عثمان بزدار کی بوری میں سوراخ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی بوری میں ہونیوالا سوراخ بندہوگیا ہے ہر گز نہیں‘متبادل کی تلاش جاری ہے‘ جلد یا تاخیر‘ عثمان بزدار کو جانا ہے‘ یہ بات سب ہی جانتے ہیں کوئی مان رہا ہے کوئی نہیں مان رہا‘ سبھی سٹیک ہولڈرز کو پیغام دیدیا گیا ہے کہ پنجاب میں تبدیلی ناگزیر ہے تاہم فیصلہ کن قوتوں اور شخصیات کسی ایک نام پر متفق نہیں ہورہے‘ وزیراعظم عمران خان نے بھی نا چاہتے ہوئے رضامندی ظاہر کر دی ہے بے شک وہ تردید کرتے رہیں‘ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے وزیراعلی بننے کی تردید کی ہے کیا یہ مانا جاسکتا ہے کہ گجرات  کے چوہدری پنجاب کی پگ کے خواہشمند نہیں۔

پہلے بوری اور سوراخ کا قصہ سن لیں اورپھر میں اصل موضوع مدعا کی طرف آتا ہوں‘ 85 کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد نواز شریف پنجاب کے وزیراعلی منتخب ہوئے‘ ظاہر ہے یہ سب کچھ جنرل ضیاء الحق کی کرم فرمائی کا نتیجہ تھا کچھ عرصہ بعد ضیاء الحق کو نوازشریف سے شکایت پیدا ہوئی تو انہوں نے بڑے پیرپگاڑ مرحوم سے ذکرکیا تو منجھے ہوئے سیاستدان نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ میں اس کا بندوبست کرتا ہوں‘ پگاڑا صاحب نے اپنی قریبی عزیز نوجوان سیاستدان یوسف رضا گیلانی کو اپنے پاس بلایا اور پنجاب میں تبدیلی کی نوید سناتے ہوئے انہیں ایم پی ایزکو اکٹھا کرنے کا ٹاسک دیا تاکہ نواز شریف کی جگہ یوسف رضا گیلانی کو وزیراعلی پنجاب بنوایا جاسکے۔

نواز شریف  بھانپ گئے انہوں نے صدر جنرل ضیاء الحق سے فوری طور پرملاقات کی اور معاملات ٹھیک کر لئے‘ ضیاء الحق نے پیرپگاڑا کو اوکے کی رپورٹ دیدی‘ جس پر منفرد اور ذومعنی بیانات دینے کی شہرت رکھنے والے پیرپگاڑا نے بیان دیاکہ ’’میں نے نواز شریف کی بوری میں ہونیوالا سوراخ بند کر دیا ہے اور صدر ضیاء الحق نے بھی کہا کہ نواز شریف کا قلعہ  مضبوط ہے‘ وزیراعلی نواز شریف کی تبدیلی کا معاملہ ڈرامائی انداز میں ختم ہوگیا۔

یہ واقعہ سابق وزیراعظم گیلانی نے اپنی کتاب’’چاہ یوسف سے صدا‘‘ میں بھی درج کیا ہے‘ اب معاملہ قطعی مختلف ہے‘ مقصد عثمان بزدار کو دبائو میں لانا نہیں بلکہ ان کی کارکردگی اور گڈ گورننس ہے وزیراعظم عمران خان نے پنجاب میں بڑھتی ہوئی کرپشن کا آن دی ریکارڈ ناراضی کا اظہار کیا ہے نجانے آف دی ریکارڈ انہوں نے پنجاب حکومت کی کارکردگی بارے کیاکچھ کہا ہوگا‘ وزیراعظم عمران خان کی ناراضی اس بات کاپتہ دیتی ہے کہ سردار عثمان بزادار کی بوری میں ہونیوالا سوراخ بند نہیں ہوا‘ تبدیلی کی تدابیر سوچی جارہی ہیں‘ وزارت اعلی کے متوقع امیدواروں کے لئے لابنگ جاری ہے‘ جس میں برادری ازم‘ علاقائی تعلق‘ عسکری قیادت سے تعلقات‘ رشتہ داری‘ تحریک انصاف کے اندرمقبولیت‘ سافٹ امیج‘ تعلیم‘ شفاف شخصیت جیسے عوامل دیکھے جارہے ہیں۔

 وزیراعظم عمران خان چوہدری پرویز الہی کے حق میں نہیں ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ چوہدری برادران انہیں بلیک میل کر رہے ہیں لیکن چوہدری پرویز الہی کے نام قرعہ فال نکلتا ہے تو یہ وزیراعظم عمران خان سے بالاہوگا جیسا کہ نواز شریف کے علاج کے لئے لندن روانگی کا فیصلہ عمران خان کے نہ چاہنے کے باوجود ہوگیا تھا‘ اگر وزیراعظم عمران خان کو چوائس کا موقع دیا گیا تو عثمان بزدار کا متبادل حیران کن طور پر نیا اور غیر معروف نام ہوگا البتہ عمران خان کارکردگی اور شفاف شخصیت کو ضرور ترجیح دیں گے۔

ان دنوں وزیراعظم صوبائی وزراء کی کارکردگی کو خود مانیٹر کر رہیہیں‘ بہت سے وزراء کی ورکنگ سے مطمئن ہیں اور کچھ سے قطعی غیر مطمن‘ اطلاعات ہیں کہ عثمان بزدار کامتبادل بھی جنوبی پنجاب سے تلاش کیا جارہا ہے یا پھرپوٹھوہار کی لاٹری نکل سکتی ہے‘ وسطی پنجاب کے امکانات کم ہیں‘ ملتان سے صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک کا نام بھی وزارت اعلی کے لئے زیر غور ہے‘ جنہوں نے صوبہ کی سطح پر توانائی جیسے ڈیڈ محکمے کو زندہ کرتے ہوئے سولرانجری کے درجنوں پراجیکٹ شروع کر رکھے ہیں‘ نیا پاکستان سولرائزیشن پروگرام کے تحت 15ہزار سکولوں‘ 2400 بنیادی مراکز صحت کو سولر پر منتقل کیاجارہا ہے‘ ماحول دوست انرجی کی پیداوار وزیراعظم عمران خان کے عین وژن کے مطابق ہے جس کی رپورٹ اسلام آباد باقاعدگی سے بھجوائی جاتی ہیں۔

 ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال کو تین ماہ کے عرصہ میں سولر پر منتقل کر کے تقریباً پچاس لاکھ ماہانہ بجلی کے بل سے بچا لیا گیا ہے‘ وزیراعظم بہت ہی قریب زلفی بخاری کے رشتہ دار ایم پی اے جن کا تعلق ضلع اٹک سے ہے ان پر قسمت کی باآوری ہوسکتی ہے وزیراعظم عمران خان کی ترجیح پسماندہ‘ دور دراز کے علاقہ سے وزیراعلی لانا ہوگی‘ کسی بڑے اور پیسے والے نام کو ترجیح نہیں دیں گے کیونکہ جہانگیر ترین کی شکل میں انہیں تلخ تجربہ ہوچکا ہے۔

صوبائی ڈاکٹر اختر ملک کا تعلق آرائیں برادری سے ہے انہیں گورنر چوہدری سرور اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی قربت اور اعتماد حاصل ہے پاکستان کی سیاست میں برادری ازم کا عمل دخل موجود ہے صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال بھی برادری ازم کا پتہ کھیل رہے ہیں انہیں بھی تحریک انصاف کے اندر آرائیوں اور بااثر میڈیا مالکان کی حمایت ہے جو ان کے لئے لابی کر رہے ہیں‘ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے تردیدکے باوجود وزیراعلی عثمان بزدار افواہوں‘ خبروں‘ تجزیوں کی زینت بنے ہوئے ہیں‘ چاہیے تو یہ تھا وزیراعظم کے بیان کے بعد پنجاب میں تبدیلی کی خبروں کاسلسلہ رک جاتا لیکن اس کے برعکس متبادل کے تلاش کی خبریں ابھی بھی گرم اور تازہ ہیں اور کیوں نہ ہوں تحریک انصاف کے بڑے زعما‘ بعض وفاقی و صوبائی وزراء آف دی ریکارڈ بعض اوقات آن دی ریکارڈ ان خبروں کی تصدیق کرتے رہتے ہیں۔

چوہدری پرویز الہی لاکھ کہیں کہ وہ وزارت اعلی کے امیدوار نہیں‘ لیکن انہوں نے حسب روایت باریک کام جاری رکھا ہوا ہے‘ ن ‘ ق لیگ میں رابطے کھلے عام ہورہے ہیں‘ پنجاب اسمبلی میں پروڈکشن آڈر پر اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز اسمبلی کی بلڈنگ کے اندر پارٹی میٹنگز منعقد کر رہے ہیں‘ ملاقات کے لئے ایک کمرہ کم پڑنے پر سپیکر چوہدری پرویز الہی نے حمزہ شہباز کو دوسرا بڑا کمرہ بھی دیدیا ہے جہاں پر وہ فیملی کے ساتھ رات گئے تک وقت گزارتے ہیں‘ خفیہ اور اہم میٹنگز کے لئے کمرہ مخصوص ہے۔

ن لیگی ارکان اسمبلی ایوان کی بجائے اپوزیشن چیمبر میں حمزہ شہباز کوحاضری لگوانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں‘ قبل ازیں خواجہ سعد رفیق‘ خواجہ سلمان رفیق بھی چہودری پرویز الہی کے گھر کی یاترا کر چکے ہیں‘ تلخیوں‘ گلے شکوئوں کے خاتمہ کے بعد ن لیگ کا پرویز الہی کو وزارت اعلی کے لئے حمایت کوئی انہونی نہیں ہوگی نمبر آف گیم کچھ یوں ہے‘ ن لیگ 166‘ ق لیگ10‘ پی پی 7‘ آزاد 4ارکان کو ملا کر 187 ارکان صوبائی بنتے ہیں جبکہ وزارت اعلی کے لئے 186 ووٹ درکار ہیں‘ تحریک انصاف کے ناراض ارکان اسمبلی کی تعداد ڈبل ڈیجٹ کراس کر چکی ہے‘ خفیہ رائے شماری کا ان کا کردار کلیدی ہوگا‘ پیپلزپارٹی اور قاتل لیگ دونوں کے لئے اکٹھا ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے مثال موجود ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply