مختار مسعود سے وابستہ کچھ یادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ادبی حلقوں میں اور پاکستان کی سینئر بیوروکریسی میں مختار مسعود کا نام جانا پہچانا ہے۔ وہ پاکستان کی سول سروس کے اولین گروپ کا حصہ تھے۔ سکول کی تعلیم انہوں نے علی گڑھ کے اپنے سکول سے حاصل کی اور پھر اسی یونیورسٹی سے ایم اے اکنامکس کی تعلیم مکمل کی۔ گویا ان کی تعلیم و تربیت کا ایک طویل عرصہ علی گڑھ یونیورسٹی میں ہی گزرا، جس کی چھاپ ان کی شخصیت، خیالات اور تحریر پر نمایاں نظر آتی ہے۔ اپنی پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں وہ مختلف عہدوں پر کراچی، بہاول پور، ملتان، لاہور اور اسلام آباد میں مقیم رہے۔

وہ زرعی ترقیاتی بنک کے صدر بھی رہے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان، ایران کے ترکی کے باہمی اتحاد و تعاون کے ادارے آر سی ڈی ( ریجنل کووآپریشن فار ڈیولپمنٹ) کے سیکرٹری بھی رہے اور اسی دوران میں انہوں نے انقلاب ایران کا بچشم خود مشاہدہ کیا اور اسی بنیاد پراس موضوع پر اپنی کتاب ”لوح ایام“ تحریر کی۔ یہ ان کی تیسری کتاب ہے۔ اس سے پہلے ”آواز دوست“ اور ”سفر نصیب“ شائع ہوئیں اور بہت مقبول ہوئیں۔ ان کے چوتھی اور آخری کتاب ”حرف شوق“ ہے جو وہ اپنی وفات ( 2017 ) سے پہلے مکمل کر چکے تھے مگر وہ ان کی وفات کے بعد شائع ہوئی۔

مختار مسعود اعلٰی درجے کے نثر نگار ہیں۔ وہ جملوں کی تراش خراش پر بہت محنت کرتے تھے۔ ان کا اسلوب تحریر انشا پردازی کا ایک نادر نمونہ ہے۔ ایک بات اس حوالے سے اہم ہے کہ ان کے اسلوب میں ایک طرح کا ارتقا نظر آتا ہے۔ ”آواز دوست“ کا اسلوب بہت شاعرانہ اور قافیہ پیمائی سے بھرپور ہے۔ ”سفر نصیب“ میں انداز قدرے سادہ ہے، ”لوح ایام“ میں بیانیہ انداز غالب ہے اور ”حرف شوق“ اسی بیانیہ انداز کی ایک توسیعی شکل ہے تاہم الفاظ کی دل کشی، جملوں کا حسن اور تراش خراش وہی ہے جو ان کے ساتھ مخصوص ہے۔ اسلوب کی تہ داری میں کچھ باتوں کا اظہار اور کچھ کا لطیف سا اخفا ان کا مخصوص انداز ہے جو ”آواز دوست“ سے ”حرف شوق“ تک نظر آتا ہے۔

اس مختصر تعارف ان لوگوں کے لئے ہے جو انہیں نہیں جانتے اور اس تحریر کا مقصدان کی نثر نگاری کا تجزیہ نہیں بلکہ صرف ان سے وابستہ چند یادوں کو تازہ کرنا ہے۔ 1973 میں ان کی پہلی کتاب ”آواز دوست“ شائع ہوئی تو دیکھتے ہی دیکھتے اس کی شہرت ہر طرف پھیل گئی۔ اخبارات و رسائل میں اس کا تذکرہ ہوا اور اس کے بعض جملے جگہ جگہ لکھے اور دہرائے گئے۔ بطور ایک طالب علم کے مجھے بھی اس کتاب کے حصول کا شوق ہوا مگر بوجوہ میں کتاب خرید نہ سکا اور میں نے مختار مسعود صاحب کو ایک خط لکھا کہ اگر ممکن ہو تو وہ اپنی کتاب مجھے بلاقیمت بجھوا دیں۔

خط کا جواب انہوں نے کئی ماہ کے بعد دیا اور بتایا کہ بیرون ملک ہونے کی وجہ سے وہ جلدی جواب نہ دے سکے اور یہ بھی لکھا کہ ان کے خیال میں ان کی طویل خاموشی کو میری فرمائش کا مناسب جواب سمجھ لینا چاہیے تھا تاہم انہوں نے جواب لکھا اور کہا کہ وہ کتاب بلا قیمت بھجوا سکتے ہیں مگر ایسا کریں گے نہیں، اس لئے اس ایک فرمائش کی تکمیل سے ہو سکتا ہے، ادھر ادھر سے مزید فرمائشوں کا راستہ کھل جائے اور ان کے لئے ان کو پورا کرنا ناممکن ہو جائے تاہم انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں ملتان میں ان کے دوست منشی عبدالرحمان خان سے ملوں اور ان سے کتاب مستعار لے کر پڑھ لوں۔ اس مقصد کے لئے وہ ان کو خط لکھ رہے ہیں۔ میں منشی صاحب سے ملا مگر میں نے ان سے کتاب نہیں لی اور خود خرید لی۔ منشی عبدالرحمان خان خود بھی کئی کتابوں کے مصنف تھے۔

مختار مسعود مصروف انسان تھے تاہم خطوط کا جوب ضرور دیتے تھے چنانچہ میرے صرف ایک خط کے سوا انہوں نے تمام خطوط کے جواب دیے۔ میرے ایک خط کا جواب انہوں نے جولائی 1975 میں دیا۔ اس خط کا ایک حصہ میں یہاں نقل کر رہا ہوں اور وہ اس لئے کہ اس میں انہوں نے مجھ جیسے نئے لکھنے والوں کو کچھ مفید مشورے دیے تھے۔ یہ خط انہوں نے لاگوس ( نائجیریا ) سے لکھا جہاں وہ کسی سرکاری مصروفیت کے سلسلے میں گئے ہوئے تھے۔

” لاگوس ( نائجیریا)
7 جولائی 1975
عزیزم، السلام علیکم

آپ نے بہت دلچسپ خط لکھا ہے۔ جو سوالات درج ہیں، ان کا جواب خط میں دینا مشکل ہے۔ اگر کبھی اسلام آباد آئیں تو مل کر بات کر لیں۔ مطالعہ ساری عمر جاری رکھیں خواہ اس کے لئے کتنی ہی آسائشیں اور خواہشیں قربان کرنا پڑیں۔ مطالعے میں انتخاب سے کام لیں تاکہ وقت کا زیاں نہ ہو اور ذہن کی تربیت باضابطہ ہو سکے۔ مطالعے سے مشاہدے کو جلا ملتی ہے اور مشاہدے کو تحریر سے تقویت ملتی ہے۔ لکھنے کی مشق کرتے رہیں مگر چھپنے کے شوق کو عرصے تک خاطر میں نہ لائیں۔

والسلام
مختار مسعود ”

ان کے ساتھ میرا ایک اور رابطہ ایک خاص تناظر میں ہوا۔ 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے خلاف اپوزیشن کی تحریک چلی تو پھیلتی چلی گئی۔ سیاسی افراتفری، ہیجان، بے یقینی اور سیاست میں مذہبی نعروں کے نفوذ سے ایک عجیب کشمکش کی فضا نے جنم لیا جس سے امن وامان کے مسائل بھی پیدا ہوئے۔ ہم اس وقت طالب علم تھے۔ یونیورسٹی بند تھی۔ ہم بہت سے معاملات اور سوالات کے پس منظر اور حقیقی اسباب سے محض جزوی طور پر واقف تھے اور کچھ اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہو گا؟

اسی طرح کے سوالات کے تناظر میں میں نے ان کو ایک خط لکھا اور ان سے کچھ سوالات کے جواب حاصل کرنے کی کوشش کی۔ میں ان سے ان سوالات کے جواب ”آواز دوست“ کے مصنف کے طور پر مانگے تھے۔ وہ محتاط آدمی تھے اور قاعدے ضابطے کے اندر رہتے تھے۔ کچھ بات بتا دینا اور کچھ اپنے اسلوب کے پردے میں چھپا دینا جانتے تھے۔ انہوں نے اس خط کا جواب دیا مگر انگریزی میں، اور کہا کہ وہ میرے سوالات کے جواب خط میں نہیں دے سکتے، کبھی ملاقات ہو گی تو جواب ضرور دیں گے۔ پھر یہ اتفاق ہوا کہ کبھی ان سے ملاقات نہ ہو سکی مگر جو سوالات میں نے ان سے پوچھے تھے ان کے جواب مجھے رفتہ رفتہ مل گئے۔ جب دھند اور غبار چھٹا، ہم کچھ اور بڑے ہو گئے، معاملات کو سمجھنے لگے تو پھر وہ سوالات پوچھنے کی ضرورت ہی نہ رہی۔

اسی سال یعنی 1977 کو پاکستان میں علامہ اقبال کے سال ولادت کی مناسبت سے سال اقبال کے طور پر منایا گیا۔ اسی تناظر میں ہماری یونیورسٹی ( اس وقت ملتان یونیورسٹی اور اب بہاءالدین زکریا یونیورسٹی) نے اپنے میگزین ”ملتان یونیورسٹی میگزین“ کا ”دانائے راز نمبر“ شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ میگزین کے ایڈیٹر کی حیثیت سے اور کئی ادیبوں اور شاعروں کی طرح مختار مسعود صاحب کو بھی خط لکھا اور علامہ اقبال کے حوالے سے کچھ تحریر کرنے کی درخواست کی۔

میرا خیال تھا کہ ”آواز دوست“ کے مصنف اپنے مخصوص اسلوب میں ایک خوب صورت تحریر لکھ بھیجیں گے اور واہ واہ ہو جائے گی مگر جواب میں انہوں نے معذرت کی کہ مصروفیات کی وجہ سے وہ کچھ لکھنے سے قاصر ہیں اور اگر وقت میسر بھی آ جائے تو وہ اقبال کے حوالے سے وہ کچھ ایسا نہیں لکھ سکتے جس سے عام آدمی کو کوئی فائدہ مل سکے اور یہ بھی لکھا کہ کہ اقبال کی شاعری تنہائی کے لمحوں میں پڑھ کر لطف اٹھانے اور اسے اپنی ذات کا عملی حصہ بنانے کے لئے ہے۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا وہ آر سی ڈی کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے کئی سال تہران میں میں مقیم رہے۔ اسی دوران میں انقلاب ایران برپا ہوا جس کے لمحے لمحے کا انہوں نے مشاہدہ کیا اور ”لوح ایام“ کے عنوان سے اس انقلاب کی روداد قلم بند کی۔ اسی دوران میں میں نے ان کو ایک خط لکھا اور اس میں کئی اور باتوں کے علاوہ ان کے ایک افسانے ”لمحے“ کا ذکر کیا جو میں نے کہیں پڑھا تھا۔ جواب میں انہوں نے لکھا کہا انہوں نے ”لمحے“ کے علاوہ ایک اور کہانی ”قالین“ بھی لکھی تھی اور یہ دونوں کہانیاں حقیقی واقعات پر مبنی ہیں۔ ان سے مزید کہانیوں کی فرمائشیں ہوئیں مگر وہ ٹال گئے اور ان دو کے علاوہ انہوں نے کوئی اور کہانی نہیں لکھی۔ انہوں نے مجھے ”قالین“ پڑھنے کا مشورہ بھی دیا۔ ا نہوں نے ے یہ بھی لکھا کہ تہران میں لکھنے پڑھنے کے لئے کافی وقت میسر ہے جس پر وہ خدا کا جتنا بھی شکر کریں کم ہے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد وہ لاہور میں مقیم ہوئے اور قریب قریب گوشہ نشین ہو گئے اور جم کر اپنی آخری کتاب ”حرف شوق“ پر کام کیا۔ انہی دنوں میں نے ان کو ایک اور خط لکھا جس میں اور باتوں کے علاوہ ان کو یاد دلایا کہ 1977 میں نے ان سے کچھ سوالات پوچھے تھے جن کے جواب وہ خط میں نہیں دے سکے تھے مگر جواب حاصل کرنے کے لئے میری ان سے ملاقات نہ ہو سکی، تاہم وقت اور حالات نے رفتہ رفتہ مجھے ان سوالات کے جواب فراہم کر دیے تھے اور یہ وہ واحد خط تھا جس کا جواب انہوں نے نہیں دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply