غیر عمرانی معاہدہ اور انسانوں کے مصائب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سترہویں صدی کا عمرانی معاہدہ بستر مرگ پر آخری سانسیں لے رہا ہے۔ اس معاہد ے کی جڑیں عمرانی نظریے میں پائی جاتی ہیں۔ اس نظریے کے خالق تھامس ہابس، جان لاک اور روسو نے جب دنیا کو ایک نئی روشنی دکھائی تو ریاست اور شہریوں کے درمیان حدو و قیود کا تعین ہوا۔ نظریات عموماً اپنے خالق سے لمبی عمر پاتے ہیں۔ لیکن ہمیشہ تنقید تحقیق کی زد میں رہتے ہیں۔ خاص طور پر معاشرتی نظریات وقت کے ساتھ اپنی افادیت اور اہمیت کھو بیٹھتے ہیں۔ عمرانی نظریے کی بنیاد پر استوارعمرانی معاہدہ بھی کم وبیش اسی طرح کی سنگینی کا سامنا کر رہا ہے۔

عمرانی معاہد ے کے مطا بق قومی ریاست اور شہری ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ شہری اپنی کچھ شخصی آزادیاں قربان کرتے ہیں جس کے بدلے میں ریاست انھیں جان، مال اور عزت کا تحفظ دینے کے ساتھ ان کی بنیادی ضروریات کا بھی خیال رکھنے کی پابند ہے۔ لیکن پچھلی کئی دہائیوں سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ریاست اپنی وجود بھی رکھتی ہے یا یہ صرف ایک سراب ہے۔

قومی ریاست کے بنیادی اجزا ء میں سب سے بڑا عنصر خود مختاری ہے۔ صرف خود مختار ریاست ہی اپنے شہریوں سے عمرنی معاہدہ کرنے کی اہل ہو سکتی اور اس پر عملدرآمد بھی کر سکتی ہے۔ بیسویں صدی میں اٹھنے والی عالمگیریت نے خود مختاری کے وجود پر کاری ضرب لگائی۔ آج کل بین الاقوامی مالیاتی اداروں اورعظیم الجثہ کارپوریشنز کی وجہ سے ریاستوں کے ستون لرزہ براندام ہیں۔ ان سب اندرونی اور بیرونی عناصر نے مل کر ریاست معنی اور مفہوم بدل دیے ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام کے برکات کے طفیل پیداورا کے ذرا ئع اور سرمایہ چند افراد اورگوشت پوست کا وجود نہ رکھنے والی کارپوریشنز کے ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گیا ہے۔ نتیجتاً امریکہ اور یورپ کے طاقتور ممالک بھی ان کے ہاتھوں بے بس ہیں۔ معاشی اور سیاسی اثرو رسوخ کی بدولت ان عناصر نے ریاستوں کی فیصلہ سازی کی قوت سلب کر لی ہے۔ مثلاً ان کی بھرپور کوشش ہے کہ ریاست کو شہریوں کی تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔ اس کی جگہ پرائیویٹ تعلیم اور صحت کا نظام وضع کرنا چاہیے۔ یہ درا صل ان دو بنیادی اداروں پر حملہ نہیں ہے بلکہ پورے معاشرے پر حملہ ہے۔ دنیا آج کل انھی نیو لبرل پالیسیوں کی زد میں ہے۔

یہ پالیسی دراصل دنیاکو امیروں کے لئے جنت بنانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے اورمقامی اشرافیہ کا مکمل گٹھ جوڑ ہے۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں تعلیمی بجٹ میں کمی، ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی انھیں پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ ریاستیں اب نجی سرمایہ رکھنے والی کارپوریشنز کی غلام بنتی جا رہی ہیں۔ قومی حکومتیں اب برائے نام کی رہ گئی ہے اور عوام کے لیے ایک اجنبی کی سی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔

ایسا صرف دنیا کے کمزور ملکوں میں نہیں ہو رہا بلکہ امریکہ جیسا طاقتور معاشرہ بھی بری طرح اس کا شکار ہے۔ نوم چومسکی کے بقول آج سے ستر سال پہلے امریکہ اتنا زیاہ امیر ملک نہیں تھا لیکن تعلیم پر زیادہ خرچ کرتا تھا جبکہ آج کل تعلیم پر زیادہ تر کارپوریٹ سیکٹر کا قبضہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس طبقے کی کوشش ہے کہ تعلیم کو پرائیویٹ کر دیا جائے اور معیاری تعلیم کو عام لوگوں کی پہنچ سے دورہو۔ ان بڑی کارپوریشنز کے حقوق عام لوگوں کے حقوق سے زیادہ ہیں اور جب انھیں کوئی مسئلہ درپیش ہو توریاست ان کے تحفظ کے لیے آگے آتی ہے۔ جب یہ معاشی دباؤ کا شکار وہوں تو لابنگ کرکے حکومتوں سے بیل آؤٹ پیکج لے آتی ہیں۔

دنیا کا سب سے پہلا کارپوریٹ سیکینڈل 1693 ء میں سامنے آیا جب بدنام زمانہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے مفاد میں قانون سازی کرانے کے لیے با قاعدہ فنڈ قائم کیا۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ اور منسٹرز کو خریدنے کے لیے سالانہ 1200 پاونڈ کا بجٹ قائم کیا جس میں سے 218 پاونڈ حکومتی وکیل کو اور 545 پاونڈ اٹارنی جنرل کو دیے گئے اور باقی منسٹرز میں تقسیم کیے گئے۔ بعد ازاں پارلیمانی تفتیش کے نتیجے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو رشوت ستانی اور لابنگ کے جرم میں ملوث قرار دیا گیا اور کمپنی کے صدر اور گورنر کو جیل کی ہوا کھانا پڑی۔

اب بڑی بڑی کارپوریشنز س بات کا تعین کرتی ہیں کہ کس کو کتنے حقوق دینے ہیں۔ کس ملک کے ساتھ جنگ کرنی ہے اور کس کو دوست بنانا ہے۔ نائن الیون کے واقعے کے بعدامریکہ کی تیل نکالنے والی اور اسلحہ ساز کمپنیوں نے خوب پیٹرو ڈالر کی سیاست کھیلی اورتیل کی پیداوار کرنے والے ممالک میں اپنی مرضی کے حکمران لے آئے۔

ریاست اور شہریوں کے درمیان ہونیوالا عمرانی معاہدہ تاریخ کے اوراق تک محدود ہوتا نظر آ رہا ہے۔ نئے غیر عمرانی معاہدے کے تحت عالمی مالیاتی ادارے اور کاپوریشنز عوام کی قسمت کا فیصلہ کرینگی۔ وطن عزیز میں اس کے خدوخال بہت حد تک واضح ہونا شروع ہو گئے۔ تازہ ترین تصویر آپ کے سامنے ہے۔ بھوک اور پسماندگی کا عریاں رقص جاری ہے۔ ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ نوجوان بیروز گار ہیں۔ ہسپتالوں میں ادویات کو فقدان ہے۔ جب کہ چینی فروش اپنے لیے سبسڈی لے رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *