ننھی کلی: افسانہ
وہ سٹریچر پر بے سدھ پڑی تھی مگر ٹوٹتی سانسیں اب بھی چل رہی تھیں۔ دل کی دھڑکن مدھم پڑ چکی تھی، یوں محسوس ہوتا تھا جیسے دل دھڑک دھڑک کر اب تھک چکا ہو اور ابدی سکون کا متمنی ہو۔ ننھی پری کا گلاب جیسا جسم مانو مرجھائی ہوئی کلی کی مانند ہوا کے آخری جھونکے کے انتظار میں تھا اور گرم اتنا کہ جیسے تپتے صحرا پہ عمر گزاری ہو۔ اتفاق سے آج رات ہی میری سول ہسپتال
Read more

