا۔ عمران سیریز ابن صفی کی تخلیق ہے مگر اسے بام عروج پہ پہنچانے کا سہرا آپ کے سر ہے۔ آپ نے اپنے ناولز میں جدید سائنسی اصطلاحات کا استعمال کیا آپ کے ناولز میں مستقبل کی ایجادات کی جھلک ملتی تھی، جو آپ ویژن اور ان کے علم کو ظاہر کرتی تھی۔

مظہر کلیم صاحب نے ابن صفی کے انتقال کے بعد تقریباً 40 سال تک باقاعدگی سے عمران سیریز کو جاری رکھا، ساتھ ساتھ انہوں نے اس سیریز میں نئے کردار بھی متعارف کروائے۔ انہوں نے اس میں کئی کرداروں کا اضافہ کیا جیسے ٹائیگر جو عمران سے مشابہ حیرت انگیز صلاحیتوں کا مالک تھا علی عمران کے بعد بلٹس سے بچنے کا ”سنگ آرٹ“ ٹائیگر کو ہی آتا تھا، سنگ آرٹ ایک ملک کی سیکرٹ سروس کے ایک کردار ”سنگ ہی“ کی ایجاد تھا۔ نیگرو جوزف کے مقابل جوانا کا کردار تراشا جو آگے چل کر بے پناہ مقبول ہوا۔ سپاٹ چہرے والا کیپٹن شکیل جو ہاتھوں کے ناخن سے رسیاں کاٹنے سمیت کئی کام لیتا تھا اور مارشل آرٹ کا ماہر تھا۔ علی عمران ایم ایس، سی ڈی ایس سی (آکسن) کے بعد کیپٹن شکیل عمران سیریز میں ہمارا پسندیدہ کردار تھا۔

26 مئی 2018 ء کو آسمان ادب کا یہ درخشاں ستارہ تین نسلوں پر محیط اپنے لاکھوں قارئین کو سوگوار کر کے دور کہیں افق میں ڈوب گیا۔ ان کی وفات پر ہمیں ایسا محسوس ہوا تھا کہ جیسے ہمارے بچپن کا ایک دروازہ بند ہو گیا۔ ایک عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی مظہر کلیم صاحب کے لکھے ہوئے ناولز ذہن سے محو نہیں ہوئے۔ گاہے گاہے جب ہمارا دل کھوئے ہوؤں کی جستجو میں مچلتا ہے اور دوبارہ اسی ”فینٹسی“ کی دنیا میں پہنچنے کو بے قرار ہوتا ہے تو ہم اپنی لائبریری میں سے عمران سیریز کا ناول اٹھا کر پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *