قلم کی آپ بیتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا تصور کئی ہزار سال پرانا ہے، انسان میری اہمیت و اہلیت کا ہمیشہ سے معترف رہا ہے۔ اگر میں اپنی فلسفیانہ تعریف کرنا چاہوں تو یہ کہنا بے جا نا ہوگا کہ میں آلہ کار ہوں، صفات کا عکس دکھانے والا آئینہ ہوں، اچھے کہ ہاتھ میں اچھا برے کے ہاتھ میں برا ہوں۔

میں نے ہر روپ دیکھا ہے اور ہر شخصیت کا مظہر بنا ہوں، یہ صفات میرے ساتھ ہی منسوب ہیں کہ میں کہیں قاضی تو کہیں قاتل، کہیں بے حیائی تو کہیں دین متیں کی آواز بنا ہوں، دراصل میں بھی ایک انسان کی ماند بلکہ اسی کا ایک روپ ہوں، برائی مجھے برا بنا دیتی ہے تو اچھائی مجھے اچھا۔

دو چیزوں سے بہت گہرا تعلق رہتا ہے، ہاتھ کے حکم پے چلتا ہوں اور سیاہی پر حکم چلاتا ہوں جیسے انسانی فطرت ہو، کسی اعلی کا بس چلے تو وہ تم سے اختیارات چھین لے، اور تمہارا بس چلے تو اپنے سے ادنہ پر مختار ہو جاؤ۔

بعینہ عصر حاضر میں میرے معیارات تبدیل ہو چکے ہیں۔ میری لکھائی اور پائیداری کو بعد میں پرکھا جاتا ہے پہلے میرے حسن کا بول بالا ہوتا ہے بلکہ اکثر اوقات تو اسی بنیاد پہ ہی مجھے خریدا جاتا ہے۔

اگر میں سپر مارکیٹ کے قیمتی سٹور پر دستیاب ہوں گا تو اشرافیہ کی نگاہوں کا مرکز بن جاؤں گا، اونچی عمارتیں، فرنگی تعلیم، اے سی ہیٹرڈ رہائش گاہیں وغیرہ میرا مستقبل ہے اور اگر کسی پسماندہ گاؤں کی گلی کے نکڑ پہ موجود ٹھیلے پہ میرا وجود ہو تو میرے نصیب میں چٹائی پہ بیٹھا متوسط گھرانے کا کامی، شیدا، فخرو یا منا ہی ہوگا۔

پیدائش سے اب تک ہر دور میں عروج و زوال کا شاہد ہوں، اگر مشرقی تاریخ میں قرآن، تفاسیر، احادیث وفقہ جیسے علوم تصنیف کرنے کی سعادت حاصل کی تو مغرب میں : دی ریپبلک، ہیملٹ، رومیو جولیٹ اور ایلیڈ، اوڈیسی جیسے شاہکار میرے مرہون منت ہیں۔

بادشاہوں کو شاہ بنانے والا، ان کی سلطنت گرانے والا، تہذیبوں کو بدلنے والا، تاریخ رقم کرنے والا بلکہ مبالغہ آرائی نہ کی جائے تو اس حد تک کہنا جائز ہے کہ دنیا جس ہستی کے دم قدم سے پروان چڑھی ہے وہ میں ہوں۔

ہر عروج کو زوال ہے، ہر شے فانی ہے، دنیا، اس میں رہنے والے، ان کی تہذیب و ثقافت، جیسا کہ مغربی تہذیب کو ڈارک ایج کا سامنا کرنا پڑا، سلطنت عثمانیہ کے بھی ٹکڑے ہوئے، مغلیہ بادشاہت نے بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ سپر پاور کی گنتی شروع ہو چکی ہے یا نہیں مجھے علم نہیں، مگر مجھے اتنا علم ہے کہ آج میں زوال پذیر ہوں۔

میرا استعمال، میری وقعت و اہمیت سب ایک افسانہ بنتا جا رہا ہے، پہلے کسی دور میں مجھے ماتھے کا جھومر بنا دیا جاتا تھا، آج چند روز کے استعمال کے بعد میں ڈسٹ بن میں ملتا ہوں۔

بلکہ اب تو انتہا ہو چکی ہے کہ میرا استعمال کرنے کے بجائے، ٹائپنگ کو ترجیح دی جاتئی ہے، وائس ٹائپنگ تک ایجاد ہو چکے ہیں، مجھے 21 ویں صدی سوتیلے والدین کی طرح خود سے جدا کر رہی ہے، میں اپنی آخرت کے متعلق سوچنے پر مجبور ہو چکا ہوں، شاید میری یہ آپ سے آخری چند ملاقاتیں ہوں تو ایک عظیم تاریخی نسبت کی لاج رکھتے ہوئے اے بنی نوع انسان! میں کوچ کرنے سے پہلے ایک وصیت کرنا چاہتا ہوں، یہ وہ سبق ہے جو میں نے ہزاروں سال اعلی زندگی گزارنے سے سیکھا ہے، دیکھو! اپنا انجام یاد رکھو، بلندیوں کو چھوتے چھوتے زمیں کو نہ بھلا دینا جس نے تمہیں چلنا سکھایا۔

یاد رکھو! ہر عروج کو زوال ہے، ہر صبح کی شام ہے اور ہر زندگی کی موت اٹل ہے۔ اپنے آغاز و اختتام سے ناتا جوڑ رکھو چاہے اس کی کوئی بھی صورت ہو، اگر میں نے اپنی تخلیق اور انجام کی خبر لی ہوتی تو مجھے کبھی ماضی نہ بنایا جاتا، اگر مشین سے میرے مراسم مضبوط ہوتے تو ضرور کہیں کونے کھدرے میں مجھے سانس لینے کو جگہ ملی رہتی، لہذا یاد رکھنا بطور انسان تمہاری ابتداء تمہارے والدین ہیں اور انجام تمہاری اولاد۔

بطور مسلمان تمہاری ابتداء ”الست بربکم؟“ اور انجام ”من ربک؟“ ہے۔
بطور پاکستانی وطن کی مٹی سے محبت آغاز اور وطن کی ترقی میں اپنا حصہ شامل کر جانا، اختتام ہے۔
انہیں یاد رکھو، ان سے اچھے مراسم رکھو اور امر ہو جاو، آج اسی کا نام زندہ ہے جس نے وفا کی ہے۔

مجھے دیکھو مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا بلکہ آج مجھے افسوس صرف اس بات کا ہے کہ میں اپنی آپ بیتی بھی ٹائپ کر کے سنانے پر مجبور ہوں۔ واسلام

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *