کرونا وبا میں کمی یا اعداد وشمار کا گھوٹالا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اعداد وشمار کے ذریعے حکومت عوام کو یہ تاثر دینے میں کامیاب نظر آ رہی ہے کہ اس کی اختیار کردہ متفرد سمارٹ لاک ڈاؤن پالیسی کے نتیجے میں شاید کرونا وباءکے پھیلاؤ میں کمی اور معاشی شعبے میں بہتری آ گئی ہے۔ کرونا وباءمیں کمی کے لئے اعداد شمار کا جس طرح سہارا لیاگیا ہے اس میں حکومت کی کرونا ٹیسٹ کے متعلق (کم از کم بلوچستان میں ) میں صلاحیت واستعداد کار ملحوظ رکھی جائے تو صورتحال کو امید آفزاءسمجھنا احمقانہ عمل ہوگا۔

نئے مالی سال کی بجٹ تقریر میں بتایا گیا تھا کہ بلوچستان میں کرونا کے ٹیسٹ کی استعداد بڑھا کر 1500 ٹیسٹ روزانہ کردی جائے گی اس اعتبار سے جولائی میں صوبے میں کرونا کے ٹیسٹ زیادہ مقدار میں ہونے چاہیے تھے لیکن عملی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت صوبے میں روزانہ تین سو سے کم ٹیسٹ ہورہے ہیں کیا ٹیسٹ کم ہونے کا یہ عمل بیماری کم ہونے کا علمبردار ہے یا یا ٹیسٹ کرنے سے گریز کی پالیسی کا؟

اگر حکومت کے پاس کرونا کی ٹیسٹ کٹس وافر موجود ہیں تو عوام کو مطلع کیا جانا چاہیے کہ حکومت کے پاس کتنی تعداد میں مذکورہ کٹس دستیاب ہیں؟

بالفرض کٹس کی مقدار معقول حد تک موجود ہو تو بھی یہ پوچھنا مناسب ہوگا کہ پھر حکومت دستیاب کٹس کو استعمال کیوں نہیں کررہی؟ اگر کٹس استعمال نہ کی گئیں تو اپنی مدت میعاد ختم ہونے پر بے کار ہو جائیں گی اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ اگر کٹس زائد از ضرورت ہیں تو۔ زیادہ کی خریداری کیوں ہوئی؟ بنا ٹیسٹ کیے اگر کٹس ضائع ہو گئیں تو مالی نقصان کی ذمی داری کون لے گا؟ کیا سرکاری ادارے ہسپتالوں تک پہنچنے والے افراد کا ہی ٹیسٹ کر رہے ہیں؟ خود گلی محلوں و دیہات میں جا ک۔ ۔ ۔ جیسا کہ ڈبلیو ایچ او کا مقررہ معیار ہے۔ ۔ ۔ ۔ ٹیسٹ کر رہے ہیں؟ وباءکی کیفیت کا تخمینہ ہسپتال پہنچنے والے افراد کی تعداد سے لگانا

قرین ٍ حقیقت نہیں کیونکہ کرونا وباءکے بے شمار مریض اپنے گھروں پر علامات ظاہر ہونے کی صورت میں علاج و احتیاطی تدبیر اختیار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ہسپتال جانے والے مریضوں کے ساتھ ہونے والے سلوک اور مسائل کی ”کہانیوں“ نے طبی اداروں پر اعتماد مجروح کیا ہے ( طبی عملے کی خدمات اپنی جگہ لائق ستائش ہیں ) علاوہ ازیں بہت سے افراد ایسے ہیں جو کرونا کے مریض ہوئے اور بنا کسی علاج کے محض اپنی جسمانی قوت مدافعت سے صحتیاب ہوچکے ہیں انہیں خود بھی علم نہیں ہے کہ وہ کرونا مرض سے نبرد آزما رہ چکے ہیں یہی وہ حلقہ ہے جس کی نشاندھی لازم تھی کہ ایسا فرد جانے بوجھے بغیر کرونا وبا پھیلانے کا باعث بن رہا ہوتا ہے۔ چنانچہ رینڈم ٹیسٹ ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو پوشیدہ کرونا متاثرین کی نشاندہی کرتا اور وبا کے پھیلاؤ یا اس کے تدارک کے بارے نتیجہ اخذ کر نے کا موثر ذریعہ ہے۔ 21 جولائی کو کراچی میں کیے گئے ٹیسٹوں کے نتائج انتہائی خوفناک رہے کیونکہ مثبت نتائج کی تعداد زیادہ تھی۔

بلوچستان میں کرونا کے بارے میں حکومتی اعداد وشمار اور دعوے قابل اعتبار نہیں۔ بدھ 22 جولائی تک حکومت کے بیان کے مطابق صوبے میں اب تک کرونا سے کل 136 اموات واقع ہوئی ہیں جبکہ غیر سرکاری ذرائع سے ملنے والی معتبر اطلاع کے مطابق عیدالفطر کے بعد ایک ماہ کے دوران صرف سوئی کے علاقے میں 68 افراد مصدقہ طور پر کرونا کے ہاتھوں جان کی بازی ہار چکے ہیں علاوہ ازیں۔ پی پی ایل کمپنی کے ملازمین میں سے 6 جاں بحق ہوئے ہیں۔ پی پی ایل نے اپنے ملازمین کو کرونا سے بچانے کے لئے معقول انتظامات سے مکمل گریز کیا تھا

سوئی شہرمیں جو 68 افراد جاں بحق ہوئے ہیں وہ مسلمہ طور پر کرونا کے مریض تھے اگر حکومت بلوچستان کی بیان کردہ اموات کی تعداد یعنی 136 میں سوئی کے مذکورہ باشندے شامل ہیں تو کیا حکومت بتائے گی کہ اس نے سوئی میں کرونا وباءسے بچنے اور عوام کی جان سلامتی یقینی بنانے کے لئے کون سے اقدامات کیے تھے؟ اور اگر سرکاری بیانیے میں جاں بحق ہونے والے 136 افرد میں سوئی کے 72 = 6 + 68 افراد شامل نہیں تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وباءکے آغازسے اب تک صوبے کے اندرونی علاقوں میں کتنی قیمتی جانوں کا اتلاف ہوچکا ہے؟

معلوم ہوا ہے کہ سوئی میں کرونا کے پھیلاؤ کی ندافعت کے لیے ڈپٹی کمشنر نے فوری طور ہر قسم کی نقل وحمل پر پابندی کے لئے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا جسے اگلے ہی روز صوبائی حکومت کے حکمنامہ پر ڈی سی ڈیرہ بگٹی نے باقاعدہ حوالہ دے کر اپنے نوٹی فیکشن کو معطل کیا تھا؟ کیا اس اقدام کی توضیح ممکن ہے؟ کیا حکومت کرونا وبا سے عوام کو بچانے کے عمل میں غفلت کی مرتکب نہیں ہوئی؟ کیونکہ سوئی میں پہلا کیس ملتان سے آیا تھا جہاں سے واپس آنے والا پی پی ایل کا ملازم کرونا کا مریض تھا۔

کیا سوئی گیس کمپنی اس غفلت ولاپرواہی میں شریک نہیں؟ حیرت انگیز نکتہ یہ ہے کہ جب کرونا عروج پر تھا تو کمپنی نے کینٹین بند کر کے کھانا، چائے اور پانی ودیگر اشیاءخورد و نوش ملازمین کے دفتروں تک پہنچانے کا اہتمام کیا لیکن مذکورہ سروس مہیا کرنے والے اہلکاروں کے ٹیسٹ کرانے سے مکمل انحراف برتا گیا۔ کہانیاں اور بھی ہیں۔ عرض یہ کرنا ہے کہ عوام کے اذھان میں کرونا بارے غیر حقیقی تاثر یا رویہ پیدا کرنے والے اعداد وشمار بیان کرنے اور اس نوعیت کے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔

اس انداز کے بیانیے سیاسی فتوحات تو ثابت کر سکتے جبکہ ان کے ذریعے عوام کے ذہن میں لاپرواہی پروان چڑھتی ہے عیدالاضحی کے موقع پر بکرا منڈیوں کے اہتمام۔ عید کی نماز اور قربانی کے اعمال تک جس طرح کے احتیاط کی ضرورت ہے ان پر عمل میں ذہنی رکاوٹ پیدا ہوگی تو حکومت کروبا میں پھیلاؤ کی ساری ذمہ داری لوگوں کی بے احتیاطی کے گلے ڈال کر اپنا دامن بچالے گی عید محرم اور 12 ربیع الاول ایسے مواقع ہیں جو کرونا وباءپھیلانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں حکومت ان مواقع پر مناسب اور عالمی ادارہ کے طے کردہ معیاری حفاظتی اقدامات پر عمل کرانے کی استعداد سے یکسر عاری دکھائی دے رہی ہے۔

تو عامتہ الناس کو اپنی اور اپنے پیاروں کی بھلائی کے لئے خود رضاکارانہ طور پر محتاط رہنا ہوگا کرونا اگر کم بھی ہوا ہے تو بھی اس کا خاتمہ تو نہیں ہوا۔ حکومتی اعداد وشمار کی بجائے اپنے آس پاس ہونے والے واقعات اور اچانک اموات کی بڑھتی تعداد کو مد نظر رکھیں یہ تمام سانحات کرونا وباءکے پیدا کردہ ہیں جو کرونا کی موجودگی کی نشاندھی کرتے ہیں۔

حکومتوں کا منتخب ہونا ہی جمہوری ہونے کے لئے اہم نہیں انہیں جمہور نواز بشر دوست اور انسانیت کی فلاح صحت عامہ اور آسودگی کو پہلی ترجیح دینے کی ضرورت ہوتی ہے بد قسمتی سے ہماری منتخب شدہ حکومتیں بھی انتخابات کے عمومی و معیاری پیمانے پرپورا نہیں اترتیں تو ان سے جمہور کے مفاد کی امید و توقع کیسی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *