ہم پردیسی کب ہوتے ہیں


\"nibras01\"چند روز پہلے ایک دوست نے وٹس ایپ پہ مجھے گیت بھیجا۔ گھر آ جا پردیسی تیرا دیس بلائے رے۔ اور پوچھا اپنا شہر یاد نہیں آتا تو دل میں کسی کیمییائی عمل کی طرح ایک گرم سیال مادہ اُبلا اور ضبط کی حد پہ پہنچ کر تھم گیا۔ یاد کیوں نہیں آتا؟ بس تذکرہ نہیں ہوتا۔ اور تذکرہ بھی صرف اُسی رشتے کا نہیں ہوا کرتا جو ہمارے لئے بہت خاص ہوتا ہے۔ دل کی بستی تو ہمیشہ وہیں بسی رہتی ہے جہاں دل کے دھڑکنے کا احساس پہلی بار کیا جاتا ہے۔

وہ شہر ہے کہ میری ذات کا مسکن۔ کئی برس ہو گئے پردیس میں۔ پر میں ہوں کہ اب تک وہیں ہوں۔ شاید ہجرت ہمیشہ وجود کی ہی ہوا کرتی ہے۔ دل اور رشتے کبھی ہجرت نہیں کرتے۔ یہ اپنی زمین ہی میں پیوست رہتے ہیں۔ ایسا ہی رشتہ میرا بھی اپنے شہر بہاولپُور سے ہے جس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ یہ رشتہ بظاہر ایک خشک، بے رنگ ٹال سہی مگر زندگی اور ہوئیدگی کی اپنے آپ میں ایک دلیل ہے۔ میری روح اب بھی وہیں کی بارش سے سیراب ہوتی ہے۔ اتنے برسوں میں کوئی ایسا ساون نہیں گزرا جو میں نے اس شہر کی گلیوں میں پڑتی بوندوں اور مٹی کی سوندھی خوشبو کی یاد میں نہ بتایا ہو۔ اُن گلیوں کی ٹھنڈی دھوپ اور نرم چھائوں دل کی مُنڈیر پہ اُسی طرح یادوں کے نقش بناتی اور مٹاتی ہیں جس طرح کبھی یہ میری آنکھوں میں ہزار خواب لکھ جایا کرتی تھیں۔ نو عمری کے خواب زمان و مکان کی قید سے آزاد ہی تو ہوا کرتے ہیں۔ میں نے بھی کب سوچا تھا کہ کبھی اُن بھلے دنوں کو یوں نمناک آنکھوں سے یاد کیا کروں گی۔

بظاہر ایک ریاست کا روائتی لبادہ اوڑھے یہ شہر کچھ لوگوں کو آج بھی پسماندہ لگتا ہو گا پر میں نے اپنی رشتے کی پھوپھو کو وہاں ان دنوں( اسّی کی دہائی میں) ویسپا چلا کے سودا سلف لاتے دیکھا کہ جب میری جنم بھومی لاہور کی خواتین بھی یہ تجربہ کرتی نظر نہیں آتی تھیں۔ یہاں دُور دُور تک ریت کے ٹیلے دکھتے تھے اور شہر کے اطراف کو ملاتی ایک پگڈنڈی سی سڑک تھی جو آمدورفت کی وجہ سے اپنا وجوُد قائم رکھے ہوئے تھی باقی سب موہوم سے رستے تھے۔ بس اسی پہلے دورے میں ہی فیصلہ ہو گیا تھا کہ ہم سعودی عرب سے لوٹنے کے بعد اپنے آبائی شہر لاہور کی بجائے یہیں اپنا گھر بنائیں گے۔ ابّو کو امپریس کرنے کے لیے اس چھوٹے سے شہر میں میڈیکل کالج اور یونیورسٹی کا وجود کافی تھا اور اّمی کو اس شہر کا بے پناہ سکون۔

بس پھر اسی سکون کی ہم سبھی بہن بھائیوں کو ایسی عادت ہوئی کہ بہاولپور کے علاوہ کہیں سکون نہ ملتا۔ لاہور میں بسا ہمارا پورا خاندان، ننھیالی ددھیالی، حیران ہوتے اور جب ہر عید تہوار پہ انتظار کی زحمت سے گزرتے تو ناراض بھی ہوتے کہ بس اب پردیس چھوڑ دو اور اپنے شہر لاہور لوٹ آؤ پر یہ بات ہم نے چھوٹی عمر میں ہی سیکھ لی تھی کہ جہاں دل بس جائے وہی دیس باقی سب پردیس۔
ہم شروع شروع میں زیادہ تر تیزگام سے سفر کرتے تھے۔ اس نغمے میں بجتی ریل کی سیٹی اور کھیتوں کی منظر کشی، ہمارے اس سفر کی بلکل بجا عکّاسی کرتے ہیں۔ ٹرین کی کھڑکی سے نظر آتے ہرے بھرے کھیت، کھیتوں میں تیز گلابی اور چبھتے زرد رنگ کی چنری اوڑھے خواتین، ننگے پیروں دوڑتے بھاگتے بچے۔ پھر اسٹیشنوں کی ہلچل، ریل گاڑی کی خود ساختہ دھُن اور نیند کے ہچکولے۔ ٹرین کی کھڑکی منظر بہ منظر ایک مسلسل تصویر دکھاتی چلی جاتی۔ کوئی اس طرح پکار لے تو وہ یادیں آج بھی ذہن کے پردے پر فلم کی رِیل کی طرح چلنے لگتی ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ بہاولپور سٹیشن پر پہنچتے ہی وہاں کی خاموشی کیسی اپنائیت سے ہمارے کان میں باتیں کرنے لگتی اور لاہور کے ہنگاموں کی تھکن اب آرام کو بے چین ہوتی۔ ہماری ماں کو یہی خاموشی اور سکون پسند تھا تبھی تو ہمیشہ کے لئے وہیں کی ہو رہیں۔ امّی چند ہی دن میں لاہور کی گہما گہمی، تصنع اور غیر منطقی رسوم و رواج سے گبھرا جایا کرتی تھیں۔ ہم جب واپسی کے سفر کے لئے روانہ ہوتے تو ہمارے چہروں کی اُداسی بھی رشتے داروں کو یقین نہ دلا پاتی کہ ہماری محبت اور خلوص میں کوئی کھوٹ نہیں کیونکہ سوال وہی ہوتا کہ پھر وہاں کیوں بسے ہو؟ بات بس اتنی سی تھی کہ ان پودوں نے اپنی زمین پکڑ لی تھی۔

یادیں بھی نا۔ اچھے خاصے خوشی بھرے لمحوں کی بات پر بھی رُلا ڈالتی ہیں۔ پردیس میں رہنے والے یوں بھی ہر اچھی یاد پہ روتے اور ہر خوشی کے موقع پر اُداس ہو جاتے ہیں۔ ان کی ہر بات کا تعلق اپنے شہر، اپنے گاؤں سے جا ملتا ہے۔ وطن سے دور اپنے روائتی دیسی انداز اپنانے کی اداکاری ہر وقت جاری رہتی ہے۔ ہم کسی اور دھرتی پہ سال ہا سال بسر تو کرتے ہیں پر ہم پردیسی کب ہوتے ہیں!

میں بھی کئی برس سے بہاولپور کی اُن برساتوں کو یاد کرتی ہوں جو صرف دعاؤں سے ہاتھ آیا کرتی تھیں اور اُن خنک شاموں کو جو صحرا جیسی وسعت اور سخاوت رکھتی تھیں۔ اس دسمبر وہاں جانے کی خوشی میں کئی بار رو دیتی ہوں کہ اب وہاں اّمی نہیں ہیں۔ سفر ہے سرد صحرا کا اور حدت کا سامان نہیں۔ لیکن امّی کے نہ ہونے سے اس شہر سے رشتہ اور بھی گہرا ہو گیا ہے۔

Facebook Comments HS