کیونکہ میں ایک پاکستانی مرد ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


طبیعت کچھ بوجھل محسوس ہو رہی تھی۔ اور بے انتہا نیند کا غلبہ بھی تھا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ رات دیر تک ٹائپنگ پریکٹس کرتا رہا۔ مگر جانا ضروری تھا۔ والد کی وفات کے بعد گھر کا خرچہ اب میرے کاندھوں پر تھا۔ ہر جگہ نوکری کے لیے مارا مارا پھرتا۔ نجی دفاتر کے معیار کے مطابق نہ میری تعلیم تھی اور نہ ان کی طرف سے مانگے جانے والا کچھ خاص مدت کا تجربہ تھا۔ کیونکہ ابھی میری عمر زیادہ نہیں تھی کہ یہ ذمہ داری مجھ پر آن پڑی۔

میں نوکری کے ساتھ ساتھ تعلیم جاری رکھنا چاہتا تھا۔ سرکاری نوکری کے لیے بھی آسامیاں خالی ہونے کی تاک میں رہتا اور تقریباً ہر جگہ درخواست دے چکا تھا۔ ٹیسٹ اکثر اچھا ہی ہوتا، ڈیجیٹل ٹیسٹ میں تو اکثر کمپیوٹر پاس ہو جانے کی نوید بھی دے دیتا۔ مگر ہر بار شارٹ لسٹ میں میرا نام کہیں نہ ہوتا۔ ہزار، دو ہزار کا فارم، اور پھر ٹیسٹ کے لیے جانا، کبھی انٹرویو تک پہنچ جانا اور بالآخر مسترد ہو جانا۔ میں اس سب سے بہت تنگ آ چکا تھا۔

اور تھک چکا تھا۔ مجھ پر منکشف ہو چکا تھا کہ جو پیسہ پھینکیں گے، بڑے عہدے داران سے جن کی واقفیت ہو گی یا شاید کبھی کبھار جن کی قسمت چل پڑے گی وہ ہی نوکری حاصل کر سکیں گے۔ اور مجھ جیسے کئی، جن کے پاس سفارش یا رشوت کے لیے پیسے نہیں وہ ہمیشہ یونہی ٹھوکریں کھاتے پھریں گے کیونکہ ہمارا معاشرہ قابلیت کی قدر کھو چکا ہے۔ اس کاوش کی طرف مزید اب یہ میرا آخری قدم تھا۔ اس لیے جلدی سے اٹھا اور ایک دفتر میں ایل ڈی سی کی پوسٹ کے لیے ٹیسٹ دینے چلا گیا۔

ٹیسٹ پاس ہو گیا۔ مگر ہر بار کی طرح جو لوگ شارٹ لسٹ ہوئے ان میں میرا نام نہ تھا۔ میری مایوسی اب زور پکڑ چکی تھی۔ مجھے اس نظام سے گلہ تھا جس نے قابل ہوتے ہوئے بھی مجھے نوکری نہ دی۔ مجھے بے حد افسوس تھا کہ میرا تعلق ایسے نظام سے ہے جہاں میرٹ کی بنیاد پر نوکری مل جانے کا کوئی وجود سرے سے نہیں۔ مجھے یقین ہو چکا تھا کہ یہ ملک صرف عہدے داروں کا یا پیسے والوں کا ملک ہے۔ میرے پاس اب ایک ہی چارہ تھا، جو وطن عزیز میں ہر مجبور مرد کے پاس رہ جاتا ہے۔

ادھار لے کر باہر کے ملک نوکری کے لیے جانا۔ میں اپنا ملک اور اپنے گھر والوں کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ میں اس معاملے میں کافی حساس تھا اور وطن سے شروع سے لگاؤ تھا۔ مگر میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔ ایک عزیز نے مشورہ دیا کہ ادھار لے کر کاروبار چلا لو پھر منافع پا کر ادھار لوٹا دینا۔ اماں سے مشورہ کیا تو انھوں نے تین چار لوگوں کی مثالیں پیش کیں۔ جنہوں نے یونہی کیا مگر کاروبار چل نہ سکا اور نوبت گھر بیچنے تک آ گئی۔

میں ایسا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا کیونکہ اب صرف ایک گھر ہی تھا جو ہماری ملکیت میں تھا۔ وہ بھی بک جاتا تو ہم سڑک پر آ جاتے۔ خیر، حالات سے تنگ آ کر، ملک کے نظام سے مایوس ہو کر، خود کو مجبور و بے بس محسوس کرتے ہوئے دبئی میں موجود دوست سے رابطہ کیا۔ اور روانہ ہو گیا۔ اب میں یہاں مقیم ہوں۔ دن تو مصروفیت اور کام کی سختی کی وجہ سے کٹ ہی جاتا ہے مگر رات کاٹنا بہت مشکل ہوتا ہے، اپنے وطن، اپنے گھر اور اپنے پیاروں سے دوری کم از کم میرے لیے بہت مشکل مرحلہ ہے۔

کام کی شدت اس قدر ہوتی ہے کہ بستر ملتے ہی لیٹ جانے کا دل کرتا ہے مگر کھانا پکانا، کھانا، کپڑے دھونا، استری کرنا وغیرہ جیسے کام ابھی بھی منتظر ہوتے ہیں۔ پھر گھر والوں سے کال پر بات کرتا ہوں۔ ہر کال پہ فرمائشوں کی ایک لمبی لسٹ تیار رہتی ہے۔ کبھی بیوی، کبھی اماں، کبھی بہن اور کبھی چھوٹے بھائی کی طرف سے۔ کام کی سختی اور اوقات کی زیادتی کے باعث بدن ٹوٹ رہا ہوتا ہے، مگر گھر والوں سے ہنس کر بات کرتا ہوں۔

میری خون پسینے کی کمائی جو میں جدائی جیسی عزیت کاٹ کے، ان تھک محنت سے کماتا ہوں وہ وہاں بے فکری سے لٹائی جاتی ہے، اور ہر ماہ فرمائشوں کی لسٹ بڑھا دی جاتی ہے۔ میں کس عزیت سے دو چار ہوں، مجھ پر کام کا کس قدر بوجھ ہے، مجھے وطن سے دوری کس قدر چبھتی ہے، قطع نظر اس کے مجھے ہر تکلیف کو، مجبوری کو، درد کو، غم کو چھپانا ہوتا ہے کیوں کہ ’میں ایک پاکستانی مرد ہوں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply