تنقید کے نئے تناظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی ادبی پرچے کا ظاہری کردار یہ ہے کہ وہ تازہ تخلیقات کو قاری تک پہنچاتا ہے لیکن اس ظاہری کردار کے پس منظر میں کچھ اور چیزیں بھی ہیں کہ ایک اچھا مدیر نہ صرف نئی نسل کی فنی تربیت کرتا ہے بلکہ عصری و فکری مسائل پر بھی رائے دے کر ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جس میں بحث مباحثہ کے ذریعے نئے فکری رجحانات پر گفتگو ہوتی ہے۔ اسی لیے کسی ادبی پرجے کے مدیر کی اپنی حیثیت اور قامت (Caliber) پر سوال کیا جا سکتا ہے۔ اگر مدیر کو خود کچھ معلوم نہیں اور وہ اپنے عصری ادبی تناظر سے واقف نہیں تو وہ کیا تربیت کرے گا یا اپنے رسالے کو کس نہج پر چلائے گا۔ ادبی رسالہ ڈاکخانہ نہیں ہوتا کہ جو ملا وہ آگے پہنچا دیا۔

بڑے پرچوں کے پیچھے بڑے نظریات ہوتے ہیں۔ اوّل سوال تو یہی ہے کہ کوئی پرچہ کیوں نکالا جا رہا ہے، صرف ذاتی تشہیر اور پی آر کے لیے یا مدیر ایک عہد کے ادبی منظر نامے میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ ماضی کے کچھ ادبی پرچوں نے اپنے نظریات کی روشنی میں نئے پرانے لکھنے والوں کو گائیڈ لائن دی ہے اور نئی نسل کی فکری و فنی تربیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ’’اوراق‘‘ اس کی بہترین مثال ہے جس کا ہر اداریہ کسی نہ کسی اہم فکری فنی مسئلہ کے بارے میں ہوتا تھا۔ اگلے شمارے میں مدیر کے خیالات پر منفی و مثبت بحث ہوتی تھی۔ خط لکھنے والے یا ردِ عمل دینے والے اپنے اپنے نقطہء نظر کی بات کرتے تھے۔

اوراق کے بعد جس ادبی پرچے نے اس روایت کو قائم رکھا وہ ’’تسطیر‘‘ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس منصب کا اہل ہونا بھی ایک ضروری عنصر ہے۔ ہمارے عہد کے بے شمار پرچے تو اپنا گروپ بنانے اور خود کو ان کا لیڈر ثابت کرنے کے لیے نکالے جاتے ہیں۔ ’’اوراق‘‘ کے مدیر ڈاکٹر وزیرآغا کے علمی و تخلیقی مرتبہ سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اور اب ’’تسطیر‘‘ کے مدیر نصیر احمد ناصر کے بارے میں بھی میری یہی رائے ہے کہ وہ نہ صرف ایک بڑے شاعر بلکہ ایک صاحبِ مطالعہ شخص ہیں جن کی نظر ادب کی تمام اصناف پر ہے۔ اردو ادب کے علاوہ بھی وہ گلوب پر ہونے والی تبدیلیوں، فکری و فنی تحریکوں اور افکار و نظریات سے پوری طرح واقف ہیں۔ تسطیر کا اجرا (دونوں ادوار، 1997ء تا 2012ء اور 2017ء تا حال) محض ایک شوق نہیں بلکہ ایک وژن ہے۔ نصیر احمد ناصر نے اس کے ذریعے ایک نئی نسل تیار کی ہے اور کر رہے ہیں۔ چنانچہ ان کے ہر شمارے کا اداریہ کسی نہ کسی اہم مسئلہ کی نشاندہی کرتا ہے اور وہ اس پر آنے والے ردِعمل کو بھی پرچے میں شامل کرتے ہیں۔ ردِعمل دینے والے ان سے اتفاق و اختلاف دونوں کرتے ہیں اور یہ ان کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ وہ دونوں طرح کی آراء کو شامل کرتے ہیں۔

نصیر احمد ناصر کے تقریباً تمام بالخصوص ’’تسطیر‘‘ کے دورِ اوّل کے اداریوں کو اگر ایک بڑے عنوان کے تحت لیا جائے تو ان کے مباحث مابعد جدیدیت اور اس کے اثرات اور بعد کی بحثوں سے متعلق ہیں۔ ان میں خصوصاً نثری نظم کے جواز، نظم، تاریخ اور تنقید، تنقیدی اصطلاحات اور ادبی نظریے کی بحثیں شامل ہیں۔ یہ کوئی بارہ تیرہ عنوانات ہیں جن میں انہوں نے مختلف سوال اُٹھائے ہیں۔ ان سوالات پر جن لوگوں نے اپنا ردِعمل دیا ہے ان میں اپنے عہد کے جید اور مختلف و متضاد طبقہ ہائے فکر کے اہلِ قلم شامل ہیں، جنہوں نے نصیر احمد ناصر کے سوالات کو آگے بڑھایا ہے۔

ان مباحث میں خالصتاً ادبی تناظر کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی، سائنس کے نئے انکشافات، ادبی جمالیات اور فکری، فنی اور تنقیدی موضوعات پر اہم اور حقائق کی بھرپور عکاسی کرنے والے سوال اُٹھائے گئے ہیں اور شرکائے بحث نے ان پر سیر حاصل باتیں کی ہیں۔ ان سوالات سے جہاں نصیر احمد ناصر کے صاحبِ مطالعہ ہونے اور پورے ادبی منظر نامہ پر گہری نظر ہونے کا اندازہ ہوتا ہے وہاں یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ہمارے صاحبِ رائے اور اہم ادیبوں نے کس سنجیدگی سے ان پر گفتگو کی ہے اور زیرِ بحث موضوع کے نئے پہلو تلاش کیے ہیں۔

اداریوں کے موضوعات کی اہمیت واضح کرنے کے لیے کچھ کے عنوانات درج ہیں: ’’مابعد جدیدت اور تنقید کا بحران‘‘، ’’نثری نظم کا تخلیقی جواز‘‘، ’’اردو تنقید کے اصطلاحاتی شگاف‘‘، ’’تاریخ، ادب، تنقید اور نئی نظم‘‘، ’’سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں شاعری کی افادیت‘‘، ’’ادبی جمالیات، مواد، اثرات اور دائرہ کار‘‘، ’’ادبی نظریہ‘‘، ’’نیچریت، نصاب اور تقابلی ادب‘‘، ’’نظم میں جدت و قدامت کا قضیہ اور تیسری لہر‘‘۔ یہ عنوانات بذاتِ خود عصری ادبی سوالات اور مسائل سے بھرے ہوئے کیپسول کی مانند ہیں جو اپنے اندر مباحث در مباحث کا ایک سلسلہ سمیٹے ہوئے ہیں۔

ان عنوانات سے بطورِ خاص تین پہلوؤں کی نشاندہی بھی ہوتی ہے۔ اوّل عصری ادب میں ان کی اہمیت اور اثرات، نہ صرف اپنی زبان بلکہ دیگر زبانوں کے دائرے میں۔ دوسرے مدیر کا اپنا نقطہِ نظر جو یہ بھی واضح کرتا ہے کہ وہ اپنے پرچے کو کن امور پر ترتیب دیتا ہے اور ادب اور قاری کے درمیان کس طرح کا رشتہ استوار کرنے کا خواہش مند ہے۔ تیسرے اس کے دور کے اہم ترین ادیب و نقاد ان موضوعات کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں اور کس حد تک ان سے متفق ہیں۔ بنیادی طور پر یہ ساری بحثیں ’’تسطیر‘‘ کے معیار اور ادارتی پالیسی کو واضح کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مدیر کے فکری امتنان اور قد کی وضاحت بھی کرتی ہیں۔ ’’تنقید کے نئے تناظر‘‘ میں یہ سارے اداریے اور ان پر ہونے والی بحث شامل ہے۔ یہ اس حوالے سے ایک اہم ترین کتاب ہے کہ کسی خاص تنقیدی نظریے کے بجائے مسائل پر کھلی بحث کی گئی ہے جس میں مختلف تنقیدی نقطہ ہائے نظر شامل ہو گئے ہیں۔ یہ اردو ادب کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی نہایت ہی سنجیدہ کوشش ہے۔

اس طرح کی کتابیں خاص طور پر نئے نقادوں، ادب کے طالب علموں اور قارئین کے لیے بہت ہی مفید ہیں۔ ان سے کئی نئے موضوعات کا تعین کیا جا سکتا ہے جن پر آگے چل کر تحقیقی مقالے لکھے جا سکتے ہیں۔ ان تمام مباحث کے حوالے سے خود نصیر احمد ناصر کی ادبی شخصیت کے بھاری بھرکم ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ ان کی روشن خیالی، سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ کسی مخصوص نظریے کی عینک سے چیزوں کو نہیں دیکھتے، کا اندازہ ہوتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ مباحث ’’تسطیر‘‘ کے اداریے ہیں۔ باقی سارا پرچہ مدیرکی وسعتِ نظر، اعلیٰ ظرفی کا اظہار ہے کہ اس کے اوراق میں آپ کو نئے اور پرانے، مختلف نقطہ ہائے نظر رکھنے والے ادیبوں کی معیاری تخلیقات پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔

’’تنقید کے نئے تناظر‘‘ کئی تنقیدی کتابوں سے زیادہ افادی ہے۔ تنقید کے بنیادی اصولوں کی روشنی میں یہ مباحث انفرادی تخلیقات کی بجائے موضوعات کے فکری مطالعے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان سارے موضوعات نے عصری ادب سے متعلق صورتِ حال سے جنم لیا ہے۔ یہ کتاب کئی تنقیدی کتابوں سے بہتر ہے کہ ایک ہی جلد میں اداریوں اور ان کے ردِعمل میں آنے والے خیالات یکجا ہو گئے ہیں۔ ایسی کتابیں جہاں ادب کے عام قاری کو بہت سی نئی فکری و فنی سمتوں سے آشنا کرتی ہیں وہاں ادب کے طالب علموں کو بھی بنیادی نظریات سے آگاہی فراہم کرتی ہیں۔ اداریوں اور ان پر ہونے والے مباحث کے اس مجموعہ سے نصیر احمد ناصر نہ صرف ایک بڑے مدیر ہونے کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں بلکہ ان کے مطالعہ کی وسعت، عصری ملکی و غیر ملکی ادب پر ان کی گہری نظر اور ادبی مسائل کو سمجھنے اور بیان کرنے کی ان کی تنقیدی صلاحیتوں کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر رشید امجد (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر رشید امجد کی دیگر تحریریں

Leave a Reply