نصابی کتب اور اکیسویں صدی کے ہلاکو خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سولہویں صدی میں سلطنت عثمانیہ نے پرنٹنگ پریس (چھاپے خانوں ) پر پابندی لگا دی۔ تین سو سال بعد وہ فتوی واپس ہوا لیکن اس عرصے میں سلطنت عثمانیہ کے زیر تسلط موجود آدھی دنیا اور پوری مسلم دنیا باقی دنیا سے تین سو سال پیچھے رہ گئی۔ پہلے فتوی کے ایک ڈیڑھ سو سال بعد ایک اور فتوی آیا جس میں شیخ الاسلام نے صرف مذہبی کتب شائع کرنے کی اجازت دی۔ ابھی ایک اچھے خاصے سکول نے والدین کو کہا کہ بچوں کے لیے وہ کتب لیں جس سے ریپروڈکشن یعنی عمل تولید والا سبق منہا کیا ہوا ہے۔

پنجاب اسمبلی نے قرارداد منظور کی کہ چھاپے خانے ریاست کی منظوری کے بغیر کتب اور رسائل کا مواد نہیں چھاپ سکیں گے۔ سپریم کورٹ نے یوٹیوب جیسے علم کے ذخیرے کو بین کرنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ ایک رائے منظور صاحب نے بیان داغا ہے کہ کتابوں کے ذریعے ہماری نسلوں کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ کوئی ان جہالت کے سفیروں کو سمجھائے کہ کتابوں سے علم پھیلتا ہے اور علم اور کتب کے ذریعے نسلیں تباہ نہیں ہوتیں نسلیں بنتی ہیں۔

ہمیں درسی کتب میں پڑھایا جاتا تھا کہ مسلم سائنسدانوں نے سائنس کی بنیاد رکھی۔ کیسے رکھی بھلا؟ عباسی خلیفہ ہارون الرشید اور مامون الرشید نے اپنے دور حکومت میں مکالمے، تنقید اور تشکیک کو عام کر دیا۔ علم کو عام کر دیا۔ بغداد کے چوراہوں میں خدا کے وجود پر مناظرے ہوتے تھے نہ کوئی کسی کو گالی دیتا تھا نہ گلہ کاٹتا تھا۔ پھر جہاں ایک طرف حسن بصری، رابعہ بصری اور امام غزالی جیسے مذہبی صوفیاء اور علماء نکلے تو دوسری طرف فارابی، بو علی سینا، خوارزمی اور ابن رشد جیسے کٹر مشکک سائنسدان اور فلسفی بھی نکلے جنہوں نے دنیا کو نئی شکل دینے کی بنیاد قائم کی۔ ہمیں درسی کتب میں یہ بھی پڑھایا جاتا ہے کہ ہلاکو خان نے بغداد کی لائبریری جلا دی تھی اور دجلہ و فرات میں بہا دی تھیں اور ان کتب کی سیاہی سے ان دریاوں کا پانی نیلا ہو گیا تھا۔

آج اکیسویں صدی میں جہاں انٹرنیٹ اور میڈیا نے ایک نئے چھاپے خانے کے دور کا آغاز کیا ہے وہاں رائے منظور جیسے مسند اقتدار پر بیٹھے لوگ سلطنت عثمانیہ کے شیخ الاسلام اور تیرہویں صدی کے ہلاکو خان کا کردار ادا کر کے کتب اور یوٹیوب بین کر کے اس قوم اور آئندہ آنے والی نسل کو علم کی روشنی سے بے بہرہ کرنے پر تلے ہیں۔ خدارا کوئی اس جہالت کے مشن کو روکے ورنہ یہ قوم مزید جہالت اور عدم برداشت کے اندھیروں میں ڈوبتی چلی جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر عاکف خان

مصنف فزیکل سائینز میں پی ایچ ڈی ہیں۔ تدریس اور ریسرچ سے وابستہ ہونے کے ساتھ بلاگر، کالم نویس اور انسانی حقوق کےایکٹیوسٹ ہیں۔ ٹویٹر پر @akifzeb کے نام سے فالو کیے جا سکتے ہیں۔

akif-khan has 4 posts and counting.See all posts by akif-khan

Leave a Reply