ینگو ورما: زندگی رکے گی نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


جب سے ہماری جنریشن کے لوگوں نے سالگرہ منانی شروع کی ہے تب سے ہی میرے چاہنے نہ چاہنے کے باوجودمیری سالگرہ آبھی جاتی ہے اور ہو بھی جاتی ہے۔ اور پتہ نہیں ایسا کیا ہے کہ ہوتی بھی خوب دھوم دھام سے اور پیار خلوص سے ہے اور مجھے حیرت ہو تی ہے کہ ہر سال کسی نہ کسی کو مجھ پر پیار آیا ہی ہو تا ہے۔ ایموجیز کا رواج ان پیج میں نہیں ہے ورنہ پچھلے جملے کے بعد ایک سمائلی بنانا تھی حالانکہ ہر طرح کے چہرے کے تاثرات والے ایموجیز ہونے کے باوجود آپس میں سوشل میڈیا میسجز ایکسچینج میں غلط فہمیوں اور لڑائیوں کی شرح ہونا فون پر یا آمنے سامنے بات سے کہیں زیادہ ہے۔ اس لئے میں پرانے کلاس فیلوز اور چند بے تکلف دوستوں

، جو میری رگ رگ سے واقف ہیں اور مجھ پر اعتماد رکھتے ہیں کہ علاوہ کسی وٹس ایپ یا فیس بک گروپ کا حصہ نہیں بنتی۔ کہ جدید دور کے لوگوں کے ذہنوں کی پیچیدگیوں کا مقابلہ کر نے کے لئے اپنی قدیم روح کو بہت سادہ اور غیر مسلح پاتی ہوں تو یہ ایموجیز کا سہارا جو ہے اب کالم لکھتے لکھتے بھی اسی خلائی مخلوق کا خیال آنے لگتا ہے کہ ہم کچھ اور لکھ رہے ہیں لوگ کچھ اور سمجھ رہے ہیں اور ہم بتا نا چاہتے ہیں کہ اس جملہ میں طنز چھپا ہوا ہے، اس میں مزاح ہے اور اس میں طنز و مزاح دونوں ہیں، یہ بات ہم سنجیدگی سے لکھ رہے ہیں اور اس بات کو لکھتے ہو ئے ہماری آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے ہیں، یعنی آج کی اتنی ماڈرن دنیا میں لوگوں کی سوچ اتنی پیچیدہ ہو تی جا رہی کہ وہ، آپ کی بات سے اپنے مطلب کا مطلب نکال لیتے ہیں اور آپ حیران پریشان رہ جاتے ہیں کہ ہمارا یہ مطلب تو نہیں تھا۔

خیر میری سالگرہ سے بات شروع ہو ئی تھی، ان محبتوں کی بات ہو رہی تھی، جو خدا نے آپ کے حصے میں لکھ رکھی ہوتی ہیں۔ جیسے دانے دانے پر کھانے والے کا نام لکھا ہوتا ہے اسی طرح اس کائنات میں جو آپ کے حصے کی محبتیں ہیں وہ آپ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ اور اگر وہ چھن بھی جاتی ہیں تو ان کی جگہ دوسری لے لیتی ہیں یہ کائنات کا نظام ہے۔

ینگو ورما (ایک درویش، ایک کلاکار، ایک بزرگ) جب اسی دنیا میں ہمارے ساتھ ہوا کرتے تھے توجب میرا دل اداس یا اپنے لوگوں کے ایسے ہی متلوج مزاج رویوں سے حیران و پریشان ہو تا تو میں ان کو فون کر لیا کرتی تھی کہ ایک اتنا بڑا فنکار جس نے دلی کی جامعہ مسجد پر مرزا غالب کو بڑا سا بت بنا کے کھڑا کیا ہو، خود ایک چھوٹے سے گھر میں تنہا رہا کرتا تھا۔

ینگو صاحب! آپ کیسے اکیلے رہ لیتے ہیں؟

”ہم اکیلے کہاں ہیں جن کو ہم سے محبت ہو تی ہے وہ ہمیں فون بھی کرتے ہیں اور ہم سے ملنے آبھی جاتے ہیں۔“ ان کی جملوں کی ادائیگی دل موہنے والی ہوا کرتی تھی۔

” پھر بھی۔ آپ کو ان لوگوں پر غصہ نہیں آتا، جنہوں نے رشتے یا دوستی نبھانے کی باری آئی تو آپ کو سمجھا نہیں اور دھوکہ دیا ہو۔ آپ یہ سب کیسے برداشت کر لیتے ہیں۔“ میں ان کے جواب میں اپنا سکون تلاش کر نے کی کوشش میں رہتی تھی۔

ینگو ورما: میڈم (وہ بس میڈم ہی کہا کرتے تھے، نہ کبھی نام لیا نہ بیٹا کہا) ۔ ”میڈم! ہم کہاں برداشت کرتے ہیں۔ ہم تو خودکو ایسے لوگوں سے جدا کرلیتے ہیں۔ آپ بھی ایسا کیا کریں۔“

”ینگو صاحب! مجھ سے نہیں ہو تا۔ میں رشتوں کو، دوستیوں کو قائم رکھنا چاہتی ہوں، اس لئے اپنی جان پر کھیلتی رہتی ہوں۔ اپنی ذات فنا کرتی رہتی ہوں۔“

”تو کوئی خوش ہو تا ہے؟ انہوں نے سادگی سے پو چھا۔

”ہاں جی کبھی کبھار خوش ہو جاتے ہیں جب ان کا موڈ اچھا ہو مگر زیادہ تر ناراض رہتے ہیں، کیونکہ کبھی مجھ سے یہ نہیں ہو پا تا کبھی مجھ سے وہ نہیں ہو پاتا۔“ میں نے بہت سوچ سوچ کر جواب دیا کہ کہیں بھی جواب میں غلط بیانی یا وقتی جذبات (انسان کبھی بلاوجہ بھی ڈپریس ہو جاتا ہے ) شامل نہ ہوں۔

”تو میڈم ثابت یہ ہوا کہ آپ کچھ بھی کر لیں لوگوں نے خوش یا ناخوش اپنے حساب سے ہو نا ہے تو آپ بس وہی کیوں نہیں کرتیں جو آپ کو اچھا لگتا ہے۔“

”مجھے اسی وقت وہی اچھا لگنے لگ جاتا ہے جو دوسروں کے لئے اچھا ہو۔ ۔ ۔“ ۔ میں نے اپنی روح کے اندر اترتے ہوئے کہا۔

”تو میڈم غلطی آپ کی ہے، پہلی صفت تو خوب ہے دوسروں کو خوش کر نا، اسے فرشتہ صفت کہتے ہیں مگر آپ کی دوسری صفت انسانی ہے، کہ آپ نے اپنی خوشی دوسروں کی خوشی میں دیکھی مگر پھر جب آپ کی خوشی آئی تو آپ نے دوسروں کو اس طرح خوش یا مددگار نہیں دیکھا تو آپ کا دل اندر سے خالی ہو نے لگ گیا۔ جب کسی اور کو مدد کی ضرورت پڑی، اس نے آپ کو پکارا تو آپ بھاگی چلی گئیں، یہ بھی ہوئی آپ کی فرشتہ صفتی مگر جب آپ نے مدد کے لئے پکارا یا آپ کو کسی کی ضرورت پڑی اور وہ مدد کو نہ آیا، یا آپ کا ساتھ نہ دیا تو آپ کی روح میں ایک اور چھید پڑ گیا“

”تو کیا یہ غلط ہے؟ نہیں پڑنا چاہیے چھید۔ ۔ ۔“

”نہیں! اگرآپ دوسرے معاملے میں جس میں آپ طالب ہیں، اور طلب پو ری نہیں ہو رہی میں بھی رد عمل سے لاتعلق ہو جائیں، دکھی نہ ہوں تو پھر آپ پہلا عمل جس میں آپ ضرورت پوری کر نے والی پو زیشن میں ہیں یا تو نہ کریں یا اسے آپس میں مشروط نہ کریں۔

یہ سب سے گزر جائیں تو تنہائی بوجھ نہیں لگتی۔ پھر آپ کے پاس وہی آتا ہے جو کسی ضرورت سے نہیں بلکہ کائنات میں سے آپ کو بس آپ کے حصے کی محبتیں دینا آتا ہے۔ تو جو نہیں آتا اس کا مطلب، اس کے پاس، آپ کے حصے کی محبت ہے ہی نہیں۔ وہ عارضی ٹھکانہ کر نے والے تھے، کام ہوا چلے گئے۔ محبت ہو تی، خلوص ہو تا تو رکے رہتے۔ ۔ ۔ آ جائیں آپ کو چائے پلاتا ہوں۔ ”

”میں نے احمد کو سکول سے لینے جانا ہے پھر کبھی سہی۔ مجھے میرے حصے کا سکون، جو انہی کے پاس ہو تا تھا، مل جاتا تو میں ایسے ہی مطئمن ہو جایا کرتی تھی۔ اور وہ جی اچھا میڈم کہہ کر فون بند کر دیا کرتے تھے، نہ کوئی گلہ، نہ امید۔ ۔ ۔ اگلی کسی بھی گفتگو کا آغاز، میرے کسی سوال یا الجھن کا حل دینے کو، اسی طرح تازہ دم ہو کر کر دیا کرتے تھے۔

اور یہ ان کے حصے کی محبت ہی تھی، جس کا کچھ حصہ ہم میاں بیوی کے پاس بھی تھا، اسی لئے جب وہ دنیا سے جا رہے تھے، ہم ان کے بلائے بغیر، انہیں بتائے بغیر اسی شام ان کے دروازے پر دستک دے رہے تھے مگر موت کی دستک ہم سے پہلے پہنچ کر انہیں یہ بتا چکی تھی کہ اس کائنات کی محبتوں میں جتنا حصہ ان کا تھا وہ لے چکے ہیں۔ اب وقت کوچ آ گیا ہے۔

اور وہ میرے حصے کی جو محبت ان کے دامن میں تھی، وہ مجھے آج بھی مختلف شکلوں میں نظر آتی ہے۔ جیسا کہ میں نے شروع میں سالگرہ کا ذکر کیا، کہ کسی نہ کسی کو مجھ پر پیار آیا ہوتا ہے تو یہ وہ کائنات کی محبتوں کے شئیرز ہیں جن کا منبع ایک ہی خالق کائنات ہے مگر جو جلوہ گر اپنے بندوں کی صورت ہی ہو تا ہے۔

میرے دوستوں نے جو، ان کے پاس موجود میری محبتوں کا حصہ تھا وہ مجھے دیتے ہو ئے میری سالگرہ سٹریٹس ول میموریل پارک میں منائی۔ سمیرا طارق نے انواع واقسام کی لذیذ ڈشز اپنے ہاتھوں سے بنائی تھیں اور عائشہ یوسف، انتہائی مزے کا کیک لائی تھیں، سب کے معدوں کو تو راحت ملی ہی ملی، آنکھیں مسرور اور روحیں بھی سرشار ہوئیں اور اس شام کا موسم کچھ ایسا حسین تھا کہ وہ شام، ایک یاد گار شام میں بدل گئی۔

ساتھ بہتا پانی، اس کا ہلکا ہلکا شور، سر پر نیلا آسمان، جو بعد میں تاروں سے بھی بھر گیا، خراماں خراماں چلتیں مر غابیاں۔ اور ان کے پاس کھیلتے بچے۔ ایک عربی بچی علینہ (عائشہ کی ننھی منی گڑیا) کی دوست بن گئی، اسی سے اسے پتہ چلا کہ میری سالگرہ ہے۔ بھاگی بھاگی میرے پاس آئی، آتے ہی میرے گلے لگ گئی، اور پوچھنے لگی کیا میں آپ کو چوم سکتی ہوں۔ میں نے حیران پریشان چہرہ اس کے ہو نٹوں کے پاس جھکا دیا، ایک پل کو میں بھی بھول گئی کے کرونا کے دن ہیں اور ایک دوسرے سے فاصلہ کتنا ضروری ہے، میری گال کو چوم کر مجھے ہیپی برتھ ڈے کہا اور معصومیت سے پو چھنے لگی:کیا میں آپ کی سالگرہ کا کیک کھا سکتی ہوں؟

میرے الفاظ میراساتھ چھوڑ گئے، وہ بچی اپنے اندر میرے حصے کی کی محبت اٹھائے نہ جانے کہاں سے آئی تھی۔ اسی لئے ینگو ورما کی یاد آئی کہ وہی مجھے کہا کرتے تھے کسی کے بدلنے، جانے یا کھونے کا دکھ نہ کیا کریں کہ ہمیں اپنے حصے کی محبت کہیں سے بھی کسی بھی صورت مل کے رہتی ہے۔ جو آپ سے بچھڑ جاتے ہیں یا بدل جاتے ہیں، ان کاآپ کی زندگی میں کردار ختم ہو چکا ہو تا ہے مگر آپ کی زندگی چونکہ ابھی باقی ہوتی ہے اس لئے محبتیں کسی نہ کسی صورت آتی رہتی ہیں۔ مایوسی موت ہے، بس میڈم اسے نہیں پاس آنے دینا ”

ینگو ورما صاحب! میری ایک یادگار سالگرہ پر آپ میرے ساتھ تھے۔ اور آج اپنی اس سالگرہ پر میں آپ سمیت اور بھی بہت سے لوگ کھو چکی ہوں، مگر آپ کی اس بات کو یاد کر کے مجھ میں توانائی دوڑتی ہے کہ محبتیں شکلیں بدل بدل کر ہم تک پہنچتی رہتی ہیں، ان کو پہچان کر خوش ہو ں نہ کہ بدل جانے والے اور بچھڑ جانے والے لوگوں کو یاد کر کے اداس رہیں۔ ۔ ۔

اپنی زندگی میں نفرت، حسد اور منفی سوچوں والوں کی بجائے محبتیں بانٹنے والوں کی طرف توجہ رکھیں۔ زندگی رکے گی نہیں۔ ۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply