میک اپ، ہماری حقیقت اور انسانی حوالے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس زمانے میں میک اپ کی اہمیت وہی ہے جوکسی دور میں صرف لباس کو حاصل تھی۔ یعنی میک اپ اب لباس کا حصہ ہے، ہم جیسے ہیں اس طرح اچھے نہیں ہیں شاید۔ کسی زمانے میں لباس بدن ڈھانپنے کے لیے تھا اور پھر انسان نے اس ضرورت کو بہتر نظر آنے کے فن سے جوڑدیا۔ اب لباس اور عمدہ لباس رفتہ رفتہ تہذیبی شرط بن گئی۔ لباس کا انسانی نفسیات کے ساتھ گہرا تعلق ہے، اچھا لباس آپ کو خود اعتمادی بخشتا ہے، جبکہ دیکھنے والے پہ بھی ایک اچھا تاثر قائم ہوتا ہے۔

کئی طرح کے روپ رچائے جاتے ہیں، ہر رسم کا الگ لباس بن چکا ہے۔ اچھا نظر آنے کی خواہش میں اس قدر شدت آ چکی ہے کہ ہم اب اچھا ثابت ہونے کی اتنی فکر نہیں کرتے۔ اب انسانی سوچ کو شاید ہی اتنی پذیرائی ہو، جتنی مرتبے اور حیثیت کی ہوتی ہے۔ ہمارے آس پاس کئی بے ترتیب اور پھیکے رنگوں والی حقیقتیں بکھری ہوئی ہیں مگر وہ اتنی پرکشش نہیں ہیں۔ ہماری نظروں میں فقط نظارہ کرنے کی خاصیت ہے، کسی کے غم میں زباں سے بیچارگی جیسے الفاظ نکلتے ہیں اور منظر کشی بھی کی جاتی ہے، مگر اسے محسوس بہت کم کیا جاتا ہے۔

ہمارے پاس اب انسانی حوالوں سے زیادہ طبقاتی حوالے ہیں۔ منفرد اور جدا لگنے کے لیے ہم انسان ہر وقت فکر مند رہتے ہیں۔ مختلف لگنے کے لیے بعض اوقات ہم مناسب لگنے کی سوچ سے بھی بری ہو جاتے ہیں۔ آس پاس کے شریر لوگ تو بس تعریف کر کے مذاق اڑاتے ہیں اور ہم ہیں کہ اسی کو حقیقت جان کے، اسی راستے پہ الگ نظر آنے کی دھن میں چلتے جاتے ہیں۔ اکثریت کو نطر آنے کی فکر کھا گئی ہے، اس بات سے ہر گز مطلب نہیں کہ ہمارے دکھنے کی کیا وجہ ہے، ہم نے کیا کارنامہ سرانجام دے دیا ہے کہ واہ واہ ہو اور زمانہ ہمارے گن گائے۔ میڈیا کی ریٹنگ والی بات فرد تک آ گئی، ہر آدمی کی خواہش ہے کہ وہ بہترین لگے۔ یعنی ہم آنکھوں کی وقتی ٹھنڈک کے لیے سب اہتمام کرتے ہیں۔

چست کپڑے پہن کر اس کو محض انداز سے منسوب کر دیتے ہیں (لباس کی طرزکو اس مضمون میں چھیڑنا یا بدلنا مقصد نہیں ) ۔ ایک ذہن میں جو عوامل کارفرما ہیں اور جن کی بدولت یہ ہیجان انگیز کیفیت بن رہی ہے، کیا وہ لباس کو محض رواج کا نام دے کے ختم ہوجاتی ہے۔ ہماری ذات کی اصل دلکشی کیا ہے، ہماری سوچ کتنی آزاد ہے اس کا اندازہ یہ جان کے ہو گا کہ ہمارے ہاں قلبی وسعت کتنی ہے کہ بلا تعصب انسانیت سما سکے۔ انسان کا جسم (بشمول چہرے کے ) ایک خاص وقت کے بعد مٹی میں مل جاتا ہے۔ البتہ اس کے افکار اسے ہمیشہ کے لیے زندہ یا مردہ بنا تے ہیں۔ موت کے بعد بھی اگر کسی نام کا ذکر زبان زد عام ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس آدمی نے جیتے جی کچھ کر لیا تھا، یعنی جینے کو کسی وجہ کے تابع کر دیا۔

عموماً جب نظریات کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد وہی روشنی ہے کہ جس سے ہم اپنے مقصد کو پہچانتے ہیں۔ بظاہر کاروبار زندگی چند معمولات کا نام خیال کیا جاتا ہے، جیسے تین وقت کے بھوجن کو بدستور اعلی تر بنانے کی کوشش میں جتے رہنے اور پھر موقع پا کے عظیم الشان گھر کو بنانے کی فکر کرنا، اور پھر غریب خانہ کی تختی لگوا دینا، فقط یہی تو ہماری زندگی ہے۔ ہمارے ارمان بس یہی ہیں کہ ہم کسی طرح عالی نسب مان لیے جائیں، حیرت ہے کہ خود کو روشن خیال تصور کرنے والوں کی اکثریت بھی اس زیر زبر کے فرق سے عملاً آزاد نہیں ہو سکے۔

آدمؑ اور حواؑ کی دنیا میں اکٹھے آمدبھی تزکیر و تانیث کے فطری اور حیاتیاتی فرق کو صرف جنس تک محدود نہیں کر سکی بلکہ سماجی درجہ بندی اسی بنیاد پہ ہوتی ہے۔ دونوں بستیوں کو مقدس مانتے ہیں، مگر لڑکی بنت آدم نہیں بلکہ بنت ہوا ہے۔ اس تفریق کو لے کے ہم معاشرتی رویوں کو اختیار کرتے ہیں، یعنی یہ شروع سے ہی دماغ میں ہوتا ہے کہ مرد کو جو اہمیت حاصل ہے وہ دراصل اس کا جنسی امتیاز یے۔ تخم انسان میں اس فرق کو اس لیے رکھا گیا ہے کہ انسانی نسل کی افزائش ممکن ہو، ہم نے اس بنیادی فرق کو مردانہ افضلیت کی وجہ بنا لیا۔

انسان جو اشرف المخلوقات ہے، اس کو عمل پہ اس قدر اختیار نہیں کہ جنسی گروہ بندی کو جدید عہد میں درگور کرنے کا خیال بھی کر سکے۔ اس فرق کو محض جنسی قرار دینے سے خطرہ ہے کہ ہم مشرقی سائنسدانوں کے پاس نا معقول دلائل کا سلسلہ کہیں تھم نہ جائے۔ ویسے زمانے کے تیور اور وقت کی چنگھاڑ پہلے ہی ہمارے خیالات کے درپے ہے، ہمارے اس میک اپ کو آگہی کی طوفانی بارش ایک نہ ایک دن دھو ڈالے گی۔

ہماری خواہش کتنی بڑی ہے، صرف یہی کہ ہمیں بحثیت قوم دنیا اگر پہلے مقام پہ نہیں تو دوسرے یا تیسرے پہ ہی کھڑا کر دے۔ ہماری دولت کا سکہ بھی کم بخت مسلسل نحیف ہوتا جا رہا ہے، بدستور رنگ بدل رہا ہے۔ آخر ہماری عظمت کو دینا کیوں نہیں مانتی، ہر طرح سے ہم تیار ہو کے دنیا کے سامنے پیش ہوتے ہیں۔ بڑا جھنڈا بنانے کا عالمی ریکارڈ بھی بنایا حیرت ہے کہ پھر بھی ہم عالمی درجہ بندی میں پچھلی قطار میں کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔

ہمارے ہاں ایک سے بڑھ کے ایک سیلفی بن رہی ہے، ہر طرح کے جدید لباس ہم درآمد کر کے زیب تن کرتے ہیں، طبی سہولیات کے لیے ہم بیرون ملک بہترین ہسپتالوں میں اپنا علاج کرواتے ہیں۔ موٹر گاڑیوں کی تعداد میں آئے دن اضافہ کیا ہماری ترقی کا منہ بولتا ثبوت نہیں ہے؟ سب سے زیادہ لطیفے ہم سناتے اور سوشل میڈیا پہ شیؑر کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے استعمال میں اور مختلف سیلفی موبائلز رکھنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ ہمارے تو چھوٹے چھوٹے بچوں کے پاس اعلی فون موجود ہیں۔

یہ ڈھیروں سے کوڑا کرکٹ چننے والے، فٹ پاتھ پہ سونے والے اور دو دو روپے مانگنے والوں کے ساتھ بھلا ہمارا کیا لینا دینا۔ یہ تو خدا کے کام ہیں کسی کو زیادہ دیتا ہے اور کسی کو کم اپنے اپنے نصیب کی بات ہے۔ اگر خدا ان پہ راضی نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم لوگ بناوٹی ہیں۔ ہمارے اب تک کے تمام حکمران انتہائی پابندی کے ساتھ ہر سال زیارت حرمین شریفین کے لیے جاتے ہیں۔ یہ تو فیق تو خدا دیتا ہے، یہ معاملہ دولت سے بلند ہے اور عین غائبانہ بھلے کی کوئی مثال لگتی ہے۔ لیکن یہ بے عدل اور غیر منصف دنیا ہماری اس قدر حاصلات کو غیر اہم سمجھ کہ سرسری نگاہ ڈال دیتی ہے۔ ہماری ایک تاریخ ہے، اس کے صفحات کو اتنی لاپرواہی سے کیسے پلٹا جا سکتا ہے۔

اگرچہ کچھ سنجیدہ سوالات ہمارے اپنے ہی قومی ذہن میں ابھر رہے ہیں، خاص کر جب ہم میک اپ میں نہیں ہوتے ؛سقراط نے کون سا جدید یا شاہی لباس زیب تن کیا، کون سا پوز لے کے سیلفی بنوائی تھی کہ آج تک دنیا اس کے خدوخال بناتی ہے۔ پنسل سے لکیریں لگاکے، اپنے انہماک کو ایک سفید کاغذ پہ منتقل کرکے سقراط کے خیال کو مصور ایک صورت دیتا ہے اور پھر اس پہ فخر کرتا ہے۔ کچھ پڑھنا ہو تو اس کے حوالے کے بغیر ہمارے علم کی وضاحت ممکن نہیں۔

ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جب تک ارسطو اور افلاطون کا حوالہ نہ دیا جائے، علم کی تعریف مکمل نہیں ہوتی۔ جدید ریاست کی بنیاد میں ان عام لباس لوگوں کا تھوڑا بہت حصہ تو ہے۔ جب بو علی سینا کی بات ہوتی ہے تو ایک فکر کی بات ہوتی ہے نہ کہ محض فرد کی شان میں کلام سنایا جاتا ہے۔ ان کے ترتیب دیے ہوئے طبی انسائکلوپیڈیا کی اہمیت کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ جامعات میں جدید طبی و حیاتیاتی سائنس کا مستند متن سمجھا جاتا ہے۔

کانگ کیو کو مشرق کا سب سے بڑا فلاسفر خیال کیا جاتا ہے۔ اس نے سیاست اور اخلاقیات کے باہمی تعلق کی اہمیت پہ زور دیا اور شکل انتہائی واجبی تھی۔ ایک سنہری بات جو اس شخص کی دریافت تھی کہ جو اپنے لیے نہیں چاہتے ہو دوسروں کے لیے مت چاہو۔ یہی اصول یونانیوں کے ہاں اس سے قبل ایک صدی کے لگ بھگ رائج رہا۔ زمانے کے زینے عبور کرتے آج اس دور جدید میں ہم موجود ہیں، یقیناً اس وقت بھی تقاضے میک اپ اور لباس سے کہیں بڑے ہیں۔ نام نہاد دانشوری اور نقطہ چینی سے ہم جو حصہ ڈالیں گے وہ شاید بہتری کے لیے اتنا موزوں نہ ہو جتنا عمل کرنا ضروری ہے۔ یہی اصل کام ہے جو کرنے لائق ہے، باقی زاویئے بدلنے سے منظر کی حقیقت نہیں بدلتی۔ سورج کی روشنی سے بچانے والی عینک دھوپ کی تمازت کو نہیں گھٹا سکتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply