مسائل کا حل مشکل ہے، مگر ناممکن نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل میرے ذہن میں یہ بات ہے کہ ہم روٹین سے ہٹ کر کچھ ایسا لکھیں کہ جسے عام حالات میں کالم نویس اپنا موضوع نہیں بناتے اور وہ صرف لکھنے اور پڑھنے تک ہی محدود نہ ہو بل کہ اس سے ملک و ملت کے فائدے کا پہلو نکلتا ہو۔ مرے اس سے قبل کے دو کالموں کے بعد مرے قارئین نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ مسائل تو قریباً ہر ذی شعور پاکستانی جانتا ہے مگر ان کا حل کیا ہے؟ ہمیں اس طرف غورکرنا اور پڑھنا چاہیے تاکہ ہمارا پیارا ملک اس مسائل کی دلدل سے نکل سکے۔

مرا کہنا ہے کہ ہم اچھی طرح سے ان تمام نہیں تو کم از کم بنیادی خرابیوں کا احاطہ کرنے اور تشخیص کرنے کے بعد اس کے علاج کی طرف قدم بڑھائیں۔ گو میں اپنے قارئین کے جذبات کو سمجھتا ہوں کہ ہر محب وطن پاکستانی کی خواہش ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے معاملات درست ہوں۔ گو مشکل ہے مگر ایسا ناممکن نہیں ہے۔ اس جلدی کی وجہ، سمجھ میں آتی ہے، کیوں کہ:

٭ جب ملک میں نفسانفسی کا عالم ہو اور عزیر بلوچ کی پرورش کرنے والے ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہوں تو فکرمندی لاحق ہوتی ہے۔

٭ جب ملکی معاشی صورت حالات سے لاتعلق ہو کر ایوانوں میں بیٹھے بڑے بڑے لوگ منی لانڈرنگ کر کے اپنے اثاثے ملک سے باہر بنا رہے ہوں تو دکھ ہوتا ہے۔

٭ جب اپنے ذاتی مفاد کے لیے بڑے بڑے غیرپیداواری پراجیکٹ زر مبادلہ کی صورت میں قرض لے کر بنائے جا رہے ہوں تو تکلیف ہوتی ہے اور پریشانی بڑھتی ہے۔

٭ جب صوبے کا گورنر ریکارڈ مدت کے لیے ایسا شخص رہے جس پر فوجداری مقدمات ہوں اور فائلیں ٹھپ رہیں۔ متعلقہ ادارے حرکت میں آنے کے بجائے سلامیاں پیش کریں تو دکھ ہوتا ہے۔

٭ جب صاحبان اقتدار اپنی نگرانی میں نہتے شہریوں پر پولیس کے ہاتھوں تشدد کروا رہے ہوں اور سال ہا سال گزر جانے کے بعد ہم کوئی انصاف نہ کر سک رہے ہوں تو نا امیدی ڈیرے ڈالتی ہے۔

٭ جب ہمارے ملک کے عوام کے چنے ہوئے نمایندے اور سربراہان بھارتی الزامات کی تائید کرتے ہوئے بھارت میں ممبئی حملے میں اجمل قصاب کے ملوث ہونے کی تصدیق کر رہے ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔

٭ جب پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث بھارت کے کل بھوشن یادیو کے اقراری بیان اور دیگر ٹھوس ثبوت آپ کے پاس موجود ہوں اور آپ ان پر خود بات نہ کر رہے ہوں بل کہ اپنی وزارت خارجہ کے افسران کی زبان بندی کے حکم جاری کرتے ہوں تاکہ آپ کے کاروباری مراسم پر کوئی حرف نہ آئے تو پریشانی ہوتی ہے۔

٭ جب ڈاکٹر عافیہ صدیقی پاکستانی قوم کی بیٹی بے گناہ ہوتے ہوئے سال ہا سال سے امریکا کی قید میں بلک رہی ہو اور ہم امریکی نژاد پاکستانی عوام کے قاتلوں کو پروٹوکول کے ساتھ ان کی حکومتوں کے حوالے کر رہے ہوں تو اپنے وطن کی آزادی مشکوک لگتی ہے۔

٭ جب قانون امیر اور صاحب اقتدار کے لیے الگ اور غریب عوام کے لیے الگ ہو، امیر اور صاحب اقتدار کو پروٹوکول کے ساتھ فوری انصاف ملے جب کہ غریب عدالتوں میں خوار ہوتے عمریں صرف کردیں تو دکھ ہوتا ہے۔

٭ جب قانون کہیں بھی نظر نہ آتا ہو اور طاقت ور من مانی کر رہے ہوں تو دکھ ہوا ہے۔

٭ جب خط غربت سے نیچے عام پاکستانیوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہو اور صاحب اقتدار کے اثاثے مختصر وقت میں سو فی صد سے زائد نسبت سے بڑھ جائیں تو اس جادوگری پر حیرت ہوتی ہے۔

٭ جب تمام تر بین الاقوامی قوانین اور معاہدات ہوتے ہوئے پاکستان کے خلاف دوسرے ملک میں بیٹھ کر سازشیں کرنے والے اور ملک کے خلاف کھلی زبان بولنے والے الطاف حسین کو پاکستان لا کر سزا نہ دلوا رہے ہوں تو اہل اقتدار کی نیتوں پر شک گزرتا ہے۔

٭ جب ہمارے وزرا بیان داغتے ہوئے یہ سوچنے اور اندازہ کرنے سے عاری ہوں کہ ان کے اس بیان سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا تو ہمیں اپنے چناؤ پر پچھتاوا ہوتا ہے۔

٭ جب قانون بنانے والے اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر جعلی ڈگریوں پر نوکریاں حاصل کرنے والوں کی حمایت کر رہے ہوں تو ان کی حب الوطنی پر رونا آتا ہے۔

معزز قارئین ہم سیاسی جماعتوں کے کارکن بعد میں ہیں اور پاکستانی سب سے پہلے ہیں۔ ہمیں اندھی تقلید کو چھوڑنا ہو گا۔ جب کبھی موقع ملے ہمیں اپنا ووٹ پاکستان کو دینا ہو گا۔ آئیں آج مل کر عہد کریں کہ ہماری پہلی ترجیح پاکستان ہے۔ ہم کردار کی بنیاد پر، اہلیت کی بنیاد پر سچے پاکستانی کو ہی اپنا نمایندہ ہر سطح پر منتخب کریں گے تاکہ پاکستان مضبوط بنایا جا سکے اور جس مقصد کے لیے ہمارے بزرگوں نے جانوں کا نذرانہ دیا تھا، وہ مقصد حاصل کیا جا سکے۔

آج اغیار مختلف زاویوں سے آپ کے اندر تفرقہ ڈال کر آپ کو نہ صرف کمزور کرنا چاہتا ہے بل کہ ختم کرنا چاہتا ہے اور ہمارے اپنے عاقبت نااندیش لوگ ان کے آلۂ کار بنے ہوئے ہیں، کچھ سب کچھ سمجھتے ہوئے اور کچھ نادانی میں۔ ہمیں اس مہم/ سازش کو ناکام بنانا ہے اور پاکستان کو، اس کے اداروں کو رشوت، چوربازاری سے پاک کرنا ہے اور مضبوط کرنا ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply