ننھی کلی: افسانہ

وہ سٹریچر پر بے سدھ پڑی تھی مگر ٹوٹتی سانسیں اب بھی چل رہی تھیں۔ دل کی دھڑکن مدھم پڑ چکی تھی، یوں محسوس ہوتا تھا جیسے دل دھڑک دھڑک کر اب تھک چکا ہو اور ابدی سکون کا متمنی ہو۔ ننھی پری کا گلاب جیسا جسم مانو مرجھائی ہوئی کلی کی مانند ہوا کے آخری جھونکے کے انتظار میں تھا اور گرم اتنا کہ جیسے تپتے صحرا پہ عمر گزاری ہو۔ اتفاق سے آج رات ہی میری سول ہسپتال

Read more

اقصی سے کعبہ تک

فلسطین اسرائیل کشیدگی کو صحیح طور پر جاننے کے لیے معتبر معلومات کا ہم تک پہنچنا ضروری ہے اور ہر صاحب عقل جانتا ہے کہ خبریں اور معلومات عوام تک پہنچنے سے پہلے بہت سے مراحل سے گزرتی ہیں، چلیں آج اس خبر کا جائزہ ایک منظم طریقہ کار سے کرتے ہیں۔ امریکن فلاسفر ہر من اور نوام چومسکی نے مل کر کر سن 1988 میں پہلی مرتبہ میڈیا پراپیگنڈا ماڈل پیش کیا۔ ان کی کتاب کا نام Manufacturing Consent:

Read more

ہمارا پوسٹ، پوسٹ، پوسٹ ادبی مستقبل

سنا ہے پرانے زمانے میں شہزادہ، شہزادی کی کہانیاں عموماً happy۔ ending والی ہوا کرتی تھیں۔ اس کے بعد جب ادب میں جدیدیت یعنی ماڈرنزم کی پیدائش ہوئی تو اس نے چند اہم معاشرتی پہلوؤں سے پردہ اٹھایا، بعد ازاں مابعدجدیدیت یا پوسٹ ماڈرنزم میں قدم رکھتے ہوئے آدمی یہ دعویٰ کرتے ہوئے نظر آتا ہے کہ زندگی کی حقیقت و سچائی کو وہی لوگ بیان کرنا جانتے ہیں اور شاید تمام قیود سے بالاتر بھی وہی ہیں، اور پھر

Read more

ثریا اور شرافت

کیتلی میں ابھی چائے انڈیلی بھی نہ تھی کہ دروازہ بجا اور والدہ کی آواز گونجی، دیکھ بیٹی شام ہوگئی ہے تیرے چچا آئے ہوں گے ۔ دوپٹا درست کرتے، بڑے قدم اٹھاتے، بہت سی دعاؤں کے ساتھ میں مین گیٹ تک پہنچی اور دروازہ کھول دیا۔ واہ! آج تو ثریا بٹیا حقیقت میں ثریا کی مانند چمک رہی ہے۔ میں نے سلام عرض کیا ان کو اندر لائی اور افسردہ نگاہوں سے دروازہ بند کر دیا آج بھی چچا

Read more

قلم کی آپ بیتی

میرا تصور کئی ہزار سال پرانا ہے، انسان میری اہمیت و اہلیت کا ہمیشہ سے معترف رہا ہے۔ اگر میں اپنی فلسفیانہ تعریف کرنا چاہوں تو یہ کہنا بے جا نا ہوگا کہ میں آلہ کار ہوں، صفات کا عکس دکھانے والا آئینہ ہوں، اچھے کہ ہاتھ میں اچھا برے کے ہاتھ میں برا ہوں۔ میں نے ہر روپ دیکھا ہے اور ہر شخصیت کا مظہر بنا ہوں، یہ صفات میرے ساتھ ہی منسوب ہیں کہ میں کہیں قاضی تو

Read more

میری عید مبارک کر دے

رنگ حنا، آج ”حنا“ کے ہاتھوں پر کچھ زیادہ ہی جچ رہا تھا۔ کبھی نرم و ملائم ہتھیلیوں کو دیکھتی تو کبھی چوڑیوں کے اندر موجود کانچ جیسی نازک کلائیوں پر نظر چلی جاتی اور تو اور آدھ گھنٹے میں پانچویں بار آئینے کا سامنا اتفاقا ہو گیا تھا، وہاں سب سے پہلی نظر اس کی اپنی شرمیلی مسکراہٹ پر ہی جاتی پھر لال ڈوپٹے کی اوٹ سے لال ہونٹ دیکھ کر میچ کرنے لگتی، آج اس نے بال نہیں

Read more