آسو بائی کی آواز سنو!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

، ادا! سیاستدان اور سماجی تنظیموں کے رہنما مڈل اسکول کی تعمیر کے حوالے سے جو وعدے کرکے گئے تھے 5 سال گزرگئے پر ابھی تک وفا نہیں ہوئے ہیں، میں بچوں کی تعلیم کو لے کے بہت پریشان ہوں، کیوں کہ یہی اول و آخر میرا مقصد حیات ہے، آپ کی مہربانی ہوگی اگر میری آواز، میری صدا ان تمام شخصیات تک پہنچائیں جو میرے (جھونپڑی اسکول) میں آکر فوٹو سیشن کے ساتھ ساتھ اسکول کی عمارت تعمیر کرانے کے وعدے بھی کرکے گئے تھے پر آج تک وہ وعدے وفا نہیں ہوئے اور میرا خواب ادھورا ہے، یہ الفاظ سندھ کی ایک بے مثال، ہونہار اور تعلیم کی شمعیں روشن کرنے کو زندگی کا مقصد بنانے والی بیٹی آسو بای کولہی کے جو چند دن پہلے مجھے اپنا قصہ سناتے ہوئے اداس و مایوس بھی ہوگئی تھیں اور میں ان کی تمام کہی باتوں کو بطور امانت ہم سب کے توسط سے قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں، کیوں کہ ہمارے سماج کے اندر اندھیرے کا رونا رونے والوں کی تعداد کم نہیں پر انہی اندھیروں میں علم و آگہی کے چراغ روشن کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی دیا جلا کر گھپ اندھیروں میں روشن راہیں متعین کرنے کی کوشش کرتا ہے تو معاشرے کے ایسے ہی فانوس کرداروں کو کئی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ آسو بائی کولہی بھی ہمارے معاشرے کا ایسا ہی بے مثال کردار ہے جس نے وسائل کے بغیر ہی ضلع میرپورخاص کی تحصیل کنری کے ایک چھوٹے سے گاؤں (گوٹھ مینا جی دھانی) میں اپنی مدد آپ کے تحت ایک جھونپڑی اسکول قائم کیا جہاں انہوں نے گاؤں کے اسٹریٹ چلڈرین کو مفت تعلیم دینے کا بیڑہ اٹھایا۔

آسو بائی کی یہ کاوش رنگ لے آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کا جھونپڑی اسکول حصول علم کی آس رکھنے والے بچوں سے بھر گیا اور دیگر قریبی گاؤں کے والدین نے بھی سینکڑوں کی تعداد میں اپنے بچوں کو آسو بائی کے جھونپڑی اسکول میں داخلہ دلایا اسی دوران سندھی ٹی وی چینل آواز ٹی وی پر آسو بائی کولہی کے اسکول کو پہلی بار ہائی لائٹ کرکے متعلقہ حکام و سماجی تنظیموں کے نوٹس میں یہ جھونپڑی اسکول لایا گیا۔ پھر کیا تھا بس آسو بائی کے اسکول پر روزانہ کی بنیاد پر حکومت سندھ کے نمائندوں اور سوشل ورکرز کے آنے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا یوں بات وزیراعلی سندھ تک جا پنہچی اور نہ صرف حکومت سندھ بلکہ امریکہ کی طرف سے بھی آسو بائی کی کاوش کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

میدان تعلیم میں آج جہاں ہمار ملک و معاشرہ ترقی یافتہ اقوام کے بنسبت صدیوں پیچھے نظر آتا ہے اسی سماج میں جب آسو بائی جیسے عظیم علم دوست کردار جنم لیتے اور آگے بڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں تو حقیقی خوشی محسوس ہوتی ہے کیوں کہ سندھ کے پسماندہ علاقے اور قبیلے سے تعلق ہونے اور جسمانی معذوری کے باوجود دھرتی کی اس عظیم بیٹی نے اپنے مقصد کو مرنے نہیں دیا اور جہد مسلسل کے مانند بچپن سے لے کر آج تک مشکلات سے مقابلہ کرکے بھی نہیں تھکیں اور اپنی منزل کی جانب سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آسو بائی سے چند دن پہلے جب رابطہ ہوا تو مڈل اسکول کی نامکمل عمارت اور سیاستدانوں کے ادھورے وعدوں کو لے کر وہ کچھ کچھ مایوس ضرور لگیں پر فروغ تعلیم کا عظیم مقصد مستقل مزاجی سے جاری رکھنے اور آگے بڑھنے کی جستجو میں کوئی نظر نہیں آئی، آسو بائی حکومت سندھ کے نمائندوں اور فروغ تعلیم کے نام پر سالانہ کروڑوں کا فنڈ لینے والی سماجی تنظیموں کے کھوکھلے وعدوں سے نالاں ہیں اور ان کی یہ ناراضگی بجا بھی ہے کیوں کہ ان کا خواب اپنے معاشرے سے جہالت کے اندھیروں کا خاتمہ کرکے مستقل روشنی لانا ہے، ایک ایسی روشنی جس کے بعد کبھی اندھیرا چھانے کی فکر باقی نہیں رہے گی اور روشنی کے پھیلاؤ کے اس سفر میں، اس عظیم کاوش میں ایک نہتی معذور لڑکی کی مدد کرنا حکومت، سیاسی، سماجی تنظیموں سمیت پورے معاشرے کا فرض بنتا ہے۔

آسو بائی جیسے انسانوں کا ہمارے معاشرے میں جنم لینا کسی معجزے سے کم نہیں کیوں کہ کراچی تا خیبر اگر ہم نظر دوڑائیں تو سرکاری درسگاہیں انتہائی ابتر حالت میں نظر آتی ہیں ہزاروں کی تعداد میں گھوسٹ اساتذہ ہیں جو فرائض کی ادائیگی کے بغیر گھر بیٹھے ہی ماہانہ تنخواہ لینے میں کوئی شرم، کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے، یہی وجہ ہے کہ ورلڈ بنک، ایشین بنک اور یورپین، امریکن این جی اوز کی جانب سے کئی برسوں سے پاکستان کے تعلیمی اداروں کی حالت ابتر کو بہتر بنانے کے لیے تسلسل کے ساتھ خطیر رقم فراہم کرنے کے باوجود لاکھوں بچے اسکول جانے کے بجائے اسٹریٹ چلڈرین بنے ہوئے ہیں، جن کا کوئی مستقبل نہیں، جن کا کوئی کیریئر نہیں۔

پاکستان ساؤتھ ایشیا ریجن کا شاید واحد ملک ہے جہاں شرح تعلیم میں سالہا سال اضافے کے بجائے گھٹاؤ ہوتا آ رہا ہے۔ شعبہ تعلیم کے حوالے سے یہی تلخ حقیقت ہے ہمارے ملک و معاشرے کی اور ایسے بدترین حالات میں اگر کنری کے گاؤں مینا جی دھانی کی معذور بیٹی آسو بائی تعلیم کو فروغ دے رہی ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں بچوں کو مفت پڑھا رہی ہیں تو کیا ان کا اتنا بھی حق نہیں بنتا کہ انہیں اسی جگہ ایک اچھا سا مڈل اسکول بنا کر دیا جائے جو ان کی معصوم آنکھوں کا خواب ہے اور ابھی تک نامکمل ہے۔

کیا یہ میرپورخاص اور کنری کے منتخب نمائندوں، سماجی ورکرز، مخیر حضرات کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ اپنے علاقے کی اس بہادر بیٹی آسو بائی کی ہمت افزائی کے لیے ان کی ہر ممکن مدد کو یقینی بنائیں اور انہیں احساس دلائیں کہ وہ اس عظیم مقصد میں خود کو اکیلی نہ سمجھیں، ہم سب ان کے ساتھ ہیں، وہ مایوس نہ ہوں کیوں کہ ایسے کردار ہمارے معاشرے کا حقیقی حسن ہیں اور شاید ایسے ہی کرداروں کی وجہ سے ہمارا مستقبل تابناک ہو بھی سکتا ہے، لہذا میں ایک بار پھر ان تمام سیاستدانوں، منتخب نمائندوں اور این جی اوز کے نام پر کروڑوں کی رقم لینے والے حضرات سے گزارش کرتا ہوں کہ آسو بائی کے نامکمل مڈل اسکول کو تعمیر کرانے میں ان سے کیے گئے وعدوں پر عمل کریں اور سندھ کا محکمہ تعلیم گوٹھ مینا جی دھانی کے اس اسکول کو آسو بائی کی خدمات کے اعتراف میں ان کے نام سے منسوب کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *