ایلفی سے دنبے کی کھال چپکا کر بکرا بیچ دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عید الضحیٰ کے موقع پر سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے لئے مسلمان قربانی کے جانور خریدتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ قربانی کا جانور خوبصورت، تگڑا اور بغیر کسی عیب کے ہو، تاکہ دی جانے والی قربانی رب کے حضور قبول ہو جائے۔ عید الضحیٰ کے آتے ہی ایک خاص قسم کا ٹھگ باز گروہ بھی سرگرم ہوجاتا ہے جو عیب دار جانوروں کے عیب کسی نہ کسی طرح چھپا کر انھیں مہنگے داموں فروخت کر کے رفو چکر ہوجاتا ہے۔

اکثر یہ خبریں عید الضحیٰ کے موقع پر سننے کو ملتی ہیں کہ بکرے کے سینگ ایلفی سے چپکا کر گاہک کو بیچ دیا گیا۔ پچھلے سال ایک ایسا گروہ بھی پکڑا گیا جو دانت ٹوٹے بکروں کو ماربل سے بنائے دانت لگاتے تھے حتیٰ کہ ایک واقعہ ایسا بھی رونما ہوا جس میں لنگڑے بکرے کی ٹانگ جوڑ کر گاہک کو فروخت کر دیا گیا تھا۔ عیب دارجانوروں کی حقیقت جب بعد میں کھلتی ہے تو گاہک کواندازہ ہوتا ہے کہ قربانی سے پہلے ہی اس کی رقم قربان ہوچکی ہے۔

لوگوں کا خیال تھا کہ قربانی کے جانوروں کے نقلی سینگ، نقلی دانت یانقلی ٹانگ سے بڑھ کر اب مزید کچھ ٹھگ بازی نہیں ہوگی لیکن اس سال ٹھگ بازوں نے اپنے تمام سابقہ ریکارڈ توڑتے ہوئے ایسی ٹھگی لگائی کہ دیکھنے اور سننے والے حیرت زدہ رہ گئے۔ واقہعہ کچھ یوں ہے کہ ایک گاہک نے ٹھگ بیوپاری سے کچھ دیر سودے بازی کر کے ایک دنبہ خریدلیا۔ دنبے کو لے کرجب وہ اپنے گھر پہنچا تو سبھی گھر والے بہت خوش ہوئے۔ حسب روایت دنبے کو دیکھنے کے لئے محلے داربھی پہنچے، قیمت پوچھی اور مبارک باد دی۔

اگلے روز دنبے کو چارہ ڈالنے کے بعد اس کی صفائی ستھرائی کی خاطر جب اس کو نہلاتے وقت صابن لگایا تو دنبے کے کچھ بال اتر کر اس کے مالک کے ہاتھ میں آگئے، وہ حیران اور پریشان ہوگیا اور دل میں سوچنے لگا کہ کہیں دنبے کو بالچرتو نہیں ہوگیا ہے یا دنبے کوکورونا تو نہیں ہوگیا جس کے نتیجہ میں ایسا ہورہا ہے۔ یہ بات تو آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج کل کورونا کی دہشت اس قدر پھیل چکی ہے کہ معمولی زکام ہو یا انوکھی بیماری اس کا سب سے پہلاذمہ دار کورونا کو ہی سمجھا جاتا ہے۔

خیر مالک نے دنبے کو نہلا کر اسے خشک کرنا چاہا تو دنبے کی کھال مزیداترنے لگی۔ یہ عجیب منظر دیکھ کر کچھ لوگ بھی وہاں جمع ہوگئے۔ سب نے اپنی اپنی سائنس لڑا ئی اور مختلف رائے پیش کیں۔ اس دوران دنبے کی کھال بھی لوگوں کے ہاتھ لگائے اترتی رہی۔ براون رنگ کے دنبے کی کھال جب آدھی سے زیادہ اتر گئی تو نیچے سے کالے رنگ کاکم عمربکرا نکل برآمد ہوگیا۔ دنبے کا مالک اورتماشائی سارا کھیل سمجھ چکے تھے کہ ٹھگ بیوپاری نے کالے رنگ کے چھوٹے بکرے پربراون رنگ کے دنبے کی کھال اس پر ایلفی سے چپکا کر گاہک کو مہنگے داموں بیچ دیا تھا۔ بے چارہ گاہک اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ کچھ لوگ اس انوکھے واقعہ سے لطف انداز ہوتے رہے جبکہ کچھ لٹنے والے گاہک کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ٹھگ بیوپاری کو کوستے رہے۔ اس منظر کی کسی نے موبائل پر ویڈیا بھی بنا لی اور سوشل میڈیا پر ڈال دی جوچند لمحوں میں وائرل ہوگئی۔

وائرل ویڈیو دیکھنے کے بعد قربانی کے جانور خریدنے والے گاہک مزید محتاط ہوگئے ہیں وہ سمجھ گئے کہ اب بکرے خریدنے سے پہلے ان کے دانت، سینگ اور ٹانگوں کے ساتھ ساتھ ان کی کھال بھی اچھی طرح چیک کرنی ہے۔ گاہکوں کی جانب سے بکروں کے منہ زبردستی کھول کر ان کے دانت ٹھوک بجا کرچیک کرنا، ان کے سینگ اور ٹانگیں کھینچ کر چیک کرنا اور اب ان کی کھال کو بھی زور زور سے کھینچ کر اچھی طرح چیک کرنے پر بکروں نے جانوروں کے حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ قربانی سے قبل ان کی جانچ پڑتال کے دوران ہونے والے تشددکو روکا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *