عوام آخر کب تک پی ٹی وی کا بوجھ اٹھائیں گے۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پی ٹی وی (پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن) ہمارا قومی ادارہ ہے ماضی میں یہ ادارہ بہترین ڈراموں کے ساتھ عمدہ تخلیقات پیش کرتا آیا ہے جس کی وجہ سے عوام نے آج تک اس کو زبوں حالی میں بھی مدد دی اور آج بھی د ے رہے ہیں لیکن سادہ سا سوال کہ کب تک۔ مانا کہ قومی ادارہ ہے بہت سے دلچسپ اور قابل تعریف ڈرامے نشر ہوئے مگر حال ہی میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ ادارہ مفلوج ہو گیا ہے باقی اداروں کی طرح اس کا حل کیا یہی ہے کہ اس کو قوم کی جیب سے پیسے دیے جائیں اور پھر وہی معمول ہو اس کا۔

اب ایسا لگتا ہے کہ اس ادارے کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ جو ادارہ اتنے عرصے سے عوام کی جیب پر پل رہا ہے لیکن اب تک اس ادارے کی انتظامیہ کی طرف سے کوئی بزنس ماڈل کوئی پلان نہیں ہے، بھرتیاں گنجائش سے زیادہ ہیں تو یقیناً ایک عام آدمی کی سوچ اس ادارے سے متعلق بھی یہ ہی ہوگی کہ جاتے کہاں ہیں پیسے، کیا یہ ادارے بھی کرپشن کی نذر ہوگیا۔

پی ٹی وی اتنے عرصے سے عوام کی جیب سے 35 روپے ہر ما ہ بجلی کے بل کے ذریعے وصول کرتا تھا مگر اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں آخر 35 روپے سے کیا ہوگا کیسے خرچہ چلے گا، ادارے کی انتظامیہ جو کہ پہلے ہی خاصی موٹی تنخواہیں لے رہی ہے ان سے ان کا گزارہ نہیں ہو رہا لہذا اس میں تھوڑا اور اضافہ کر دیا جائے اور 35 روپے کی جگہ عوام سے پورے 100 روپے لیے جائیں۔ واضح رہے یہ پینتیس روپے پی ٹی وی لائسنس فیس کی مد میں لیے جاتے ہیں جو کہ اب پورے 100 روپے ہو گئے ہیں فی الحال تو ایک ہفتے کے لیے یہ فیصلہ موخر ہوا ہے لیکن ہماری نظر میں معمولی رقم لگتی ہے فقط ایک سو روپیہ مگر یہ کل اکیس ارب کے قریب جمع ہوتا ہے۔

اور جب فیس 35 روپے تھی تو سات ارب روپے بنتے تھے۔ اب آپ خود ہی اندازہ لگائیں کہ ایک ادارہ اکیس ارب روپے لیتا ہو اور اس کی کارکردگی سب آپ کے سامنے ہے اس ادارے کے اپنے ڈرامے نہیں وہ آج بھی ڈرامے آؤٹ سورس کر رہا ہے تو سوال اٹھتا ہے یہاں پر کہ اگر نہیں ہو سکتا اور آج تک نہیں ہو پایا تو پھر آپ کی ضرورت کیا ہے۔ ؟

جناب ایم ڈی پی ٹی وی عامر منظور صاحب نے کیا خوب ہی وجہ بتائی ہے پیسے بڑھانے کی کہ یہ ایک قومی ادارہ ہے جس کا کردار غیر تجارتی نوعیت کا ہے اور دنیا بھر میں سرکاری نشریاتی ادارے ٹی وی لائسنس فیس کے ذریعے حکومتی گرانٹ وصول کرتے ہیں برطانیہ جرمنی اور دوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں یہ فیس وصول کی جاتی ہے ایم ڈی پی ٹی وی عامر منظور نے بتایا کہ پی ٹی وی کے لاہور اسلام آباد اور کراچی سمیت مختلف شہروں میں سینٹر کام کر رہے ہیں اور ان میں اتنا ریونیو پیدا کرنے کی بھی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ اپنے اخراجات پورے کر سکے یعنی ایم ڈی پی ٹی وی اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ پی ٹی وی خسارے میں چلنے والا ادارہ ہے جو اپنی آمدن پر نہیں چل سکتا اس لیے عوام سے لائسنس فی کی مد میں بائیس ارب روپے لینا ضروری ہے۔

پاکستان میں اکثر یہ مثال دی جاتی ہے کہ صرف پاکستان ہی یہ پیسہ عوام سے وصول نہیں کر رہا بلکہ برطانوی حکومت بھی بی بی سی کو فنڈ کرتی ہے تو اس بات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ بی بی سی صرف عوام کے دیے ہوئے پیسوں سے نہیں چل رہا تو پی ٹی وی کا بی بی سی سے موازنہ کرنا بنتا ہی نہیں ہے کیوں کہ بی بی سی کا content، اس کا اپنا ریونیو اور منافع اور بی بی سی نے برطانیہ کے بیانیہ کو آگے بڑھانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے یہ ادارہ ایک آزاد حیثیت رکھتا ہے۔ اور پی ٹی وی تو ہمارے نجی ٹی وی چینل سے بھی بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ جس ادارے کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے ہر سال بائیس ارب روپے لیے جائیں گے اس کا آؤٹ پٹ کیا ہے کیا یہ ادار ہ Quality content دے رہا ہے کیا کوئی قومی خدمت کر رہا ہے یا عوام کا سارا پیسہ اخراجات پورا کرنے اور خسارہ برداشت کرنے میں لگا ئے جا رہے ہیں کیوں کہ بی بی سی صرف عوام کے پیسوں پر نہیں چل رہا بلکہ ہر سال اس کی اپنی انکم گیارہ کروڑ پاؤنڈ یعنی کے بائیس ارب روپے سے زیادہ ہے اور ہر سال اشتہارات کی مد میں اس کی آمدنی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جب کہ دوسری طرف پی ٹی وی کے اشتہارات پر مبنی ریونیو مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔

اشتہارات کے علاوہ بی بی سی کو ہر سال تقریباً ساڑھے تین ارب پاؤنڈ لائسنس فیس کی مد میں ملتے ہیں اور بی بی سی اس رقم کے بدلے عوام کو quality content دینے کا وعدہ کرتا ہے بی بی سی اپنے چارٹر میں یہ بات واضح کرتا ہے کہ ادارہ اس بات کو یقینی بنانے کا پابند ہے کہ عوام کو ان کے پیسے کے بد لے میں بہترین content فراہم کیا جائے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ عوام کو وہ content فراہم کرنے میں پیسہ خرچ کیا جائے گا جو عوام دیکھنا چاہتے ہیں اس کے علاوہ بی بی سے نے پچھلے کئی سالوں میں اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ عوام کا زیادہ سے زیادہ پیسے انتظامی اخراجات کے بجائے content اور delivery پر خرچ کیا جائے۔

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اس ادارے کو بند ہوجانا چاہیے یا پھر اس کو پیسے نہیں دینے چاہیے گزارش یہ ہے کہ جب آپ عوام کی جیب سے اتنا پیسا لے رہے ہو اور اس ادارے پر خرچ کر رہے ہو جو کافی عرصے سے کوئی تخلیقی کام ہی عوام کو مہیہ نہیں کر رہا۔ لہذا کوئی چیک اینڈ بیلنس تو ہو آج کی حکومت کے حکمران خود جناب وزیراعظم صاحب کسی زمانے میں کہتے تھے کہ پی ٹی وی کو لائسنس فیس کی مد میں پیسے کیوں دیے جا رہے ہیں اور یہاں تک کہ عدالت جانے کی باتیں کرتے تھے مگر آج وہ ہی حکومت یہ فیصلہ کر رہی ہے کہ 35 روپے سے 100 روپے فیس میں اضافہ کیا جائے۔ حکوت کو چاہیے کہ اس ادارے کے لیے کوئی بزنس پلان بنایا جائے اور چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے ضرورت سے زیادہ جو بھرتیاں کی گئیں ہیں اس کو دیکھا جائے اور ادارے کو ری اسٹرکچر کیا جائے ایک اہم قومی ادارے کو ان چیزوں کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رمیز لاکھو کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *