لاہور: کئی یادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور جنت نگر ہے، جس نے لاتعداد جسموں کی مٹی کو خود سے مس کیا۔ نام لاہورف سانہ ہے، اس کا گلی کوچہ فسانہ متعلق ہے۔ اس شہرمیں ہوائیں مدھم، سلونی چلتی ہیں۔ یہاں کی سرخ، سبزچڑیاں میٹھے گیت درخت، درخت جو کسی دربچے، چھت، دیوار کے بیچ بنا اجازت کے نکل آتے اور گم گشتہ یادوں کو تازہ کیے ہوئے ہیں، گنگناتی ہیں۔ اندر ہی اندرنام، چہرے، آوازیں بولیاں رات، دن کے فسانے ٹھیرائے ہوئے، معماروں کے ہاتھو ں سے تہذیب کے بنے ہوئے گھر، جن کو دیکھنے سے اندر کے مکینوں کے متعلق قیاس آرائیوں کو دل چاہتا ہے، اور دل چاہتا ہے دیکھیں یہ ساتھ کی تنگ گلی کہا ں نکلتی ہے، کون آتا جاتا ہو گا۔

یہ دروازہ، سامنے کا دروازہ جب کھلے گا تو کتنی ٹھنڈک ہماری روح کو تازہ کرے گی۔ یہ دلان کتنا بڑا ہے۔ سامنے جو کمرے ہیں اور ان کمروں کی غلام گردش، وہ کیا کھیل کھیلتی ہے۔ نیم کا درخت کتنا پرانا ہے مگر ابھی تک زندہ ہے وہ جو پہلے کے مکینوں کے ساتھ غم، خوشی، چھاؤں، مسکراہٹ، آنسو، راز بانٹنے کے ساتھ پروان چڑھتا رہا، اب نمایاں کمی ہے، تنگ گلیاں ان میں گزانے والوں نے کبھی آتے جاتے لب شکایتکے لیے نہیں کھولے۔

ایک ہی گھر میں چوبارے تک میں کئی لوگ رہتے تھے، بوڑھی دادی پلنگ پر جو دلان میں ہمیشہ نیم کے درخت کے نیچے دھرارہتا، منہ میں پان، تمباکو کڑوا ہے، سپاری، چونا، کتھا کی کم مقدار کے ساتھ آنے جانے والوں کو کھری کھری سناتی تھی۔ اگل دان میں منہ کو تھوڑا خالی کرنے بعد پھر شروع ہے۔ کوئی دل پر نہ لیتا۔ دیکھتے، مسکراتے اور گزرجاتے اور کام پر جانے سے چند لمحے پہلے پاس گئے سلام کیا، دل ٹھنڈا کیا اور دعاؤں کے ساتھ نکل گئے۔

لاہور جس میں کو ن کون خاک نشین نہیں کبھی کبھی حسد ہوتا ہے اے لاہور: تری مٹی کی خوشبو کن کن نے اپنے خون میں شامل نہ کی۔ آزاد کو سمائے ہوئے ہے، سر سید کے پاؤں سے تو نے فیض پایا۔ ہاے! کس کس کا نام لوں اب سوچتا ہو ں توخواب معلوم پڑتا ہے۔ منٹو کے پاس سے بے ادب لوگ خاموشی سے سلام کیے بغیر نکل پڑتے ہیں۔ منٹو کتنا اداس رہتا ہو گا الگ تھلگ اور انسانی نفسیات کو مزید کتنی گہرائی میں اتر کر دیکھتا ہوگا۔ لاہور سے جڑی کئی یادیں ہیں جن کو اس آسمان کے نیچے سمانا چاہوں تو ہاتھوں کو شل کر بیٹھوں، دل کو زخمی، کندھوں کو درد زدہ کر لوں۔ آنکھیں پھوڑ بیٹھوں اور ذہن کئی جراثیموں سے مل کر حمل زدہ محسوس ہو۔

جولائی چھ سن دو ہزار دس کی شام، فرشی جنت کی پہلی خوشبو مری نگہ سے دل میں اتری۔ تب تک محض میر، غالب سے آشنا تھا۔ ادب سے کچھ مرے مطالعہ میں نہ تھا۔ میر کی غزلیں پڑھتا اور غالب کی غزلوں پرغزلیں کہتا۔ بچگانہ خیال۔ بیگم روڈ، واقع جین مندر، جسے کے سامنے سے گزرتے ہوئے ہمیشہ یہی خیال ہوتا کہ کہاں ہے مری باقیات، کے مغربی حصے میں یک منزلا عمارت میں، جس کی کھڑکی سڑک کی جانب کھولتی تھی قیام کیا۔ کمروں سے تاریخی بارگشت سنائی پڑتی، نیچلے حصے میں دو وکیلوں کا قبضہ تھا، جہاں وہ خود کم اور بوسیدہ اوراق مٹی زیادہ کھاتے تھے۔

کھلی چھت پر پیپل کا درخت جسے کئی بار پھولنے سے روکا گیا یا یوں کہیے کوشش کی گئی پھر بھی انسانی مداخلت کے باوجو د نئی کونپلیں نکال لیتا۔ مشرق کی طرف عمارت کے دائیں حصے میں، انگریز دور کی یاد کسی ہندو سیٹھ نے ختم ہوتی زندگی کا، چونے پتھر سے تعمیر کیا فن تعمیر سے مزین پختہ گھر بنوایا تھا کہ آنے والی نسل کو کہانیاں سناے گا اور سنا رہا ہے، جس میں اب بھی جھانکنے سے زندگی کی مہک آتی ہے۔ تمام وقت جنگلی سرمائی کبوتر جنھوں نے اپنی ساتھ بسنے والوں کے ساتھ ہجرت کی تلخی نہیں اٹھائی، یہ سنانے کے لیے ہجرت کس قدر صدمہ ہے، ٹھہرے ہوئے ہیں۔ نسل در نسل انھیں تمام گھر میں، ہماری چھت پرکھلے آسمان میں آنے جانے کی آزادی ہے۔ مکین بدل گئے، بدل رہے ہیں۔ جانے ان کے سر میں کیا سودا سمایا ہوا ہے۔

لاہور نے آزمائش ڈالی اور دن گننا شروع ہوئے، ایک وکیل کے ہاں منشی ٹھہرا، پہلے دن دوسو پچاس روپے کماے اور پھر لاہور مری خوشی کو طول نہ دینا چاہتا تھا اور ایک سال تک پچاس روپے روز ملتارہے اور مری آنکھیں نم اور اس شہرکی رونقیں جوں کی توں رہی۔ سارا دن دوڑ دھوپ میں گزر جاتا، پھر بدلی ہوئی صاحب اور مکاں کی بھی، وہاں بدلی ہوئی جہاں ادیب روز گزرا کرتے، ٹھیرے رہے ہوں گئے، پاس ہی رہتے تھے اسلام نگر، کرشن نگر کے۔

روزانہ سو روپے مقرر ہوئے، چندے آسودگی میسر آئی۔ نئے بزرگ وکیل اعجاز خان، ایمان دارجو مری طرح چناب کے واسی تھے۔ تعلق بنا، جنھوں نے مری خدمات جن میں آوارگی زیادہ اور خدمت کم تھی، لیں۔ وہ بی۔ اے پڑنے لائل پور سے گورنمٹ کالج آئے۔ جہاں پطرس بخاری اپنا مرتبہ حاصل کر چکے تھے، جن کی باتیں بڑے کلاسیک انداز سے سناتے۔ ضیا می الدین ابھی طالب علم تھے۔ ادب رسائل کا دور دورا ہونے والے تھا۔ پاک ٹی ہاؤس ادبیوں کے سونے اٹھنے کی جگہ تھی۔

نقوش، ادب لطیف جیسے رسائل لوگ شوق سے پڑتے تھے، بہت کچھ ان سے جاننے اور سیکھنے کا موقع ملا۔ بہت سچے اور ملنسار ہیں۔ اپنے موکلوں کا کام مفت میں بھی اتنی ہی ایمان داری سے کرتے جتنے کم فیس دینے والوں کا ہوتا۔ مجھ سے اکثر کوکہا کرتے ”تم کہاں اس جھوٹ کی وادی میں آ گئے“ میں اب سوچتا ہوں شاید یہی نصیب تھا۔ جس لمحے آپ کو قسمت سے جو مل رہا ہوتا ہے تب یہی ممکن ہوتا ہے۔ بعد کو انسان اس پر غمگیں نہیں ہوتا، ہنستا ہے۔

ان کے پاس بڑی عدالتوں کے کیس زیادہ تھے۔ گورنمٹ کالج کی متضاد نکڑ پر چھوٹی عدالتیں ہیں وہاں سے چل کر مال روڈ سے بڑے پوسٹ آفس کی طرف جانا ہوتا تھا۔ آ! کیا امن تھا جب کالج کی دیوار پر علم دشمن نظروں سے پہلے لوہے کی چادریں نہیں تھیں۔ میں سلاخوں کو پکڑ منہ ان میں ٹھونس کر حسرت بھری نظروں سے طلبا کو آتے جاتے جھانکتا، اوپر سورج جل رہا ہوتانیچے دل، سانسیں مدھم ہو لیتی، زندگی بہاؤ آہستہ آہستہ کر لیتی۔ خواہش امڈآتی کسی دن اس عظیم تہذیب کا حصہ ہوں گا۔

ان دیوار و در کواپنی پوروں سے مس کروں گا۔ ان میں بہتے ہوئے ہوا کے ٹھنڈے جھونکے مری روح کو بھی تازہ کریں گئے۔ یہ سپنا تاحال سچ نہیں ہوا۔ خیر ایم۔ اے اور بڑی کلاس کی تحقیقی مشق کے لیے وہاں اکثر جانا ہوا۔ کیا شان دار دن ہوں گئے جب اس درس گاہ کو آزاد، آرنلڈ، اقبال، پطرس بخاری جیسے لوگوں کے قدم مس ہوئے ہوں گئے۔ تب بہترین دن تھے، بہترین دن تھے۔

میں نے لاہور کو پیدل دیکھا، جتنا دیکھ سکتا تھا۔ پرانے مکانوں کو دیکھتا۔ قطب الدین ایبک کی قبر پرسکون کرتا۔ یادگاریں ڈھونڈتا اور تنگ گلیوں میں آہستہ خرامیاں کرتا۔ ہر چھٹی کو یہی معمول دہراتا۔ لاہور میں مری دوسری مصروفیات مال روڈ پر پرانی کتابوں کی تلاش تھی۔ تب ادب سے شناشائی ہوئی۔ قلیل پیسوں کے بعد بھی کتاب خرید لیتا اور اس دن ایک وقت کا کھانا ہوتا پر جو خوشی کتاب ہات میں لیے ہوتی دیدنی ہوتی۔ شکر گڑھ اور قصور کے دوستوں سے یارانہ ہو گیا اور انگریزی ان سے پڑتا اور عالمی ادب سے تعارف ہوا۔

کیا مختصر زمانہ تھا ایسے شوق ڈالے جو نکلتے نہ نکلے۔ جب وہ ایم۔ اے کی سند پا کر واپس چلے گئے میں اکیلا پڑ گیا۔ روای کو پار کرکے چناب کے دوسرے کنارے بس گیا۔ ہنوز یہاں ہوں۔ لاہور شہر نے اپنے اندر جذب نہ ہونے دیا۔ دوبار لمبے اور مختصر عرصے کے لیے گیا، اس نے مرے ساتھ اجنبیوں والا سلوک دہرایا۔ کیا تھا اگر اس فضا اس پر ادب فضا سے اپنے حصے کی خوشبو کو اپنے جسم میں خون کے ساتھ قید کر لیتا۔ میں سمندر کے ساحل سے پیاسا لوٹ آیا۔ سب کو خود میں جگہ دی کیا مرے لیے ترے پاس ایک خواب دکھانے کی بھی جگہ نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply