عوامی ردعمل سے زرق خان مطیع اللہ جان بن گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

22 جولائی کو اسلام آباد میں آبپارہ کے قریب ایک سکول کے سامنے سے دن گیارہ بجے اغوا ہو کر رات دس، گیارہ بجے فتح جھنگ کے قریب چھوڑ دیے جانے والے معروف صحافی مطیع اللہ جان نے 23 جولائی کی رات اپنے ایک وڈیو رپورٹ میں اپنے اغوا کی تفصیلات کے بارے میں بتایا۔ تقریباً آدھ گھنٹے کی اس وڈیو میں مطیع اللہ جان نے اپنے اغوا ہونے سے لے کر ایک سڑک کنارے چھوڑے جانے تک کے تمام واقعات کی تفصیل سے آگاہ کیا۔ مطیع اللہ جان کو دو بار یہ محسوس ہوا کہ انہیں مار دیا جائے گا۔

مطیع اللہ جان نے کہا کہ سخت ردعمل پر ”میرے اغوا کار جو اس ملک کے اغوا کار ہیں، جو اس سیاسی نظام کے اغوا کار ہیں، ان کو مجھے جلد ہی آزاد کرنا پڑا۔“ مطیع اللہ جان نے بتایا کہ ”مجھے اغوا کرنے والے، جو مجھے محسوس ہوا، یہ وہی لوگ تھے جو اس ملک میں جمہوریت کے خلاف ہیں، سیاسی نظام کے خلاف ہیں، جو آئین کی بالا دستی کو نہیں مانتے، پارلیمنٹ کی بالادستی کونہیں مانتے، اور شروع دن سے اس آئینی نظام اور آئین کی بالادستی کے خلاف سازشیں کرتے رہے ہیں“ ۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ پولیس، انتظامیہ، حکومت، عدلیہ، اس معاملے کو ایک مثال بنائے گی اورآئندہ پاکستان میں صحافیوں کی اورشہریوں کی جانیں بھی محفوظ ہوں گی۔ مطیع اللہ جان نے اپنے اغوا کے واقعہ پر سپریم کورٹ کے ججز کے ناکافی ردعمل پر افسوس کا اظہار کیا۔ مطیع اللہ جان نے اپنے چھوڑے جانے کے وقت کے واقعات بتاتے ہوئے کہا کہ ایک آواز آئی کہ ”دا زرق خان نہ دے؟“ ، اس پر میں نے بار بار کہا کہ میں مطیع اللہ جان ہوں، صحافی ہوں ”۔ مطیع اللہ جان نے بڑی درد مندی سے سوال کیا کہ کیا انسانیت کی جو توہین اس ملک میں ہو رہی ہے، اس کی بھی کوئی سزا ہے؟

اغوا کرنے والوں، اذیت گاہوں میں اذیت دینے کا کام کرنے والوں کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ ان کے سامنے کون ہے، مجرم ہے یا بے قصور ہے، انہیں تو احکامات کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے جو وہ قومی خدمت کے طور پر ادا کرتے ہیں۔ یہ تو بھلا ہوا کہ سکول میں نصب سیکورٹی کیمرے میں اغوا کیے جانے کے وقت کے مناظر کیمرے میں ریکارڈ ہو کر سوشل میڈیا کی زینت بن گئے ورنہ شاید عوامی ردعمل اتنا شدید نہ ہوتا۔ مطیع اللہ جان کے اغوا کا یہ واقعہ پاکستان کی عمو می صورتحال کی ایک مثال ہے۔ یہ دیکھا جانا بھی اہم ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں قانون کی عملداری کی صورتحال یہ ہے تو ملک کے باقی علاقوں میں شہریوں کو کس عذاب سے گزرنا پڑتا ہوگا۔

یہ کون سے نادیدہ لوگ ہیں جو زور زبر دستی اس ملک کو اپنی ہدایات پر چلاتے ہیں، محکموں، اداروں، جماعتوں، صحافیوں کو اپنی غیر آئینی و غیر قانونی ہدایات پر چلانے پر مجبور کرتے ہیں؟ یہاں ایک بار پھر مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کے رہنماؤں کو سلام ہے کہ جو غاصب حاکمیت قائم رکھنے والوں کا نام لے کر مخاطب کرتے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) کے رہنما نام لینے کے بجائے اشاروں، کنایوں میں غاصب حاکمیت قائم رکھنے اور چلانے والوں کا مبہم انداز میں ذکر کرتے ہیں۔

پاکستان کی حیثیت و اہمیت کا ادراک رکھنے والے تو موجودہ صورتحال پر خون کے آنسو رو رہے ہیں، نہ معلوم کہ کب اس ملک کے عوام کو اپنے ملک کا قبضہ نصیب ہو گا؟ بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ ملک کو اصل خطرات باہر سے نہیں بلکہ ملک کے اندر سے ہی درپیش ہیں۔ جس دن پاکستان پہ قائم غاصب حاکمیت کا خاتمہ ہو گیا اور ملک میں آئین و قانون کی حقیقی بالادستی قائم ہو گئی، وہی دن پاکستان کی بہتری کی ابتداء کا وقت ہو گا۔ لیکن سوال وہی ہے کہ ”بلی کے گلے میں گھنٹی ڈالے گا کون؟“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *