ایک دوست کی کہانی: خلیل جبران کی زبانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں اپنے اس دوست کو نوجوانی کے اس دور سے جانتا تھا جب وہ زندگی کی راہ بھٹک چکا تھا جب وہ اپنی خواہشات کی شہ پر موت سے ہولی کھیلنے سے باز نہ آتا تھا۔ میں اسے اس دور سے جانتا تھا جب اس کی تشنہ آرزوئیں اسے نفسانی خواہشات کی بے جا تکمیل کے سمندر میں دھکیلے چلی جاتی تھیں۔ میں اسے اس وقت بھی جانتا تھا جب وہ گاؤں میں ایک ظالم لڑکے کی طرح جانا جاتا تھا جس کا مشغلہ معصوم پرندوں کے گھونسلوں کو تباہ و برباد کرنا اور ان کے بچوں کو قتل کر دینا ہوتا تھا۔ جسے راہ چلتے ہوئے پھولوں کی کیاریوں کو مسل دینے میں کوئی عار نہیں تھا۔ میں اسے اس وقت بھی جانتا تھا جب وہ اپنے لڑکپن میں اسکول کے امن اور سکون سے بیزار تھا اور پڑھائی سے نفرت کرتا تھا۔

مجھے اس سے اس وقت بھی آشنائی حاصل تھی جب وہ سربازار اپنی اور اپنے والدین کی عزت کو نیلام کرتا تھا اور اپنے خاندان کی دولت کو گناہ کی زندگی میں صرف کرنے میں کوئی دریغ نہ کرتا تھا۔

ان سب باتوں کے باوجود مجھے اس سے انس تھا ’لگاؤ تھا‘ اسے دیکھ کر میرا دل بھر آتا تھا۔ اس کا طرز زندگی دیکھ کر مجھے دکھ ہوتا تھا مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ دل کا برا نہیں۔ لیکن ایسے موقعوں پر اس کی کمزوریاں اس پر غالب آجاتی تھیں۔

بعض اوقات انسانی روح دانائی کی راہ سے طویل عرصہ تک کتراتی رہتی ہے ’لیکن بالآخر راہ راست پر آجاتی ہے۔ بعض اوقات نوجوانی حرص و ہوا کی وہ آندھیاں چلاتی ہے کہ کچھ عرصے کے لیے چاروں طرف اندھیرا چھا جاتا ہے اور منزلیں دکھائی نہیں دیتیں۔

میرے دل میں میرے دوست کے لیے نیک خواہشات کا سمندر موجزن تھا مجھے یقین تھا کہ اس کے دل میں حقیقت کے بیچ موجود ہیں جنہیں کونپلیں بننے کا موقع نہیں ملا۔ مجھے یقین تھا کہ اس کے قلب میں صحتمند توانائی کی کرنیں موجود ہیں جنہوں نے ابھی بزدلی کے اندھیروں پر غلبہ حاصل نہیں کیا۔ انسانی ذہن ایک منصف ہے جو انصاف کا پرچار کرتا ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ بعض دفعہ اس کی کمزوریاں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے میں حائل ہوتی ہیں۔

مجھے اپنے دوست سے محبت تھی اور محبت اپنے آپ کو کئی طریقوں سے ظاہر کرتی ہے بعض دفعہ دانائی کی صورت میں بعض دفعہ انصاف کی صورت میں اور اکثر اوقات امید کے پیکر میں۔ مجھے امید تھی کہ ایک دن اس کے دل کی روشنی اس کی زندگی اور غموں کی تاریکیوں پر فتح حاصل کرے گی۔ یہ علیحدہ بات ہے ’مجھے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ کون سا مقام ہے جس پر پہنچ کر انسان کا ظلم مہربانی کا اس کی کم علمی حکمت کا روپ دھارنا شروع کر دیتے ہیں بعض دفعہ انسان کو اس کی روح کے آزاد ہونے اور پھول کھلنے کا۔ ۔ ۔ اس وقت تک اندازہ نہیں ہوتا جب تک وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور ذات کی گہرائیوں سے محسوس کرنے کے تجربے سے نہ گزرے۔

صبحیں شاموں میں ڈھلتی رہیں اور شامیں صبحوں کا روپ اختیار کرتی رہیں میرے دل میں اپنے دوست کے لئے دکھ اور غم کے سیاہ پھول کھلتے رہے جب بھی اس کی یاد آتی میرے دل میں ہوک سی اٹھتی اور میں ایک لمبی آہ بھر کر رہ جاتا۔ آخرکار کل مجھے اس کا خط ملا ’نوشتہ تھا کہ اے میرے دوست! مجھ سے ملنے آؤ میں تمہیں ایک ایسے شخص سے ملانا چاہتا ہوں جسے مل کر تمہارے دل کو سرور اور تمہاری روح کو تسکین ملے گی۔

میں نے ٹھنڈی آہ بھری اور سوچا۔ ۔ ۔ افسوس! کیا اس شخص نے ایک اور شخص پا لیا ہے جو بھٹکی راہوں پر چلنے میں اس کا تعاون کرتا ہے اور منزل سے دور جانے میں اس کا ہمسفر ہے کیا ایک شخص کم تھا جو اب یہ مجھے ایک اور سے ملانا چاہتا ہے۔ لیکن پھر میں نے سوچا کہ میں ضرور جاؤں گا۔ کیا خبر کب جہالت اور بے راہ روی کے گھپ اندھیروں میں امید اور شعور کا ستارہ ٹمٹمانا شروع ہو جائے۔

جب سورج غروب ہوا تو میں اپنے دوست سے ملنے گیا وہ اپنے کمرے میں تنہا بیٹھا بڑی سنجیدگی سے مطالعے میں مصروف تھا۔ ملاقات کے بعد میں نے پوچھا

”ہمارا نیا دوست کہاں ہے؟“
”وہ میں ہوں نیا دوست“

اس نے اپنی ذات کی طرف اشارہ کیا۔ پھر وہ بڑے تحمل اور تدبر سے ’جو میں نے پہلے کبھی اس میں نہ دیکھا تھا‘ بیٹھا اور میری طرف بڑے غور سے دیکھنے لگا۔ اس کی نگاہوں سے ایسی روشنی نکل رہی تھی جو میرے دل سے پار ہوتی جا رہی تھی میں نے اس کی آنکھوں سے ظلم اور کرختگی کے بجائے رحم اور محبت کی شعائیں ابھرتی ہوئی دیکھیں پھر اس نے ایک ایسی آواز جس سے میں شناسا نہیں تھا کہنا شروع کیا

” درحقیقت وہ شخص جسے تم بچپن سے جانتے تھے ’جس کے ساتھ تم نے لڑکپن کے دن اور نوجوانی کے لمحات گزارے تھے مرچکا ہے اس کی موت کی وجہ سے میں نے‘ ایک نئے انسان نے ’جنم لیا ہے۔ میں ایک نیا انسان ہو تمہارا نیا دوست‘ آؤ مجھ سے ہاتھ ملاؤ۔“

میں نے اس سے ہاتھ ملایا اور مجھے حیرانی ہوئی وہی ہاتھ جو کرختگی کا نمونہ ہوا کرتے تھے بہت نرم تھے اور وہی انگلیاں جن پر جانوروں کے پنجوں کا گمان ہوا کرتا تھا ’بہت سبک محسوس ہو رہی تھیں۔

میں نے آہستگی سے پوچھا (میری آواز میں حیرانی کا ارتعاش موجود تھا )

” تم کون ہو؟ آخریہ تبدیلی کیونکر؟ کیا تمہاری روح واقعی پاکیزگی اور طہارت کے کے دریا سے غسل کرکے آئی ہے یا یہ فقط ایک افسانہ ہے ایک شاعر کا خواب؟“

اس نے بڑی متانت سے جواب دیا

” او میرے دوست میں بڑا خوش قسمت تھا پاکیزگی نے خود آکر مجھے اپنی آغوش میں لے لیا۔ اور مجھے نجات کی راہ دکھائی۔ وہ ایک عورت ہے ’عورت جس نے مجھے اپنی محبت سے پاکیزگی کا درس پڑھایا۔ وہی عورت ذات جس پر میں ہمیشہ سے مردوں سے دل لگی کی الزام تراشیاں کرتا تھا تھا۔ مجھے عظمتوں کی راہوں سے روشناس کرایا۔ اس عورت نے مجھے اپنی محبت کے چشمے پر لے جاکر وضو کرایا“ وہی عورت جس کی بہنوں کو میں حقارت کی نگاہ سے دیکھا کرتا تھا‘ مجھے عزت اور شان کے تخت سے متعارف کرانے کا وسیلہ بنی۔

اس عورت نے جس کی سہلیوں کو میں نے غلام بنانا چاہا اپنے حسن سے مجھے آزاد کر دیا۔ وہی عورت جس کی ذات کو میں تاریکیوں کے پیامبر سمجھا کرتا تھا مجھے روشنی سے روشناس کرانے کا پیش خیمہ بنی۔ وہی عورت جو پہلے انسان کو اس کی خواہشات اور اپنی کمزوریوں کی وجہ سے جنت سے زمین پر لے کر آئی تھی مجھے اپنے خلوص و محبت اور میری فرمابرداری کی وجہ سے زمین کی پستیوں سے آسمان کی بلندیوں پر لے کر آئی۔ ”

میں نے اس لمحے اس کے چہرے کی طرف دیکھا ’مجھے اس کی آنکھوں میں آنسو‘ ہونٹوں پر مسکراہٹ اور سر پر محبت کا تا ج نظر آیا۔ میں نے اسے قریب کرکے اس کی پیشانی کو ایسے ہی بوسہ دیا جیسے ایک پادری اپنی عبادت گاہ کو عقیدت سے چومتا ہے۔

میں نے اسے خدا حافظ کہا اور واپسی میں اس کے الفاظ کو دہراتا رہا۔ ”وہی عورت جو پہلے انسان کو اس کی خواہشات اور اپنی کمزوریوں کی وجہ سے جنت سے زمین پر لے کر آئی تھی مجھے اپنے خلوص اور محبت اور میری فرمابرداری کی وجہ سے زمین کی پستیوں سے آسمان کی بلندیوں پر لے آئی“

تحریر: خلیل جبران
انگریزی ترجمہ :ایچ۔ نحمر
اردو ترجمہ خالد سہیل

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 352 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *