یونیورسٹی کا ماحول: کتنا سچ، کتنا افسانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس دن میں اپنی پہلی کلاس کے لئے تیار ہو کر گھر سے نکلا تو میرے چچا نے مجھے کہا خالد یونیورسٹی کے ماحول اور کالج کے ماحول میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ مزید کہا کہ یونیورسٹی میں تنظیمیں وغیرہ ہوتی ہیں تو کسی بھی تنظیم کا حصہ نہ بننا اور اپنے کام سے کام رکھنا۔ دراصل میرے چچا مجھے تنظیموں سے دور رہنے کہ نہیں بلکہ صنف نازک سے دور رہنے کی تاکید کر رہے تھے۔ میں نے ان کی بات کا جواب اثبات میں سر ہلا کر دیا اور یونیورسٹی چلا گیا۔

یونیورسٹی پہنچا اپنے ڈیپارٹمنٹ گیا اور اپنی کلاس کا پتا کیا۔ ایک ملازم نے مجھے میری کلاس میں پہنچایا۔ سر طارق نواز کلاس میں تھے پہلا دن تھا سب نے اپنا اپنا تعارف کروایا۔ کلاس میں دائیں جانب لڑکیاں جلوہ افروز تھی اور بائیں جانب ہم یعنی کے وطن کے سپوت جوان۔ سر طارق نے کہا کہ ہمیں انتظامیہ کے سخت آرڈر ہیں کہ کلاس میں لیکچر انگریزی میں دینا ہے۔ اتنا سننا تھا تو دل سے آواز آئی لو جی لگ گئے کونے، ہو گئے پیسے پورے۔ سر کی آدھی باتیں ہم نے سنی ہی نہیں اور آدھی ہمیں سمجھ نہ آئیں۔ اللہ اللہ کرکے کلاس ختم ہوئی اور اگلی کلاس کے استاد آئے ہی نہیں۔

جب کلاس فری تھی تو ہم نے اگلے دو سال بلکہ زندگی کے لیے کوئی نئے ہمسفر تلاش کرنے کا سوچا۔ رسمی دعا سلام ہوا بھی تو صرف لڑکوں سے۔ کوئی اور جاننے والا یا جاننے والی یونیورسٹی میں نہیں تھی۔ اس لیے ناکام عاشق کی طرح اکیلے ہی وقت کاٹا۔ چھٹی ہوئی تو گھر کا رخ کیا تاکہ باپ کے خون پسینے کی کمائی پہ جا کر ہاتھ صاف کیے جائیں۔

دوسرے دن بھی یہی روٹین رہی۔ ہم میں اور لڑکیوں میں ایسی دوری تھی جیسی بھارت اور پاکستان کی عوام میں ہے۔ یعنی کہ چاہ کر بھی ایک دوسرے کے قریب نہیں آ پا رہے تھے۔ ہماری کرسیوں اور لڑکیوں کی کرسیوں کے درمیان چار فٹ کا فاصلہ ختم ہو ابھی تو کہیں چار ہفتے بعد جا کر۔ کلاسز زور وشور سے جاری رہیں یعنی کہ زور اساتذہ کا اور شور ہمارا (ہمارے سے مراد لڑکے لڑکیاں دونوں ) ۔ سب سے پہلے کلاس میں جس سے تعارف ہوا اور جان پہچان بنی وہ تھے حذیفہ بھائی دل کے کھلے انسان اور ہاتھ کے بھی دوستوں پر خرچ کرنے والے۔ دوسرے تھے اسد وقار انتہائی سادہ انسان دل کو چھو لینے والی سادگی۔ اس کے بعد ساری کلاس سے گپ شپ ہو گئی لڑکیوں سے بھی آغاز گفتگو ہو چلا تھا۔

اب یونیورسٹی میں دو سال گزارنے کے بعد میں یہ دکھی دل سے اعتراف کرتا ہوں کہ یونیورسٹی کے بارے میں قائم ہمارے تصورات یکسر بدل چکے ہیں۔ ہمارے بنائے ہوئے یا سنے سنائے ہوئے افسانے افسانے ہی رہے اور حقیقت کچھ اور ہے۔ شاید اس مضمون کا مقصد بھی انہی خیالات یا تصورات کا جواب دینا تھا۔ لیکن خیالات قابو میں کہاں رہتے ہیں جو قلم کی نوک پر آتا گیا لکھتا گیا۔

میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ آپ جس طرح کا ماحول چاہتے ہیں آپ کو یونیورسٹی میں ویسا ہی ماحول ملے گا۔ اگر آپ دو چار لڑکے لڑکیاں مل کر آوارہ گردی کرنے کے شوقین ہیں تو بخوبی آپ کا یہ شوق پورا ہو سکتا ہے۔ اور اگر آپ اپنے کام سے کام رکھنا چاہتے ہیں تو کوئی مائی کا لال آپ کو چھیڑنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ وہ والدین جنہیں اپنی بیٹیوں کو یونیورسٹی بھیجنے کے حوالے سے شبہات ہیں۔ میں ان کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی اولاد یونیورسٹی میں وہی کچھ کرے گی جو آپ نے تربیت دی ہے۔

یا جو کچھ انہوں نے گھر سے سیکھا ہے۔ کچھ ایسی لڑکیاں بھی ہیں جو ملٹی نیشنل سروس فراہم کرتی ہیں۔ اور کچھ ایسی بھی ہیں جن کو آج تک کسی نے کوئی فضول بات نہیں کی۔ کوئی ان کے ساتھ بے تکلف نہیں ہوا۔ آپ اپنا فرض ادا کریں اپنے بچوں کی تربیت اچھے سے کریں۔ اور انہیں پڑھائی کے لیے بے شک یونیورسٹی بھیجیں۔ بلا خوف خطر بھیجیں یونیورسٹی تربیتی ادارہ ہے تخریبی نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *