نرک سے واپسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں کہ دنیا میں ایک ہی شکل کے سات لوگ ہوتے ہیں، پر میں صرف ایک شخص کو جانتا ہوں جس کی شکل مجھ سے ملتی ہے۔ میرا ہمشکل امیر خاندان کا چشم و چراغ ہے۔ کالج کے دنوں میں وہ کار اور میں بس سے سفر کرتا تھا۔ شروع شروع میں کلاس فیلوز کہتے کہ ”کل تم کار میں آئے تھے، آج کیوں گاڑی نہیں لائے۔ ؟“ میں ان کے سوال پر حیران ہوتا اور نظریں جھکا کر کہتا ”وہ میں نہیں ہوں!“ ۔ رفتہ رفتہ میرے کلاس فیلوز پر یہ بات آشکار ہوگئی کہ میں بس میں سفر کرنے والا عام طالب ہوں۔ اس کے ساتھ یہ بھی ہوا کہ میری اس امیر زادے سے اچھی شناسائی ہوگئی۔

امیر ہم شکل جیسا چہرہ ہونے کے مجھے فائدے بھی ہونے لگے۔ ہوٹلوں، سیلون اور کئی دیگر دکانوں پر مجھے امیرزادے کی وجہ سے خصوصی توجہ ملتی۔ پہلے تو ڈر لگا لیکن پھر اچھا لگنے لگا۔

کالج کے دن ختم ہوئے سبھی اپنی اپنی ڈگر چل نکلے۔ میں بڑے شہر آ گیا۔ ایک عرصے تک کسی بھی کلاس فیلو سے رابطہ نہ رہا۔ ۔ ۔ سالوں بعد بڑے شہر میں سڑک پر چلتے ہوئے اچانک ایک بڑی کار آکر میرے قریب رکی۔ زوردار بریک لگنے پر میں چونک کر رک گیا۔ گاڑی کی طرف دیکھا اور پھر قدم آگے بڑھا دیے۔ لیکن ایک آواز پر پھر رک گیا۔ بڑی گاڑی کا شیشہ نیچے اتر چکا تھا اور اس میں سے ایک شخص نے مجھے نام سے پکارتے ہوئے بلایا۔ میں گاڑی کے طرف گیا۔ گاڑی میں میرا ہم شکل تھا۔ میری نظریں اس سے ملیں، سلام دعا ہوئی۔ اس کے کہنے پر میں بیٹھ گیا۔

گاڑی پوش علاقے میں ایک شاندار محل نما بنگلے کے اندر داخل ہوئی۔ ہم سب گاڑی سے اتر کر اندر آگئے۔ میرا ہم شکل مجھ سے بغل گیر ہوا، ہم نے کالج کے دنوں کو یاد کیا۔ میں اسے پہلے سے بھی زیادہ امیر دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ بات چیت کے بعد اس نے مجھے اپنے پاس کام کرنے کا کہا، جسے میں نے قبول کر لیا۔

میرے کپڑے لتے ہوبہو ہم شکل جیسے بنوائے گئے۔ کچھ دن میں اس کے ساتھ رہا۔ لیکن بعد میں مجھے خود سے ٹیم کے ساتھ کام کرنے کا کہا گیا۔ میرے پوچھنے پر ہم شکل نے کہا کہ ”میں ملک سے باہر جا رہا ہوں، اب تم میرے جگہ یہاں سارا کام سنبھالو گے۔“ یہ سن کر مجھے بڑی خوشی ہوئی، لیکن یہ خوشی چند دن کی مہمان تھی۔ مجھے معلوم نہیں تھا یہ کام کیا کرتے ہیں۔ لیکن جب پولیس نے بنگلے پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا تو پتہ چلا ہم شکل منشیات کا کاروبار کرتا تھا۔

پولیس نے مجھے ہم شکل کے نام سے پکارا، میں نے انکار کیا اور انہیں حقیقت بتائی لیکن کسی نے میری بات کا یقین نہیں کیا۔ کیس چلا، سزا ہوئی، میں جیل پہنچ گیا اور میرا ہم شکل ملک سے باہر پرسکون زندگی جینے لگا۔

جیل میں کئی برس گزر گئے، تنہائی کی زندگی جیسے تیسے کٹتی رہی۔ کوئی اپنا پرایا ملنے آیا نہ کبھی کسی نے حال پوچھا۔ کالے بالوں کی جگہ سفید بال آگئے لیکن حالات نہ بدلے۔

ایک رات عجب خواب دیکھا۔ یم دوت مجھے فضا میں اڑا لے جا رہے تھے۔ میں حیران و پریشان تھا۔ سوچا خواب تو ایسے ہی جن بھوتوں والے ہوتے ہیں۔ مجھے بڑبڑاتا دیکھ کر ایک یم دوت کہنے لگا ”تم مر چکے ہو، ہم تمہیں یم لوک لے جا رہے ہیں۔“ یہ سن کر کچھ پریشان ہوا، لیکن جو کچھ دنیا میں مجھ پر بیتا اس سے میرا خوف جاتا رہا۔

”اچھا کیا، میری دنیا سے جان چھوٹی۔ ۔ ۔ ۔ کم سے کم یہاں مجھے کچھ سکون تو ملے گا؟“ میں نے کہا۔
” تم کیسے مانو ہو، جسے دنیا بری اور یم لوک اچھا لگ رہا ہے۔“ یم دوت نے کہا۔
” دنیا میں جو کچھ میرے ساتھ ہوا ہے یہاں اس سے زیادہ تو برا نہیں ہوگا نا؟“

میرے بات پر یم دوت کھسرپھسر کرنے لگے۔ مگر کچھ کہے بغیر انہوں نے مجھے یم دیوتا کے سامنے کٹہرے میں لاکر کھڑا کر دیا۔ دربار پورا بھرا ہوا تھا۔ انصاف کا دیوتا یم اپنے تخت پر براجمان تھا اور چترگپت اس کے قریب ایک بڑی سنہری چمکیلی کتاب کھولے بیٹھا تھا۔ کسی عدالت کا یہ نیا نظارہ تھا۔ زمین پر عدالت میں ثبوت، گواہ، پولیس، جج کے ساتھ وکیل کی طویل جرح دیکھی۔ مجرموں کو بری اور بے قصوروں کو مجرم ہوتے اور کال کوٹھڑی میں جاتے دیکھا۔ لیکن یہاں پر ایسا کچھ نہیں تھا۔ ملزم کٹہرے میں آیا، چترگپٹ نے جرم بتائے اور اسی وقت مجرم کو نرک میں سزا بھگتنے کے لئے ڈال دیا گیا۔

میری باری آخر میں آئی، یم دیوتا نے چترگپت کی طرف دیکھا۔ اس نے چمکیلی کتاب کے صفحے پلٹنے کے بعد کہا ”اس منش نے اپنے ہم شکل کا فائدہ اٹھایا اور اس کی روپے پیسے، سونے اور چاندی پر عیاشی کی ہے“ چترگپت میرے پاپ گنواتا گیا۔ جب وہ چپ ہوا تو یم دیوتا نے گرجدار آواز میں کہا ”اس کو سندانسا، وساشنا، کساراکاردما کی سزا دو۔“

یم دیوتا کے حکم کے ساتھ ہی یم دوت پہنچ گئے اور مجھے نرک کی طرف لے جانے لگے۔
” مجھے کون سی سزا دی گئی، کہاں ہے یہ نرک؟“ میں نے یم دوت سے پوچھا۔
” تمہارے پاپوں کے مطابق تم نرک کے تین بیرکوں میں سزا کاٹو گے۔“ یم دوت نے کہا۔
” نرک میں کتنی بیرکس ہیں اور وہاں کون سی سزائیں دی جاتی ہیں“ میں نے پوچھا۔

” نرک میں اٹھائیس بیرکس یا نرک ہیں، جن میں منش کے پاپ کے مطابق سزا دی جاتی ہے، تم کو جو سزائیں دی گئیں ہیں ان میں تمہارے اعضا کو چمٹے سے اکھاڑا جائے گا، جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہوں گے، سر کے بل تمہیں اوپر سے نیچے فرش پر پھینکا جائے گا، لیکن مرنے نہیں دیں گے اور پھر آگ میں جھونکا جائے گا۔“ میں یم دوت کی باتیں سن کر مطمعین رہا اور ان کے ساتھ نرک پہنچ گیا۔ مجھے سزائیں بھگتنے کے لئے ایک کے بعد دوسری بیرک میں ڈالا گیا۔ سزا کا دور شروع ہوئے ابھی کچھ ہی دن ہوئے تھے کہ چترگپت وہاں آ نکلا اور مجھے لے جا کر یم دیوتا کے سامنے پیش کر دیا۔

” ہم سے گھور انیائے ہوگیا ہے، ہم سے بڑی بھول ہوگئی ہے، ہمیں شما کردو!“ یم دیوتا کی گرجدار آواز میں انکساری تھی۔

میں حیرانی سے سب دیکھتا رہا۔ ۔ ۔ ”مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا، آپ کیا کہہ رہے ہیں؟“
” ہم نے کسی اور کی جگہ تمہارے پران ہرن کیے اور نرک کی سزا دی۔“ یم دیوتا نے کہا۔

”مطلب جیتے جی دھوکا، مرتے وقت بھی دھوکا اور مرنے کے بعد بھی دھوکا۔ واہ واہ۔ ۔ ۔ انسان دھوکا دیتے ہیں، دھوکا کھاتے ہیں، یہ انسان کی فطرت ہے۔ مگر آپ تو دیوتا ہیں، انصاف کے دیوتا۔ ۔ ۔ ۔ آپ بھی دھوکا دیتے ہو؟“ میں نے کہا۔

” ہم دھوکا نہیں دیتے، یہ کام صرف منش کرتے ہیں۔“ یم دیوتا نے کرخت آواز میں کہا۔

” تو پھر آپ دھوکا کھا گئے نا۔ ۔ ۔ ۔ آپ تو دیوتا ہو، آپ کیسے دھوکا کھا سکتے ہو۔ ۔ ۔ کیا آپ کے پاس بھی کرائے کے قاتل، رشوت خوری اور سپاری دینے کا چلن ہے؟“ میں نے کہا۔

میری بات سے جیسے نرک لوک میں بھونچال آ گیا۔ یم دیوتا چلاتے ہوئے اپنے سنگھاسن سے اٹھ کھڑے ہوگئے۔ لیکن اپنے غصے پر کنٹرول کرتے ہوئے کہنے لگے ”ہم سے غلطی ہوگئی ہے۔ ۔ ۔ ہم اپنی غلطی کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔ ۔ ۔“ یم دیوتا نے ایک بار پھر انکساری سے کہا۔

” میرے لئے تو دنیا بھی نرک سمان ہی تھی، وہاں پر بھی میرے لئے تو اچھا کچھ نہیں تھا، میں کسی اور کی زندگی جی رہا تھا، وہ مجھے استعمال کرکے خود بھاگ گیا اور میں جیل میں اس کی سزا کاٹتا رہا۔ ۔ ۔ ۔“ میں افسردہ ہوکر چپ ہوگیا۔

” ہم تم کو واپس دھرتی پر بھیجتے ہیں، تاکہ تم اپنی ادھوری زندگی مکمل جی سکو!“ چترگپت نے کہا۔

”میں نے زمین پر جاکر پھر وہی پہلے جیسی زندگی جینے ہے تو مجھے نہیں جانا واپس“ میں یہ کہہ کر فرش پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔

مجھے یوں بیٹھتا دیکھ کر چترگپت یم دیوتا کے پاس گیا اور وہ ایک بار پھر مجھے دیکھتے ہوئے گفتگو کرنے لگے۔

” میں نے کہہ دیا ہے، اگر پہلے والی ہی واہیات زندگی میں نے جینی ہے تو میں نہیں جاؤں گا۔“ میری بات پر چترگپت بولا ”ارے یار تم ایک منٹ چپ تو کرو، ہمیں مسئلے کا حل نکالنے دو۔“

” ہمیں اس کو جلدی زمین پر بھیجنا ہوگا، منش بہت تیز ہوتے ہیں، کہیں ایسا نا ہو کہ وہ یہاں ہڑتال، دھرنا، جلاؤ، گھیراؤ کردے اور ہم دیکھتے رہ جائیں۔

اگلے صبح میری جیل سے رہائی ہوچکی تھی اور میں نے اپنے ہم شکل کو جیل میں جاتے دیکھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *