فیض احمد فیض کی کتابوں کی اشاعت کے مختلف دلچسپ مرحلے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(ضیاء کھوکھر)

1۔ میری معلومات کے مطابق فیض احمد فیض کی شاعری کا اولین مجموعہ’’ نقشِ فریادی‘‘ مکتبہ اُردو لاہور نے 1941 میں شائع کیا تھا۔ اس کے بعد دسمبر 1952 میں جناب رؤف ملک نے ’’دستِ صبا‘‘ پیپلز پبلشنگ ہاؤس لاہور کے زیرِ اہتمام شائع کی تھی ان دنوں فیض صاحب حیدرآباد جیل میں تھے۔ پاکستان میں کسی کتاب کی رونمائی کی اولین تقریب ’’دستِ صبا‘‘ کے پبلشر رؤف ملک (پیپلز پبلشنگ ہاؤس) نے ’’دست صبا‘‘ کے حوالے سے مال روڈ لاہور کے ہوٹل ارجنٹینا میں منعقد کی تھی۔ اس تقریب کی صدارت عبدالرحمٰن چغتائی مرحوم نے کی تھی۔ فیض احمد فیض کی شاعری کے حوالے سے احمد ندیم قاسمی نے آرٹیکل پڑھا تھا۔ رؤف ملک نے زبانی گفتگو کی تھی۔ ایلس فیض بھی شریک محفل تھیں۔ سلیمہ ہاشمی نے سب حاضرین کو ایک ایک کتاب (دستِ صبا) تُحفہ کے طور پر پیش کی تھی۔

2۔ چودھری عبدالحمید (مرحوم) کے ادارہ ’’مکتبہ کارواں‘‘ لاہور نے 1955 ء یا 1956ء میں ’’زنداں نامہ‘‘ شائع کی اور اس کے ساتھ ہی ’’نقش فریادی‘‘ اور’’ دستِ صبا‘‘ کا نیا ایڈیشن شائع کیا تھا۔

3۔ 23 مارچ 1970ء کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں نیشنل عوامی پارٹی بھاشانی گروپ کے زیر اہتمام کسان کانفرنس منعقد ہوئی۔ اِس کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی بڑی شان و شوکت کے ساتھ شامل ہوئی تھی۔ اس کانفرنس میں مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما مولانا عبدالحمید بھاشانی اور مسیح الرّحمان نے شرکت کی تھی۔ مسیح الرّحمان کی اس کانفرنس میں تقریر کو قابلِ اعتراض قرار دیتے ہوئے سمری ملٹری کورٹ نے ایک سال قید کی سزا دی تھی۔

4۔ فیض احمد فیض نے اس کانفرنس میں اپنی مشہور و معروف نظم ’’سرِ وادیِ سینا‘‘ پڑھی تھی۔ جس کے درجِ ذیل دس مصرعے آناً فاناً زبان زدِ خاص و عام ہوگئے تھے۔

سُنو کہ شاید یہ نورِ صیقل
ہے اس صحیفے کا حرفِ اوّل
جو ہر کس و ناکسِ زمین پر
دل گدایانِ اجمعین پر
اُتر رہا ہے فلک سے اب کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سُنو کہ اس حرفِ لَم یزل کے
ہمیں تمہیں بندگانِ بے بس
علیم بھی ہیں خبیر بھی ہیں
سُنو کہ ہم بے زبان و بے کس
بشیر بھی ہیں نذیر بھی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نظم کے خلاف اس زمانہ کے رجعتی پریس نے بہت شور مچایا تھا۔ فیض احمدفیض نے اپنا مجموعۂ کلام’’سَرِوادیِ سینا‘‘ مرتب کرتے وقت یہ پوری نظم اس میں شامل کی تھی۔ اس موقع پر مکتبہ کارواں، لاہور کے مالک چودھری عبدالحمید نے فیض صاحب کو رائے دی کہ یہ نظم نکال دی جائے۔ فیض صاحب نے یہ بات تسلیم سے انکار کردیا۔ اور اپنا یہ مجموعۂ کلام مکتبہ دانیال کراچی کو اشاعت کے لیے دے دیا۔ اس کے بعد فیض صاحب کا ایک اور مجموعہ ’’مرے دل مرے مسافر‘‘ بھی مکتبہ دانیال کراچی نے شائع کیا تھا اور یہ دونوں مجموعے ابھی تک مکتبہ دانیال، کراچی کے زیرِ اہتمام شائع ہورہے ہیں۔
5۔ جب فیض صاحب نے اپنی کلیات ’’نُسخہ ہائے وفا‘‘ چھپوانے کا ارادہ کیا تو چودھری عبدالحمید مکتبہ کارواں، لاہور نے کلیات چھاپنے کی حامی بھرلی۔ جب یہ کلیات مارکیٹ میں آئی تو اس میں مذکورہ نظم کے دس مصرعے شامل نہ تھے۔ اِس مکمل نظم کے مجموعی طور پر چھتیس مصرعے ہیں۔ شروع کے سترہ مصرعے ’’نُسخہ ہائے وفا‘‘ کے صفحہ نمبر 421 پر شائع ہوئے ہیں۔ اِس کے بعد کے دس مصرعے غائب ہیں۔ جن کا ذکر اوپر آگیا ہے اور آخری نو مصرعے ’’ندائے غیب‘‘ کے عنوان سے ’’نُسخہ ہائے وفا‘‘ کے صفحہ نمبر 619 پر شائع ہوئے ہیں۔ فیض صاحب ان دنوں ملک سے باہر غالباً ماسکو میں تھے۔ میں نے اس کے بارے میں پیپلز پبلشنگ ہاؤس، لاہور کے رؤف ملک صاحب سے بات کی۔ اُنہوں نے فیض صاحب سے رابطہ قائم کیا۔ اور یہ بات فیض صاحب کے لیے بھی حیرانگی کا باعث تھی۔ فیض صاحب نے بتایا کہ جب اُنہوں نے آخری پروف دیکھے تھے اس وقت تو یہ ساری نظم شامل تھی۔ ان کے بقول پبلشر موصوف نے اِس نظم کے دس مصرعے ان کی اجازت کے بغیر کتاب سے نکال دیئے تھے۔
6۔ ماسکو سے واپس آنے کے بعد ان کے ذہن سے یہ بات نکل گئی غالباً کسی نے اِس طرف توجہ نہیں دلائی ہوگی۔
7۔ 1985ء میں پاکستان اکیڈیمی آف لیٹرز کے موجودہ چیئرمین فخر زمان (جو اس وقت پی پی پی پنجاب کے نائب صدر برائے ثقافتی امور تھے) کے گھر ماڈل ٹاؤن لاہور میں ادیبوں شاعروں اور دانشوروں کا ایک اجتماع ہوا تھا۔ اس موقع پر میں نے فیض احمد فیض کی کلیات سے اس مشہور نظم کے دس مصرعے خارج کرنے بارے میں بات کی تھی۔ سابق گورنر پنجاب مسٹر سلمان تاثیر صاحب مرحوم (جو اُن دنوں پی پی پی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات تھے) نے وعدہ کیا تھا کہ وہ فیض صاحب کی فیملی کو اِس بارے میں مطلع کریں گے۔
8۔ ’’ہم جیتے جی مصروف رہے‘‘۔ مجھے یقین ہے کہ فیض احمد فیض کی نظموں/غزلوں کے پسِ منظر کے حوالہ سے آغا ناصر کی یہ تالیف / تصنیف اُردو لٹریچر میں ایک نئے ’’ٹرینڈ‘‘ کی بنیاد ثابت ہوگی۔ اِس کتاب کے بعض حوالہ جات کے بارے میں آغا ناصر صاحب سے کافی دفعہ میری بات ہوچکی ہے اور میں ان کی کمال شفقت اور محبت کا معترف ہوں کہ اُنہوں نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی ہے۔ آغا ناصر صاحب نے اپنی تصنیف/ تالیف ’’ہم جیتے جی مصروف رہے‘‘ میں ’’سروادیِ سینا‘‘ کا پسِ منظر بیان کیا ہے (صفحہ 97)۔ آغا صاحب کی تحریر تاریخی حوالوں پر مبنی ہے اور اِس میں مشرقِ وسطیٰ کے حالات کا تفصیلی تذکرہ ہے مگر اُنہوں نے بھی اس نظم کے صرف سترہ مصرعے شامل کئے ہیں۔ اور ان کی تالیف ’’ہم جیتے جی مصروف رہے‘‘ اس مشہور اور تاریخی نظم کے باقی انیس مصرعوں کے بارے میں خاموش ہے۔
9۔ فیض احمد فیض کی کلیات کی اشاعت کے موقع پر سرِورق (ٹائیٹل) کے لیے ’’نُسخہ ہائے وفا‘‘ اور ’’فیض احمد فیض‘‘ (اِن الفاظ) کی کتابت پاکستان کے معروف خوشنویس محمد یوسف نگینہ نے کی تھی۔ نگینہ صاحب ان دنوں روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ لاہور کے ’’خطاطِ اعلیٰ‘‘ تھے اور پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ میں بھی ملازمت کرتے تھے۔ میں ان دنوں اسی ادارہ میں ملازم تھا۔ مجھے یاد ہے کہ مکتبہ کارواں کے مالک چوہدری عبدالحمید مرحوم بنفسِ نفیس پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ گلبرگ کے دفتر میں \"andتشریف لائے۔ یوسف نگینہ صاحب نے چوہدری عبدالحمید صاحب کی تحریر اور ان کی ہدایت کے مطابق ’’نُسخہ ہائے وفا‘‘ کو ’’نُسخہائے وفا‘‘ لکھ دیا۔ میں نے اس میں غلطی کی نشاندہی کی کہ’’ ن‘‘ ’’س‘‘ ’’خ‘‘ کے بعد ’’ہ‘‘ آنی چاہیے اور اس کے بعد ’’ہائے‘‘ آنا چاہیے۔ مگر چودھری صاحب نے میری بات ماننے سے انکار کردیا۔ ازراہِ مذاق میں نے چودھری عبدالحمید صاحب کو کہا کہ یہ تو ’’نُسخ ہائے وفا‘‘ ہے ،’’ نُسخہ ہائے وفا‘‘ نہیں ہے۔ پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ کے راجہ رشید محمود نے بھی میری بات کی تائید کی مگر چودھری عبدالحمید نہ مانے اور اُنہوں نے اوّلین ایڈیشن کا ٹائیٹل اسی طرح چھاپ دیا۔ بعد ازاں میرے اصرار پر چودھری عبدالحمید مرحوم نے فیض احمد فیض سے مشورہ کیا تو فیض صاحب نے میری بات کی تائید کی۔ اس کے بعد یوسف نگینہ صاحب سے دوبارہ ’’نُسخہ ہائے وفا‘‘ لکھوایا گیا۔ آج کل ’’نُسخہ ہائے وفا‘‘ کا جو ایڈیشن مارکیٹ میں دستیاب ہے اس کی ساری کتابت کمپیوٹر سے ہوئی ہے مگر ٹائیٹل پر اب بھی یوسف نگینہ صاحب کے ہاتھ کے کتابت شدہ الفاظ ’’نُسخہ ہائے وفا‘‘ اور ’’فیض احمد فیض‘‘ موجود ہیں۔
* اس وقت مارکیٹ میں فیض احمد فیض کی کلیات ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ کا جو ایڈیشن دستیاب ہے۔ اس کے صفحہ نمبر655 پر فیض احمد فیض کی مشہور و معروف نظم ’’تَبقٰی وَجہُ رَبّکَ‘‘ شائع ہوئی ہے۔ یہ نظم ان دو مصرعوں سے شروع ہوتی ہے۔
’’ہم دیکھیں گے‘‘
’’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘
اور نظم کا خاتمہ ان دو مصرعوں پر ہوتا ہے۔
’’اور راج کرے گی خلقِ خُدا‘‘
’’جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو‘‘
* یہ نظم ان کی شاعری کے مجموعہ ’’مرے دل مرے مسافر‘‘ میں صفحہ نمبر 21 پر شائع ہوچکی ہے (بحوالہ ’’مرے دل مرے مسافر‘‘۔ مطبوعہ مکتبہ دانیال کراچی ایڈیشن 2008ء)

* یہ نظم ہم نے کئی بار فیض احمد فیض صاحب سے (کلامِ شاعر بزبانِ شاعر) سنی ہوئی ہے۔ بعض سنگرز نے بھی اس نظم کو بڑے خوبصورت انداز سے گایا ہے۔
* اپریل 1986ء میں محترمہ بینظیر بھٹو جلاوطنی سے واپس آئیں تو مجھے ان کے ساتھ پاکستان کے بے شمار شہروں اور قصبات میں جانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ میں نے پورے پاکستان کے شہروں میں نوجوان نسل کو یہ نظم لہک لہک کر اور بڑے انقلابی جوش و خروش سے پڑھتے، گاتے اور اس کی دھنوں پر پہروں ڈانس کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ان دنوں یہ نظم کاروانِ جمہوریت کے ترانہ کی حیثیت اختیار کر چکی تھی۔
* 2007 اور 2008 میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی بحالی کی تحریک میں بھی یہ نظم پورے پاکستان کے شہروں میں پڑھی اور گائی جاتی رہی ہے۔
* جب ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ کا پہلا ایڈیشن شائع ہوا تو یہ نظم اس میں شامل نہ تھی۔ ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ کا یہ ایڈیشن گوجرانوالہ میں میری ذاتی کتابوں میں موجود ہے اس کے علاوہ معروف ترقی پسند دانشور مسز کشور ناہید اور میاں اسماعیل ضیا مرحوم (گوجرانوالہ) کے بیٹے شاہد رضوان کے پاس بھی ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ کا یہ ایڈیشن موجود ہے۔
* میرے سمیت فیض صاحب کے عقیدت مندوں اور مداحین نے ان کی توجہ اس طرف مبذول کروائی تو انہوں نے یہ نظم ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ کے نئے ایڈیشن میں دوبارہ شامل کروائی۔

_________________

یہ مضمون اس سے پہلے پاک ٹی ہاؤس بلاگ میں شائع ہوا۔

اس سیریز کے دیگر حصےفیض صاحب کی چھ منفرد خوبیاںفیض احمد فیض، فیض فیسٹیول میں
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “فیض احمد فیض کی کتابوں کی اشاعت کے مختلف دلچسپ مرحلے

  • 21/11/2016 at 8:01 pm
    Permalink

    “زندان نامہ” کا ایک بہت خوبصورت ایڈیشن انجمن ترقی اردو (ہند) نے دہلی سے ۱۸۵۷ میں شائع کیا تھا۔ دبیز کاغذ، ٹائپ کی کتابت، چھوٹا سائز، اور سرورق مشہور مصور ستیش گجرال کا بنایا ہوا۔ تعارفی مضمون آل احمد سرور صاحب کا۔ ایک ہزار کی اشاعت ہاتھوں ہاتھ بک گئی تھی۔

Leave a Reply