چین اورایران کے درمیان اقتصادی معاہدہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین اورایران کے درمیان اقتصادی اورسیکیورٹی شراکت داری کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ابھی تک جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، اس کے مطابق، بیجنگ، تہران میں چار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ بعض اطلاعات یہ بھی ہیں کہ سرمایہ کاری کا یہ حجم چھ ارب ڈالر ہے۔ معاہدے کے مطابق چین، ایران میں پچیس سے زائد منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گی۔ معاہدے کے مطابق بدلے میں ایران، چین کو باقاعدگی سے بھاری رعایت پر تیل فراہم کرے گا۔

شنید یہ ہے کہ بیجنگ اور تہران کے درمیان باہمی تجارت کے اس منصوبے پر اس وقت بات چیت ہو ئی تھی جب چین کے صدر زی جن پنگ نے جنوری 2016 ء میں ایران کا دورہ کیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان ساڑھے چار سال سے مشاورت جاری تھی۔ اس دوران بھارت اور ایران کے درمیان بھی تجارت، سرمایہ کاری اور دیگر امور پر بات چیت ہوتی رہی۔ اس مقصد کے لئے ایران کے صدر حسن روحانی نے 2018 ء میں بھارت کا دورہ بھی کیا تھا تاکہ جاری بات چیت پر مثبت پیش رفت ہو، لیکن یہ بیل اس لئے منڈھے نہ چھڑ سکی کہ نئی دہلی پر واشنگٹن کا دباؤ تھا۔

بھارت نے کئی بر سوں تک ایران کو مذاکرات کے نام پر مصروف رکھا، لیکن عملی طور پر وہاں بھاری سرمایہ کاری اور ان کے ساتھ باہمی تجارت سے گریز کر تا رہا۔ دوسری طرف تہران کے بیجنگ کے ساتھ باہمی تجارت اور ایران میں سرمایہ کاری ہی پر بات چیت جاری تھی جوکہ نہ صرف کامیاب ہوئی بلکہ چین نے اس منصوبے کی تصدیق بھی کردی ہے۔

چین کی ایران میں سرمایہ کاری اور باہمی تجارت براہ راست امریکی مفادات سے متصادم ہے۔ بیجنگ کی تہران کے ساتھ معاہدے نے واضح کر دیا ہے کہ چین نے بین الاقوامی طور پر اپنے آپ کو متبادل کے طور پر پیش کرنے کے لئے عملی اقدامات کا آ غاز کر دیا ہے۔ یہ بات الم نشرح ہے کہ امریکا نے ایران پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہے۔ مشرقی وسطی کے زیادہ تر ممالک ایران کے مخالف ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ سلطنت سعودی عربیہ اور ایران کے درمیان کشیدہ تعلقات کی تاریخ عشروں پر محیط ہے۔

ایران کے ساتھ تجارت اور وہاں سرمایہ کاری کے معاہدے سے چین نے براہ رست امریکا کی عالمی تجارت پر اجارہ داری اور بین الاقوامی سیاسی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔ دوسری طرف چین نے مشرقی وسطیٰ خاص کر سعودی عرب کے مفادات پر بھی کاری ضرب لگا ئی ہے۔ امریکا، بیجنگ اور تہران کے درمیان اس اہم پیش رفت پر کیا ردعمل دے گا؟ مشرقی وسطیٰ میں سعودی عرب اور دیگر اہم ممالک اس معاہدے کے بعد کیا منصوبہ بندی کریں گے؟ اس کے لئے ابھی انتظار کرنا ہو گا، اس لئے کہ امریکا میں صدارتی انتخابات قریب ہیں۔

واشنگٹن جو بھی ردعمل دے گا وہ نئی حکومت کی قیام کے بعد ہی ہو گا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس دوران وہ چھوٹے موٹے اقدامات کرنے سے اپنے لہو کو گرم ضرور رکھے گا۔ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور دیگر اہم ممالک کے ردعمل کا انحصار بھی امریکی ردعمل پر منحصر ہو گا۔ امریکا کا جو بھی ردعمل ہوگا، وہ براہ راست ہوگا، اس لئے کہ وہ بین الاقوامی سیاست اور تجارت کا اوپننگ کھلاڑی ہے۔ اس حیثیت کو برقرار رکھنے اور دنیا کو باور کرانے کے لئے کہ اب بھی وہ عالمی سیاست اور تجارت کا بے تاج بادشاہ ہے امریکا کسی بھی حد تک جانے کی کوشش کرے گا اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔

لیکن ان حالات میں سعودی عرب اور مشرقی وسطیٰ کے دیگر اہم ریاستوں کو فیصلہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک طرف اگر سعودی عرب، امریکا کا اہم اتحادی ہے، تو دوسری طرف امریکا اور یورپ مشرقی وسطیٰ کے بادشاہوں، شہزادوں اور حکمرانوں کادوسرا گھر بھی ہے۔ ان ممالک میں ان کے محلات ہیں۔ کاروبار بھی وہاں اور پیسہ بھی ان کا امریکا اور یورپ کے بینکوں میں پڑا ہے۔ ایسی صورت حال میں کہ مشرقی وسطیٰ کے زیادہ تر ممالک اور سلطنتوں میں بدامنی اور انتشار ہے۔ جہاں بادشاہت ہیں وہاں عوام شاہوں اور شہزادوں سے ناراض ہیں۔ جہاں حکمران ہیں وہاں بھی لوگ ان سے خوش نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے اہم ممالک کیا صف بندی اور منصوبہ بندی کرتے ہیں کہ جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔

چین اور ایران کے درمیان اس اہم معاہدے کی عالمی سطح پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟ اس سوال کو چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن اس سوال پرغور کرنا ضروری ہے کہ بیجنگ اور تہران کی قربت سے اس خطے اور دونوں ممالک کے پڑوسی ریاستوں پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟ مستقبل میں اس معاہدے کی وجہ سے خطے میں کیا خطرات اور مشکلات پیدا ہوسکتے ہیں؟ اس خطے کے دو اہم ممالک، بھارت اور پاکستان کو اس معاہدے نے مشکل میں ڈال دیا ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان حالیہ دنوں میں سرحدی کشیدگی کی وجہ سے صورت حال کشیدہ ہے۔

چین کے مقابلے میں بھارت امریکا پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان بھی حسب معمول کشیدگی عروج پر ہے۔ پاکستان اگر چہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا اتحادی ہے، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ گزشتہ بیس برسوں میں واشنگٹن نے کبھی بھی اسلام آباد پر بھروسا نہیں کیا اور ان کی کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ چین، پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) کی وجہ سے واشنگٹن اور نئی دہلی دونوں اسلام آباد سے شدید ناراض ہے۔

اس حقیقت کو بھی ہم نظر انداز نہیں کر سکتے کہ چین اور ایران کی اس نئی دوستی کو مستحکم کرنے کے لئے منصوبہ بندی، بیجنگ، تہران، کابل اور اسلام آباد میں ہوگی، جبکہ دوستی کی اس بازو کو مروڑنے کی سازشیں بھی اس خطے یعنی نئی دہلی، کابل اور اسلام آباد میں ہو گی۔ سازشوں کے اس منصوبے میں ریاض، دبئی اور دوحہ کا بھی کردار ہوگا۔

بہرحال 2021 ء کا سال ہنگامہ خیز ہوگا۔ امکان یہی ہے کہ اسی برس معلوم ہو جائے گا کہ چین اور امریکا کے درمیان سرد جنگ ہوگی یا گرم۔ صورت حال کو دیکھ کر مجھے لگ رہا ہے کہ جنگ سرد ہی ہو گی جو کئی عشروں تک جاری رہے گی۔ اگر جنگ گرم بھی رہی تو میدن جنگ، بیجنگ، واشنگٹن یا نئی دہلی نہیں ہوگی بلکہ یہ جنگ بھی مشرق وسطیٰ کے صحراؤں میں لڑی جائے گی۔ ممکن ہے کہ میدان جنگ ایک دفعہ پھر پاکستان اور افغانستان کی سرزمین ہو۔ حالات جو بھی ہوں گے لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس سرد یا گرم جنگ میں واشنگٹن، بیجنگ اور نئی دہلی محفوظ ہوں گے ، جو بھی نقصان ہو گا وہ ایران، پاکستان، افغانستان اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *