چارلس ڈکنز: معاشرے کا نباض ادیب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی ا دیب کی حالات زندگی سے اس کی تخلیقات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے چارلس ڈکنز 7 فروری 1812 ء کو لینڈ پورٹ برطانیہ میں پیدا ہوا۔ ڈکنز کا بچپن انتہائی نامساعد حالات میں گزرا۔ اس کا باپ بحری pay office میں کلرک تھا یہ خاندان نے نچلے اور اوسط طبقے سے تھا باپ john کا تعلق نوکروں کے خاندان سے تھا ماں الزبتھ معمولی بیوروکریسی میں سے تھی اقتصادی طور پر یہ خاندان غیر مستحکم تھا ڈکنز آٹھ بہن بھائیوں میں سے دوسرے نمبر پر تھا ماں نے پڑھنا سکھایا۔

۔ ۔ جن تخلیق کاروں کو اس نے پڑھا ان میں شیکسپیر، سرونیٹز، سمالٹ، فیلڈنگ، ڈیفو اور گولڈ سمتھ شامل تھے ڈکنز نے اپنی مضطرب اور ان تھک فطرت کی بدولت تمام ادیبوں پر سبقت حاصل کی جب وہ بارہ سال کا تھا تو اس وقت اس کے والد کو قرضہ ادا نہ کرنے کے جرم میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ کم عمرڈکنز نے ایک فیکٹری میں ملازمت اختیار کر لی۔ اس دور کے تلخ تجربات اور احساسات ان کی کتابوں میں عیاں ہیں۔ عملی زندگی کا آغاز ایک وکیل کے منشی کی حیثیت سے کیا۔

بعد ازاں شارٹ ہینڈ سیکھ لی اور ایک اخبار کا رپورٹر ہوگیا۔ ان دونوں ملازمتوں میں ڈکنز کو وہ سب مواد دستیاب ہوا جو بعد میں اس نے اپنے ناولوں میں استعمال کیا۔ 8 جون 1870 ء کو اس کا کینٹ برطانیہ میں انتقال ہو گیا پک وک پیپرز، اولیور ٹوسٹ، گریٹ ایسپکٹیشن، اے ٹیل آف ٹوسٹیز اور ڈیوڈ کوپر فیلڈ اس کی مشہور کتابیں ہیں۔ ڈکنز نے 1834 میں قلمی نام Boz اختیار کیا اور مختلف جرائد میں چھوٹے مزاحیہ سکیچز لکھنے شروع کیے اس کی ابتدائی تحریریں ”Sketches of young gantleman“ ”Sketches of Young Couples and the mudfog papers“ یہ تحریر صحافت کے بہترین نمونے کہلوانے کی مستحق ہیں اس کی پہلی کتاب Sketches ”of Boz“ کے نام سے 1836 میں شائع ہوئی اس کتاب کی بدولت ڈکنز کو ایک بہترین مزاح نگار کے طور پر پذیرائی ملی ”Pickwick paper“ نے اس کی شہرت کو چار چاند لگا دیا یہ ناول رسالے میں قسط وار چھپتا رہا ”بظاہر یہ ناول خاکوں کے ایک سلسلہ جس کا باہمی تعلق ڈھیلا ڈھالا ہے پھر بھی کچھ بنیادی نظریات ہے جو ناول میں وحدت کا سبب بنتے ہیں“ اس کی کتاب ”پک وک پیپرز“ کے بارے میں یہ بات بہت مشہور ہے : ”وکٹوریہ ایک مشہور ملکہ تھی اس کی شہرت اس کے زمانے تک محدود ہے لیکن ڈکنز کی“ پک وک پیپرز ”ہر زمانے کے لئے ہے اور رہے گی“

چارلس ڈکنز

اس کا ناول ”Oliver Twist“ جرائم پیشہ افراد کے بارے میں لکھا گیا ہے جس کا مرکزی خیال بچپن کے غم اور دکھ کے مقابلے میں جرائم پیشہ افراد اور جیب کترے ”fagin“ اور اس کے رفیق جرم کرداروں کی مجرمانہ ذہنیت کی عکاسی ہے اس کے علاوہ فیکٹریوں میں مالکان کے جبر کو بھی اولیور ٹویسٹ (Oliver Twist) میں پڑھا جا سکتا ہے، ”Nicholas nickleby“ اس ناول کا شمار ڈکنز کے اصلاحی ناولوں میں ہوتا ہے جس میں ”Yorkshire“ کے بیشتر سکولوں کی طریقہ تعلیم پر طنز کیا گیا ہے ”Barnaby Rudge“ یہ تاریخی اور رومانوی ناول ہے جو ”Gordon“ کی طرف سے ”pope“ کے خلاف بغاوتوں کے متعلق ہے بغاوتیں 1780 میں واقع ہوئی جنہوں نے انگلینڈ کو ہلا کر رکھ دیا اس ناول میں گمراہ کن قیدیوں اور خود غرض عوامی اداروں کے درمیان تعلق کا معائنہ کیا گیا ہے امریکہ کی طرف سفر کے نتیجے میں اس نے ناول ”Martin Chuzzleuit“ لکھا جس کا شمار ڈکنز کے اعلیٰ معیار کے ناولوں میں ہوتا ہے ”Dombey and son“ یہ ناول غرور کے اثرات اور مزاج کے متکبرانہ انداز پر روشنی ڈالتا ہے خودغرضی کی تمام بھیسوں کو منظر عام پر لاتا ہے ”David copperfield“ اس ناول کو ڈکنز کی خود نوشت سوانح عمری کہاجاسکتاہے ڈیوڈ کی زندگی اور اس میں مہمات حقیقت میں ڈکنز کی زندگی کو پیش کرتی ہیں ناول میں معاشرتی اونچ نیچ خوشیوں اور غموں کی کہانی پیش کی گئی ہے

مصنفین اکثر ان لوگوں کے کرداروں کے پورٹریٹ ان لوگوں سے کھینچتے ہیں جن کو وہ حقیقی زندگی میں جانتے ہیں۔ بلیک ہاؤس میں عبوری عدالت کے معاملات اور قانونی دلائل کے مناظر ایک قانون کلرک اور عدالت کے رپورٹر کی حیثیت سے ڈکنز کے تجربات کی عکاسی کرتے ہیں، اور خاص طور پر اس نے قانون کے ضابطے کی تاخیر کا براہ راست تجربہ 1844 کے دوران اور یہ ان کی بہت سی کتابوں میں ایک عام موضوع بن گیا تھا،

”Bleak house“ یہ ناول ناجائز عدالتی قوانین خاص طور پر ”chancery“ کی عدالت میں بھرپور طنز ہے ”Dard Time“ اس ناول میں صنعتکاروں اور دولت کے پجاریوں پر بھرپور طنز کیا گیا ہے یہ ناول مادی اشیاء سے نفرت دلاتا ہے اور انسانی زندگی میں روحانی کردار کو بلند کرتا ہے ”Little Dirrit“ یہ ناول گورنمنٹ کی جیلوں اور قیدیوں کی طرف عدم توجہی اور بے رحمی کو ظاہر کرتا ہے اس ناول میں گورنمنٹ کی اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کے قیدیوں کی دکھ اور تلخ بھری زندگی میں امید کی کرن اور زندگی گزارنے کی رمق پیدا کی جائیں لیکن نے انقلاب فرانس کے پس منظر میں ایک ناول ”A Tale of two cities“ لکھا ناول میں بتائیں گے دو شہر لندن اور پیرس ہیں یہ ایسا انقلاب تھا جس نے یورپ کو لرزہ براندام کر دیا تھا اس ناول میں امرا اور نوابوں کے مظالم کو بے نقاب کیا گیا جس سے غریبوں کے دلوں میں امیروں کے خلاف شدید نفرت پیدا ہوگئی اور ایک وقت ایسا آیا کہ غریب عوام امرا کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے ناول ادبی اور تاریخی لحاظ سے بلند درجے کا حامل ہے ”Our mutual friend“ یہ ڈکنز کا آخری ناول ہے اس ناول میں ڈکنز نے دولت کو پورے معاشرے کی خرابی کا باعث قرار دیا ہے چارلس ڈکنز کی ایک سوانح نگار کلیئر ٹامالین کا کہنا ہے کہ اس ادیب کی معاشرتی تصویر کشی آج بھی ان کی سوچ کے عین مطابق ہے، وہی امیر اور غریب میں پائی جانے والی تفریق، حکومتی معاملات میں بدعنوان افراد کی موجودگی، اراکین پارلیمنٹ کی ریشہ دوانیاں اور ایسی دوسری معاشرتی برائیاں اس دور میں بھی انسانوں کے ساتھ ساتھ سائے کی طرح حرکت کر رہی ہیں.

ان کی نشاندہی اور احاطہ ڈکنز نے انتہائی مہارت سے اپنی تحریروں میں بہت پہلے کیا تھا۔ اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو چارلس ڈکنز نے اس دور میں موجود مسائل کو ادب کا حصہ بنایا اور اس اس کے ناولوں میں سماجی مسائل کی عکاسی بھرپور طریقے سے ملتی ہے وہ عہد وکٹوریہ کاعظیم ناولسٹ تھا اس کے ناول دائمی زندگی سے پوری ہیں زندگی کے زرخیز تجربات کے ساتھ ساتھ رپوٹر اور ایکٹر کی تربیت نے اسے عظیم ناولسٹ بننے میں مدد دی چارلس ڈکنز کے بائیو گرافر جان فاسٹر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کرداروں کے بارے میں خود کچھ نہیں بتلاتا، وہ کرداروں کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ خود اپنے بارے میں قارئین کو بتلاتے ہیں۔ پہلی کتاب ”پک وک پیپرز“ سے لے کر آخری ناول تک اس کے بے شمار کردار مقبول ہو چکے ہیں۔ ان کرداروں کے نام اور ان کی عادات انگریزی ادب کی جان سمجھی جاتی ہیں۔ ٹائنی ٹم، جیکب مارے، اولیورٹوسٹ، پپ، سس ہویشم، ڈیوڈ کوپر فیلڈ، سیموئل پک وک، میکاؤبر، ڈورا، بیسٹی۔ سب کے سب مانے جانے والے مثالی کردار ہیں۔

ڈکنز کی تخلیقات آج کے دور میں بھی اسی تازگی کے ساتھ موجود ہیں جتنی اس دور میں تھی ہر خطے کا قاری یہی محسوس کرتا ہے کہ چارلس نے ہماری زندگی کے بھیانک واقعات کو اپنی قلم کے ذریعے آفاقیت بخشی یہ عظیم ناول نگار مظلوموں اور نیچلے درجے کے لوگوں کا ترجماں بن کر سامنے آیا۔ وہ بھی ایسے حالات میں جب غریب آدمی اپنے بنیادی حق سے محروم تھا یہ خون سے لکھی گئی تحریریں وہی لکھاری لکھ سکتا ہے جو خود ان کیفیات کا شکار رہا ہو

ڈکن کا جب انتقال ہوا تو لانگفیلو نے لکھا، ”میں نے کبھی بھی مصنف کی موت کو اس طرح کے عام سوگ کا سبب نہیں سمجھا۔“ یہ کہنا مبالغہ آمیز نہیں ہے کہ یہ پورا ملک غموں کا شکار ہے۔ ”

ڈکنز کے کتبے پر یہ الفاظ درج ہیں جو معنویت سے بھرپور ہیں

”وہ غریبوں، تکلیف زدگان اور مظلوموں کا ہمدرد تھا۔ اور ان کی موت سے، انگلینڈ کا سب سے بڑا ادیب دنیا سے ہار گیا۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply