علم اور رویے میں تعلق کیسے قائم کیا جائے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نہیں معلوم، اطلاعات کی یلغار سے، فی زمانہ اپنی کوئی متوازن رائے قائم کرنا، کسی واقعے کے حقیقی وجوہات تک پہنچنا یا کسی معلوم شخصیات کے نامعلوم پہلوؤں کو غیر جانبدارانہ رویہ رکھتے ہوئے سمجھنا، اب ممکن ہے کہ نہیں۔

درحقیقت، جاننے کا عمل اس قدر سہل ہو چکا ہے کہ بلا تردد، آپ کسی موضوع، کسی شعبہ زندگی، کسی مکتبہ فکر، کسی علمی شاخ سے متعلق جو چاہیں ( اور اگر مبالغہ نہ ہو تو جب چاہیں ) حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ حصول، حالات حاضرہ اور روز مرہ کے معا ملات و واقعات پر تو منطبق ہے ہی، ماضی قریب اور ماضی بعید کو کھنگالنے کے لئے بھی اب اتنی ہی سہولت میسر ہے۔

معلومات کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو ایک متلاشی کی مدد کے لئے چٹکی بجاتے ہی حاضر ہونے کو ہمہ وقت تیار ہے۔ آج اور کل کی قید سے ہٹ کر، یہ اعانت ہر سطح پر، رہنمائی کے لئے موجود ہے۔ عالمی امور ہوں، علاقائی مسائل ہوں یا مقامی حالات، کسی بھی پس منظر اور پیش منظر کے لئے، اس حساب سے ذخیرہ دستیاب ہے کہ شمار یا قیاس نا ممکن!

اب سوال یہ ہے کہ اتنے اعداد و شمار، حقائق و واقعات، اور نقطہ ہائے نظر کو کس طرح پرکھا جائے کہ اپنی رائے متعین ہو اور ایسی سوچ وضع کی جائے کہ جو اعتدال پر مبنی ہو اور کسی نہ کسی طور، منطقی قرار دی جا سکے۔ اس بارے میں شاید کسی کو اختلاف نہ ہو کہ ہمارا معاشرہ، تاحال جذباتیت کے مرحلے سے نہیں نکل سکا اور آج بھی ہم خود کو بعض خود فریب سلو گن میں مقید پاتے ہیں بلکہ یہ کہنا شاید زیادہ مناسب ہو گا کہ وقت گزرنے کے ساتھ، بد قسمتی سے، یہ دائرہ، کشادگی اختیار کرنے کی بہ جائے، مزید تنگ ہوا ہے۔

کسی بھی حصار کو توڑنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے خیالات کو حتمی تصور نہ کیا جائے اور نظر ثانی کے لئے خود کو تیار رکھا جائے کیوں کہ انسانی ذہن کی با لیدگی اور خوش نمائی اسی میں پوشیدہ ہے کہ جاننے اور مزید جاننے کے لئے ذہن کھلا رکھا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ تصور کرنا مشکل نہیں کہ انسانی تاریخ آج کہاں کھڑی ہوتی۔

اپنے خیالات، طرز فکر اور نقطہ نظر کو معتدل رکھنا، اسی صورت میں ممکن ہے جب کسی قسم کے میلان یا رجحان کو، اپنی رائے قا ئم کرتے ہوئے، اثر انداز نہ ہونے دیا جائے۔ یہ عمل شاید اتنا آسان نہیں، وگرنہ ہر کوئی اس معاشرے میں فکری اعتبار سے مثالی شخصیت کے طور پر پہچانا جاتا جبکہ افسوس کے ساتھ یہ مان لینا ہو گا کہ ہمارے ہاں منجمد ذہنی کیفیت کو ہی استدلال اور ذہنی بلو غت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

آج کے مسائل ہوں یا گزرے ہوئے کل کے احوال، انھیں سمجھنے کے لئے، ان کا حقیقی شعور حاصل کرنے کے بجائے، اپنے خود ساختہ پیمانوں سے ماپ کر رد یا تسلیم کر لینے کی روایت، ہمارے ہاں پوری طرح جاری و ساری ہے، حالانکہ سوشل میڈیا سے میسر، مختلف ذرائع کی فراہم کردہ معلومات، اب وہ موقع مہیا کرنے میں نہایت معاون ہے جہاں کسی بھی واقعے اور نقطہ نظر کو پرکھنا اور جانچنا، ماضی کے مقابلے میں، سبک رفتاری اور تقابل کے ساتھ، نہایت آسانی سے ممکن ہے، بشرطیکہ متوازن راستے کی طلب موجود ہو۔

بہتر ہو گا کہ آج معاشرے میں جنم لینے والے تمام فکری رجحانات اور انفرادی خیالات کو ان کے منطقی انجام تک پہنچنے سے نہ روکا جائے تاکہ خود رو عمل سے جگہ بنانے والا شعور اپنی پائداری خود ثابت کر سکے

اکیسویں صدی میں بھی آگر ہمارا معاشرہ، دستیاب علمی وسائل کے باوجود، اپنے عمل اور طرز عمل سے علم دوستی، آگہی، اور دلیل سے تعلق نہیں جوڑتا تو یہ عدم توجہی اور لا پرواہی ہمیں کہاں لے جائے گی، اس کا اندازہ کہیں وقت گزرنے کے بعد نہ ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply