حیات بلوچ کی ”حیاتی“ ماورائے عدالت چھین لی گئی

برسوں بڑے مان سمان سے پال پوس کر جوان کیے خواب دیکھتی آنکھوں کے سامنے بکھرتے دکھائی دیں تو جس اذیت، کرب اور درد سے واسطہ پڑتا ہے اسے لفظوں کا جامہ پہنانا بھلا کہاں ممکن ہے؟ ماں باپ کی آنکھوں کے سامنے جب بے گناہ جوان شیر ”دہشتگرد“ کہہ کر ”محافظ“ پھڑکا ڈالیں بتلائیے تب والدین کے دکھ کو بھلا قلم کی زبان سے بیان کیا جا سکتا ہے؟ ارادہ باندھ رکھا تھا کہ لکھنے لکھانے کا سلسلہ چند

Read more

توہین مذہب کے ملزم کا ماورائے عدالت قتل: مغالطوں کا جائزہ

اک رسم بد چل نکلی ہے، ایسی کہ معقول بات لکھنے اور کہنے والے پر الٹا ”الزام“ نہ صرف تھوپ دیا جاتا ہے بلکہ چند خدائی فوجدار خود ساختہ ”ایمانومیٹر“ تھامے معتدل بات لکھنے اور کہنے والے کے ”ایمان“ کی پیمائش کرنے دوڑے چلے آتے ہیں۔ جذباتیت کی لہروں پر تیرتے چند سرپھرے ایسا کریں تب تو بات کچھ پلے بھی پڑتی ہے مگر مقام حیرت کہ اہل علم سمجھے جانے والے حضرات بھی بجائے معقول و معتدل بات کہنے

Read more

واہگہ بارڈر کھولنے کا فیصلہ: کیا عمران خان بھی مودی کا یار ہے؟

یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ یار بیلی مل بیٹھیں اور گفتگو کا رخ پھرتے پھراتے نیرنگی سیاست کی جانب نہ ہو جائے۔ دو دن ہوتے ہیں جب ہم تین دوست مل بیٹھے۔ یادوں کی پٹاری سے گئے دنوں کے قصے نکل کر سامنے آتے گئے اور ہم ان سے وابستہ ”شرارتوں“ سے لطف اٹھاتے رہے۔ بات چل نکلی تو بچھڑے ساتھیوں سے جڑی یادیں قطار در قطار سامنے آتی چلی گئیں۔ گاہے کسی واقعہ کی یاددہانی پہ قہقہے بلند ہوتے، گاہے شرارتی مسکراہٹ لبوں پہ پھیل جاتی۔ بیتے دنوں کی یاد دہانی سے ماحول نہ صرف خوشگوار ہو چلا تھا بلکہ چہروں پہ خوشی کے دیے بھی تمتما اٹھے تھے۔ نہ جانے کیسے یادوں سے حظ کشید کرتے بات سیاست سے ہوتے ہوئے خان سرکار کی کارکردگی جانب مڑ گئی۔

سماجی طور پہ متحرک، فعال سیاسی کارکن اور ہمارے دوست ملک محمد عامر نے خان سرکار کی اب تک کی کارکردگی کے بخیے ادھیڑتے ہوئے روایتی الزام کا سہارا لیا کہ خان سرکار ”مودی کے یار“ کا کردار نبھانے چلی ہے۔ حیرت سے جب ہم ان کا منہ تکنے لگے، تب انہوں نے اپنے لگائے الزام کے اجمال کی تفصیل کچھ یوں بیان کی کہ: ”خان سرکار نے بھارت کو واہگہ بارڈر کے راستے افغانستان سے تجارت کی اجازت دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ طرفہ تماشا یہ کہ واہگہ بارڈر کھولنے کا اعلان بھی اس روز کیا گیا جس دن کشمیری ’یوم شہداء کشمیر‘ منا رہے تھے۔ گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہنے لگے کہ ایک طرف خان سرکار کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے خود کو دنیا بھر میں کشمیریوں کا سفیر گردانتی ہے تو دوسری جانب کشمیریوں پہ جبراً قابض بھارت کو غیر مشروط تجارت کی آزادی دیے جا رہی ہے۔ یہ دوہرا اور منافقانہ طرز عمل کیوں؟“

Read more

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر: مغالطے اور تجاویز

پاکستانی سماج میں فکری انتہا پسندی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ چند مستثنیات کے سوا اہل مذہب ہوں بھلے لبرل طبقہ ہر دو طرف میں اعتدال نامی شے کا وجود مٹتا چلا جا رہا ہے۔ المیہ یہ کہ جو بچے کھچے صاحبان اعتدال خدا لگتی کہتے بھی ہیں انہیں سننے والے کم اور ملامت کرنے والے زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اقلیتوں کے باب میں ہمارا رویہ نہ صرف جذباتیت پر مبنی ہے بلکہ نان ایشوز کو ایشوز بنا کر

Read more

پانچ جولائی: بھٹو کی جمہوریت سے ضیاء کی آمریت تک کا سفر

سانحات اچانک رونما نہیں ہوا کرتے۔ برسوں واقعات کی ایسی لڑی بنتی رہتی ہے کہ جن کے نتائج سانحات کی صورت ہمارے سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں۔ سانحات کا رونما ہونا ہرگز اچنبھے کی بات نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم بطور سماج سانحات سے سبق حاصل نہیں کرتے، بلکہ ایسے ”کارنامے“ شدو مد سے ”سر انجام“ دیتے رہتے ہیں جن کے نتائج بد دیر پا اور اثرات جس کے دہائیوں پہ پھیلے ہوتے ہیں۔ ہند کے عبد الرحیم اجمیری،

Read more

سید منور حسن: ایسا کہاں سے لاؤں۔۔۔۔!

دکھ ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ وبا کے ہنگام کہ جب بے چینی اور خوف نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں دھرتی کے روشن چراغ بجھتے جاتے ہیں۔ خیر بانٹنے والے رخصت ہوئے جاتے ہیں۔ یوں کہ جیسے تسبیح کے ٹوٹنے پر دانے گرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ ستارے روز ٹوٹ کر گرتے ہیں غضب ہوا آج تو، آفتاب ٹوٹا ہے تقسیم ہند سے چھ برس قبل مسلم لیگ سے وابستہ سید خاندان میں اک چراغ ”منور“ ہوا۔ کیا خبر

Read more

بڑی تمکنت سے اہل دل اٹھ کے جا رہے ہیں!

کیسا وقت آن پڑا ہے، کوئی دن نہیں جاتا جب اہل علم کے اٹھ جانے کی خبر سننے کو نہ ملتی ہو۔ علم کی روشنی پھیلاتے، جہالت کی تاریکیاں کم کرتے اور سماج میں معتدل رویوں کو فروغ دیتے روشنیوں کے شہر کراچی کے مختلف مکاتب فکر کے دو آفتاب علم غروب ہو چلے ہیں۔ بادہ کش تھے جو پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں موت اس کی ہے کرے جس پہ زمانہ افسوس مفتی محمد نعیم جدوجہد کا استعارہ تھے

Read more

آہ طارق عزیز۔ ۔ ۔ ایک عہد جو تمام ہوا!

بٹوارے سے قریب ایک دہائی قبل کا قصہ ہے کہ صوبہ پنجاب کے شہر جالندھر کے میاں عبد العزیز آرائیں، جنہوں نے چوہدری رحمت علی کے مسلمانوں کی علیحدہ مملکت واسطے تجویز کردہ نام پاکستان کی مناسبت سے، اپنے نام کے ساتھ ”پاکستانی“ کا لاحقہ جڑ دیا تھا۔ عبد العزیز پاکستانی کے آنگن میں سنہ چالیس کی دہائی میں اک ننھے چراغ نے جنم لیا۔ جس کا نام طارق عزیز رکھا گیا۔ تقسیم کے ہنگام عبد العزیز پاکستانی کا خاندان اپنے خوابوں کی سرزمین پاکستان ہجرت کر کے منٹگمری (ساہیوال) آن بسا۔ طارق عزیز کی ابتدائی تعلیم و تربیت ساہیوال ہی میں ہوئی۔ بعد ازاں وہ ساہیوال سے لاہور منتقل ہو گئے۔

مردانہ وجاہت، بارعب آواز، دلکش و دلنشین انداز گفتگو، سراپا وقار و متانت، پرتاثیر لب و لہجہ کے مالک طارق عزیز کو پاکستان سے محبت ورثے میں ملی تھی۔ پاکستانیت جن کے وجود میں رچی بسی تھی۔ حب الوطنی کے اس مجسم پیکر نے اپنے ورثے کو اگلی نسلوں تک بھی بہ حسن و خوبی پہنچایا۔ اپنی ہر گفتگو کا اختتام جب وہ ”پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد“ کے فلک شگاف نعروں پر کرتے تو وطن کی محبت رگ و پے میں اترتی محسوس ہوتی۔

Read more