یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ یار بیلی مل بیٹھیں اور گفتگو کا رخ پھرتے پھراتے نیرنگی سیاست کی جانب نہ ہو جائے۔ دو دن ہوتے ہیں جب ہم تین دوست مل بیٹھے۔ یادوں کی پٹاری سے گئے دنوں کے قصے نکل کر سامنے آتے گئے اور ہم ان سے وابستہ ”شرارتوں“ سے لطف اٹھاتے رہے۔ بات چل نکلی تو بچھڑے ساتھیوں سے جڑی یادیں قطار در قطار سامنے آتی چلی گئیں۔ گاہے کسی واقعہ کی یاددہانی پہ قہقہے بلند ہوتے، گاہے شرارتی مسکراہٹ لبوں پہ پھیل جاتی۔ بیتے دنوں کی یاد دہانی سے ماحول نہ صرف خوشگوار ہو چلا تھا بلکہ چہروں پہ خوشی کے دیے بھی تمتما اٹھے تھے۔ نہ جانے کیسے یادوں سے حظ کشید کرتے بات سیاست سے ہوتے ہوئے خان سرکار کی کارکردگی جانب مڑ گئی۔
سماجی طور پہ متحرک، فعال سیاسی کارکن اور ہمارے دوست ملک محمد عامر نے خان سرکار کی اب تک کی کارکردگی کے بخیے ادھیڑتے ہوئے روایتی الزام کا سہارا لیا کہ خان سرکار ”مودی کے یار“ کا کردار نبھانے چلی ہے۔ حیرت سے جب ہم ان کا منہ تکنے لگے، تب انہوں نے اپنے لگائے الزام کے اجمال کی تفصیل کچھ یوں بیان کی کہ: ”خان سرکار نے بھارت کو واہگہ بارڈر کے راستے افغانستان سے تجارت کی اجازت دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ طرفہ تماشا یہ کہ واہگہ بارڈر کھولنے کا اعلان بھی اس روز کیا گیا جس دن کشمیری ’یوم شہداء کشمیر‘ منا رہے تھے۔ گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہنے لگے کہ ایک طرف خان سرکار کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے خود کو دنیا بھر میں کشمیریوں کا سفیر گردانتی ہے تو دوسری جانب کشمیریوں پہ جبراً قابض بھارت کو غیر مشروط تجارت کی آزادی دیے جا رہی ہے۔ یہ دوہرا اور منافقانہ طرز عمل کیوں؟“
Read more