واہگہ بارڈر کھولنے کا فیصلہ: کیا عمران خان بھی مودی کا یار ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ یار بیلی مل بیٹھیں اور گفتگو کا رخ پھرتے پھراتے نیرنگی سیاست کی جانب نہ ہو جائے۔ دو دن ہوتے ہیں جب ہم تین دوست مل بیٹھے۔ یادوں کی پٹاری سے گئے دنوں کے قصے نکل کر سامنے آتے گئے اور ہم ان سے وابستہ ”شرارتوں“ سے لطف اٹھاتے رہے۔ بات چل نکلی تو بچھڑے ساتھیوں سے جڑی یادیں قطار در قطار سامنے آتی چلی گئیں۔ گاہے کسی واقعہ کی یاددہانی پہ قہقہے بلند ہوتے، گاہے شرارتی مسکراہٹ لبوں پہ پھیل جاتی۔ بیتے دنوں کی یاد دہانی سے ماحول نہ صرف خوشگوار ہو چلا تھا بلکہ چہروں پہ خوشی کے دیے بھی تمتما اٹھے تھے۔ نہ جانے کیسے یادوں سے حظ کشید کرتے بات سیاست سے ہوتے ہوئے خان سرکار کی کارکردگی جانب مڑ گئی۔

سماجی طور پہ متحرک، فعال سیاسی کارکن اور ہمارے دوست ملک محمد عامر نے خان سرکار کی اب تک کی کارکردگی کے بخیے ادھیڑتے ہوئے روایتی الزام کا سہارا لیا کہ خان سرکار ”مودی کے یار“ کا کردار نبھانے چلی ہے۔ حیرت سے جب ہم ان کا منہ تکنے لگے، تب انہوں نے اپنے لگائے الزام کے اجمال کی تفصیل کچھ یوں بیان کی کہ: ”خان سرکار نے بھارت کو واہگہ بارڈر کے راستے افغانستان سے تجارت کی اجازت دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ طرفہ تماشا یہ کہ واہگہ بارڈر کھولنے کا اعلان بھی اس روز کیا گیا جس دن کشمیری ’یوم شہداء کشمیر‘ منا رہے تھے۔ گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہنے لگے کہ ایک طرف خان سرکار کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے خود کو دنیا بھر میں کشمیریوں کا سفیر گردانتی ہے تو دوسری جانب کشمیریوں پہ جبراً قابض بھارت کو غیر مشروط تجارت کی آزادی دیے جا رہی ہے۔ یہ دوہرا اور منافقانہ طرز عمل کیوں؟“

غصے سے پھنکارتے ہوئے مزید گویا ہوئے کہ ادھر بھارت وادی کشمیر کے باسیوں پر نہ صرف ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہا ہے بلکہ ان کی شناخت بھی بزور بازو چھیننے کے درپے ہے جبکہ ادھر خان سرکار بھارتی مظالم سے چشم پوشی کرتے ہوئے اسے پاکستان کے راستے افغانستان سے تجارت کی اجازت دے رہی ہے؟

جھاگ اگلتے دہن اور لہجہ میں طنز کی تلخی بھر کے کہنے لگے کہ گر یہی سب کچھ میاں نواز شریف کے دور حکومت میں ہوا ہوتا تو ان پر غداری اور مودی کے یار کے ٹھپے لگ چکے ہوتے۔ اب جبکہ لاڈلے کی حکومت ہے تو وہ سب کچھ جو میاں کی حکومت میں شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتا تھا کیونکر لاڈلے کی حکومت میں جائز ہو چلا ہے؟

سانس پھلاتے ہوئے پنڈی کے جواں مرگ شاعر محمد صدیق کے شعر کو بدل کر کچھ اس انداز سے پڑھنے لگے کہ:
”خان“ کی زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو ”میاں کے“ نامہ سیاہ میں تھی
الزامات کا جائزہ لینے سے قبل ذرا تاریخ کے جھروکوں سے جھانک کر اس مدعے کو پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سنہ دو ہزار دس اور مہینہ اکتوبر کا تھا جب پاکستان پر آصف علی زرداری کی پیپلز پارٹی اور افغانستان میں حامد کرزئی کی حکومت تھی۔ دونوں ممالک کے بگڑے باہمی تعلقات کو سنوارنے واسطے امریکہ نہ صرف کوشاں تھا بلکہ اس کی خواہش تھی کہ پاکستان بذریعہ واہگہ بارڈر افغانستان کو بھارت سے تجارت کی اجازت دے۔ نائن الیون کے بعد سے بھارت افغانستان میں آہستہ آہستہ اپنے پنجے گاڑ چکا تھا۔ بھارت پاکستان کو کمزور کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتا تھا۔

واہگہ راہداری سے تجارت کی تمنا لیے افغانستان نے اس سلسلے میں پاکستان سے مذاکرات کے کئی دور منعقد کیے۔ لیکن مذاکرات کسی حتمی نتیجہ تک پہنچ نہ پاتے۔ امریکی آشیر آباد سے بالآخر پاکستانی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم اور افغانی وزیر تجارت ڈاکٹر انوار الحق احدی کے درمیان ”افغان۔ پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ“ (APTTA) نامی معاہدہ طے پا گیا۔

اسی معاہدے کے تحت گزرے دس برسوں سے واہگہ بارڈر کے راستے افغانستان بھارت سے تجارتی لین دین کر رہا ہے۔ درمیان کے کچھ عرصہ میں دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان تلخی کے باعث واہگہ بارڈر افغانستان کی برآمدات کے لیے بند بھی رہا۔ لیکن مجموعی طور پر یہ تجارتی شاہراہ کھلی رہی۔

اب ذرا حالیہ اعلان سے متعلق مغالطوں اور خان سرکار پر لگائے گئے الزامات کا منطقی جائزہ لیتے ہیں۔

پہلی بات یہ کہ افغانستان کو واہگہ کے راستے بھارت سے تجارت کی اجازت خان سرکار نے نہیں بلکہ سنہ دو ہزار دس میں پیپلز پارٹی حکومت میں ہوئے معاہدہ کے تحت دی گئی ہے۔ واہگہ راہداری سنہ دو ہزار دس سے دو فریقی معاہدے کے تحت افغانستان کے لیے کھلا ہوا ہے۔

دوسری بات یہ کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے تحت صرف افغانستان ہی اپنا مال تجارت بھارت کو واہگہ کے راستے بھیج سکے گا۔ معاہدے کو من مرضی کے معنی پہناتے ہوئے بھارت نے موقف بھی اختیار کیا کہ اس معاہدے کی رو سے بھارت بھی اپنا مال تجارت افغانستان بھیج سکتا ہے۔ بھارتی سرکار کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے اس وقت کی افغانستان حکومت نے بھی بھارتی موقف کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت بھارت کو بھی اجازت دی جائے کہ وہ اپنا مال تجارت بذریعہ واہگہ افغانستان بھیج سکے۔ لیکن پاکستان نے بھارتی و افغانی موقف کو مسترد کرتے ہوئے باہمی تجارت کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے یاد دلایا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ دو فریقی معاہدہ تھا نہ کہ سہ فریقی۔

تیسری بات یہ کہ اس غلط فہمی کو دور کر لیجیے کہ پاکستان نے بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کی پچھلے برس کے اگست میں خصوصی آئینی حیثیت کے جبراً خاتمے پر بطور احتجاج واہگہ بارڈر بند کیا تھا۔ جسے اب بلا مشروط کھولا جا رہا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اس برس مارچ کے وسط میں کرونا وبا کے ہنگام جب پاکستان نے اپنے سرحدی راستے ہمہ قسمی سرگرمیوں کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا تو واہگہ بارڈر کا تجارتی راستہ بھی بند کر دیا۔

اب جبکہ تجارتی سرگرمیاں احتیاطی تدابیر کے ساتھ دوبارہ شروع ہو رہی ہیں اور سرحدی راستے کھولے جا رہے ہیں۔ اس لیے پاکستان نے افغان حکومت کی خصوصی درخواست پر افغانستان کو مال تجارت بھارت برآمد کرنے کی اجازت دیتے ہوئے واہگہ بارڈر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان پہلے سے جاری تجارتی تسلسل کی بحالی ہے، جس سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں مزید بہتری آنے کے امکان ہیں۔

چوتھی بات یہ کہ واہگہ کے راستے افغانستان کو تجارت کی اجازت دینے کے بدلے پاکستان کو بھی تو وسط ایشیا کے ممالک تک افغانستان کے راستے اجازت مل رہی ہے۔ وسط ایشیا کے ممالک سے تجارت کے باعث پاکستان کی برآمدات بڑھ رہی ہیں۔ جس کے معاشی ثمرات سے ملکی معیشت کو خاطر خواہ فائدہ پہنچ رہا ہے۔

پانچویں اور آخری بات یہ کہ خارجہ پالیسی ہو چاہے معاشی معاملات اس باب میں سطحیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ معروضی حقائق کی بنیاد پر فیصلے لیے جاتے ہیں۔ پاکستان کے افغان امن سے مفادات جڑے ہیں۔ افغانستان کی معیشت مضبوط ہو گی تبھی وہاں امن کی فصل لہلہائے گی۔ اسی لیے پاکستان نے افغانستان کے معاشی فائدے کے لیے واہگہ بارڈر سے تجارت کی اجازت دے رکھی ہے۔ اس فیصلے کو جذباتیت و سطحی رد عمل کی نذر کرنے کی بجائے ٹھوس حقائق کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

معاملے کے تمام تر پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد سوال یہ ہے کہ واہگہ بارڈر کھولنے کے اعلان پر تنقید درست ہے؟ آیا عمران خان کو اس تناظر میں مودی کا یار کہا جا سکتا ہے؟ میرے خیال سے سادہ سا جواب ہے کہ: بالکل بھی نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply