فلک زاہد کا “قدیم چرچ”

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ایک بھیگی ہوئی رات کا قصہ ہے جب میرا پورا علاقہ اندھیے میں ڈوبا ہوا تھا۔ میرے کمرے میں صرف ایمرجینسی لائٹ کی روشنی تھی۔ میرے موبائل اور کمپیوٹر کی بیٹری بھی بہت حد تک گر چکی تھی۔ گھر کے مکینوں کی اکثریت نیند کے ساتھ سفر پر تھی۔ مگر میں ٹیرس پر بیٹھی بارش کی آواز کے سحر میں گم تھی۔ ایسے میں میری نظر فلک کی کتاب ”قدیم چرچ“ پر پڑی اور مجھے لگا جیسے سرورق پر موجود شخص جس کا وجود ایک سرخ گاون کے اندر چھپا ہوا ہے مجھے ایک قدیم چرچ میں داخل ہونے کی دعوت دے رہا ہو۔

میں بے اختیاری کے عالم میں اٹھی اور میں نے اس قدیم چرچ کا دروازہ کھول دیا۔ فلک کی میں نے پچھلی دونوں کتابیں پڑھ رکھی ہیں اس لئے اتنا تو مجھے یقین تھا کہ اس چرچ کے اندر مجھے بہت کچھ ملے گا اور ایسا ہی ہوا۔ میں قدیم چرچ کے اندر کیا داخل ہوئی میرا رابطہ میرے آس پاس کی دنیا سے منقطع ہو گیا۔ اب نہ مجھے بارش کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں اور نہ ہی مجھے لائٹ کے نہ آنے کی پریشانی تھی۔ کتاب کا آغاز ایک خواب سے ہوتا ہے۔

کتاب کے پہلے صفحے سے ہی ٹائٹل کی اچھی طرح وضاحت ہو جاتی ہے۔ فلک کی دیگر کہانیوں کی طرح اس کہانی کے کردار بھی مغرب کی فضاوں میں سانس لے رہے ہیں۔ رابن ایک نوعمر نوجوان ہے جس کی مایوس اور ٹھہری ہوئی زندگی میں چند خوفناک خوابوں نے آکر ہلچل مچا دی ہے۔ وہ ان خوابوں کی گرفت میں آتا جا رہا ہے۔ اس موقع پر وینیسا کا کردار قدیم چرچ میں داخل ہوتا ہے۔ وینیسا رابن کی بہن ہے۔ بہنیں بھائیوں کی ڈھارس بندھاتی ہیں۔ بہنیں بھائیوں کو نا امیدی کے دائروں سے نکال کر امید کی روشن دنیا میں لاکھڑا کرتی ہیں۔

سو وینیسا بھی ایک ایسی ہی بہن ہے۔ جہاں محبت ہوتی ہے نفرت بھی وہیں سانس لیتی ہے۔ سو روبن اور وینیسا کی محبت کے ساتھ ان کے باپ مسٹر ویٹو کی نفرت بھی جڑی ہے۔ ہر کہانی میں ایک ہیرو ہوتا ہے جو سب کو بچاتا ہے۔ مشکلات سے نکالتا ہے۔ اس کہانی کا ہیرو ایک لڑکی کا کردار جنیلا ہے۔ جنیلا کسی مسیحا کی طرح رابن کو خوابوں کے اس چکر سے نکالتی ہے۔ چنبلا کے آنے سے کہانی انتہائی دلچسپ رخ اختیار کرتی ہے۔ یہاں قاری ایک نئے لفظ سے روشناس ہوتا ہے وہ لفظ ہے ”succubus“ مطلب ایک جن عورت۔

فلک نے ”succubus“ کی مکمل وضاحت کی ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس نے اس موضوع پر باقاعدہ ریسرچ کی ہے۔ قدیم چرچ کے آخری صفحات میں فلک کی منظرکشی عروج پر ہے۔ پڑھتے پڑھتے خوف اور ڈر ہمارے آس پاس ہی آکر بیٹھ جاتے ہیں۔ کچھ جگہوں پر تو خوف سے قاری کے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وینیسا نے کس طرح succubus کو شکست دے کر روبن کو اس کی قید سے آزاد کروایا۔ مسٹر ویٹو کی نفرت کب تک قائم رہی۔ یہ سب جاننے کے لئے آپ کو قدیم چرچ کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔

قدیم چرچ پڑھتے پڑھتے میں بالکل کھو سی گئی تھی۔ خبر بھی نہیں ہوئی کب ناول اپنے انجام کو پہنچا۔ قدیم چرچ سے واپس جب میں اپنی حقیقی دنیا میں آئی تو دیکھا کہ بارش تھم چکی تھی اور ساتھ ہی لائٹ بھی آ گئی تھی۔ قدیم چرچ کو میں نے اپنی دیگر کتابوں کے ساتھ رکھ دیا تھا بلاشبہ یہ ایک دلچسپ کتاب ہے اور مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ فلک تم نے ایک بار پھر میدان مار لیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *