شہر دل فریب کوئٹہ کے سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چچا مرحوم کوئٹہ سے بمع اہل و عیال جب کراچی منتقل ہوئے تو گھر کی رونق میں اضافہ ہو گیا۔ اور ہوتا بھی کیوں نا، چچا مرحوم کے بڑے صاحب زادے برادر عزیز محمود زیدی جو میرے ہم عمر ہیں، کی رفاقت جو میسر آ گئی تھی۔ کھیل کود ہو، سودا سلف لانا ہو یا سائیکل پر سیریں ہوں۔ دونوں بھائیوں کی جوڑی ساتھ ہوتی تھی۔ کوئٹہ کی ٹھنڈ کے اور دیگر قصے بھی برادر عزیز محمود وقتاً فوقتاً گوش گزار کرتے رہتے تھے۔ جس سے کوئٹہ شہر جانے کی تمنا دل میں جاگ اٹھتی تھی۔

جون 1979 میں والد مرحوم سرکاری دورے پر جب کوئٹہ تشریف لے جانے لگے تو امی نے مجھے بھی ساتھ کر دیا۔ دن 12 بجے بولان میل کینٹ سٹیشن سے روانہ ہوئی۔ سفر چپ چاپ گزر رہا تھا کہ شام کے وقت سن سٹیشن پر گاڑی رکی۔ سٹیشن پر رونق تھی اور سندھی کھیرے اور بیہ کی چاٹ مل رہی تھی۔ اس کے بعد ایک اور دفعہ بذریعہ ٹرین کوئٹہ جانا ہوا تو ٹرین سن پر نہ رکی۔ بتایا گیا کہ حالات اب ایسے نہیں کہ ٹرین یہاں روکی جائے۔ رات چار بجے کے قریب گرمی کی شدت و حدت اور پسینے سے تر بتر ہڑ بڑا کر آنکھ کھل گئی۔ تو پاپا مرحوم نے مسکرا کر کہا کہ سبی آ گیا ہے۔

صبح چھے بجے مچھ کے ریلوے سٹیشن پر گاڑی رکی۔ پاپا مرحوم نے بتایا کہ یہاں کی جیل میں انتہائی خطرناک قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔ نو بجے کوئٹہ پہنچ گئے۔ رکشے میں بیٹھ کر سریاب یا سرکی روڈ پر واقع بی ڈی اے ( بلوچستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی ) کی رہائشی کالونی پہنچے۔ کلب سے متصل گیسٹ ہاؤس میں رہائش کا بندوبست تھا۔ خانساماں کی سہولت بھی تھی۔ پاپا مرحوم سینئر کمرشل آڈٹ افسر تھے۔ مختلف سرکاری محکموں کا آڈٹ ان کی ذمے داریوں میں شامل تھا۔ شدید مالی بے ضابطگیوں کی شکایت پر کوئٹہ جانے کا حکم ملا تھا۔

شام کو جی ایم صاحب نے اپنے بنگلے پر چائے پر بلایا۔ جہاں چائے کے ساتھ انواع و اقسام کے موسمی پھل، کیک، پیٹیز و بسکٹ میز پر سجے تھے۔ پاپا مرحوم کی پہلے سے دی گئی ہدایت کے مطابق صرف چائے پی۔ کالونی میں مہینوں سے رہائش پذیر ایک آڈٹ افسر کے گھر بھی جانا ہوا جو بمع اہل و عیال وہاں مقیم تھے۔ اس گھرانے سے مل کر اور ان کی بود و باش دیکھ کر پاپا مرحوم کی کوئٹہ آمد کی غرض و غائت سمجھ آ گئی۔ چچی اور برادر عزیز محمود بھی اپنے بہن بھائیوں کے ہمراہ ان دنوں کوئٹہ موجود تھے۔

سرکاری گاڑی میں ہنہ اوڑک جانے کا پروگرام بنا۔ اور ہم سب ہنہ اوڑک پہنچے۔ اوڑک پہنچنے کے قریب ہی تھے کہ سیبوں کی اشتہا انگیز خوشبو آنی شروع ہو گئی۔ دراز قد سادے لباس میں موجود جو صاحب گاڑی چلا رہے تھے، سے باتوں باتوں میں پتا چلا کہ موصوف بی ڈی اے میں اسسٹنٹ مینیجر ہیں اور اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔ ورنہ ہم تو ان کو ڈرائیور سمجھ رہے تھے۔ ہنہ جھیل کی خوب صورتی بے مثال ہے۔ اوڑک میں کاریز کا ٹھنڈا صاف و شفاف پانی کا نظام ہے اور لب سڑک ہی سیب کے درخت ہیں کہ ہاتھ بڑھا کر ہی توڑ لیا جائے۔ لیکن یہ جرات نہیں کی کہ سنا تھا، مالک باغ اگر دیکھ لے اور اسے غصہ آ جائے تو بطور سزا کہہ سکتا ہے، جہاں سے سیب توڑا ہے، وہیں لگاؤ۔ سیر سپاٹے سے فارغ ہو کر دوسرے دن بازار پہنچے۔ اس زمانے میں کوئٹہ جانے والوں کو عزیز و اقارب ایک فہرست کوئٹہ سے سامان لانے کی پکڑا دیتے تھے۔ جس میں کراکری اور جاپانی کے ٹی سر فہرست ہوتی تھی۔ پاپا مرحوم اور چچی کے ساتھ بازار جا کر یہ خریداریاں بھی کیں۔

چند دن کے بعد واپسی کے وقت پاپا مرحوم نے خانساماں سے کھانے پینے کا حساب کتاب مانگا۔ جو اس نے پاپا کی ہدایت کے مطابق ایک کاپی پر روزانہ کے حساب سے لکھا ہوا تھا۔ 139 روپے کا کل حساب تھا۔ جو اوپری رقم کے ساتھ اس کو ادا کر دیا گیا۔ ان دنوں سکائی لیب کا بڑا چرچا تھا۔ ہر شخص ڈرا ہوا تھا کہ اب گری کہ اب گری۔ کوئٹہ سے واپسی پر دوران سفر یہ ہی دھڑکا لگا رہا کہ کہیں لیب ٹرین پر ہی نہ گر جائے۔ چونکہ لیب گرنا ہی چاہتی تھی اور ہم محو سفر تھے۔

مارچ 1983 میں برادر عزیز محمود زیدی اور ایک کزن کے ساتھ کوئٹہ جانا ہوا۔ اس سفر میں دو چار دن کے لئے مستونگ بھی گئے۔ جہاں محمود زیدی کی خالہ مرحومہ مقیم تھیں۔ خالو کی کلینک تھی۔ ہم سے چھوٹا ان کا ہنس مکھ و شوخ بیٹا ڈاکٹر سید احمد رضا شہید تھا۔ جس کے ساتھ مستونگ میں بہت خوش گوار وقت گزرا۔ ڈاکٹر سید کرار حسین زیدی مرحوم کے گھر بھی جانا ہوا۔ جنہوں نے دعوت کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ وہیں کیپٹین سید احمد مبین شہید سابق ڈی آئی جی، ٹریفک لاہور جو کہ اس وقت چھوٹے بچے سے بھی ملاقات ہوئی۔ شہداء ڈاکٹر سید احمد رضا اور کیپٹین سید احمد مبین آپس میں کزن بھی تھے۔ ڈاکٹر احمد رضا کو مستونگ میں کلینک سے واپسی پر شہید کیا گیا اور کیپٹین سید احمد مبین لاہور خود کش بم دھماکے میں شہید ہوئے۔

شاہ سٹوڈیو کوئٹہ کا مشہور و معروف فوٹو سٹوڈیو ہے۔ جو ہمارے ایک عزیز سید احمد رضا زیدی مرحوم نے قائم کیا تھا۔ مختلف اخبارات اور عسکری ادارے فوٹو گرافی کے لئے ان کی خدمات حاصل کرتے تھے۔ کوئٹہ شہر میں پہلی فوٹو سٹیٹ مشین بھی انہوں نے درآمد کی تھی۔ فوٹو سٹوڈیو اور مرحوم کے گھر بھی جانا ہوا اور پورے کنبے کا بہت مثبت تاثر قائم ہوا۔ اس دفعہ بھی بازار کے چکر لگتے رہے اور خشک میوہ جات وغیرہ خریدے اور دل بھر کے کھائے کہ سردی ان دنوں بھی خوب عروج پر تھی۔ کوئٹہ سے واپسی بھی بذریعہ ٹرین ہی ہوئی۔ کوئٹہ سے مچھ جیل کے لئے قیدی پولیس کے ہمراہ سوار ہوئے۔ پاپا مرحوم کا کہنا درست تھا کہ خطرناک قیدی مچھ جیل بھیجے جاتے ہیں۔ جیلوں کا آڈٹ اور ہرنائی وولن مل کا آڈٹ بھی ایک زمانے میں پاپا مرحوم کرتے رہے ہیں۔ کراچی پہنچ کر سٹیل مل میں دو سالہ ٹریننگ کا آغاز ہو گیا اور پھر ملازمت۔

فروری 1990 میں برادر عزیز شجاع زیدی حال مقیم کینیڈا اور دو مزید دفتری ساتھیوں کے ہمراہ بذریعہ بس کوئٹہ پہنچے اور ہوٹل میں قیام کیا۔ ہوٹل میں پنجاب سے بارات آئی ہوئی تھی۔ یوں خوب رونق اور ہلا گلا ہوٹل میں برپا رہتا تھا اور ماحول ہوٹل کے ماحول سے قطعی مختلف تھا۔ اس دفعہ ایک عزیز کی گاڑی جو کہ میں چلا رہا تھا، ہنہ اوڑک کا یادگار سفر کیا۔ سردیاں عروج پر تھیں۔ روز بازاروں کے چکر لگتے۔ بازار ہر قسم کی روسی اشیاء سے بھرے پڑے تھے۔ یہاں تک کہ ٹھیلوں پر بھی روسی گھریلو اشیاء، اوزار اور سٹیشنری بک رہی تھی۔

اس سفر کا ایک دل چسپ واقعہ ہے کہ بھلائے نہیں بھولتا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ہم بیچ بازار ہمدرد دوا خانے کے سامنے کھڑے مول بھاؤ کر رہے تھے۔ جب کہ ہمارے ایک ساتھی جن کی توند غیر مناسب طور پر باہر کو لٹکی رہتی تھی، کو ایک مقامی شخص توند ختم کرنے کا نادر نسخہ خاص بتا رہا تھا، جو چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں غیر معمولی چمک سجائے انتہائی انہماک سے وہ سن رہے تھے۔ آوازیں تو ہمارے کانوں میں بھی پڑ رہی تھیں۔ لیکن کسی کے معاملے میں دخل دینا خلاف عادت ہے۔ اس لئے خاموش تھے کہ دوست نے انداز سرگوشی میں پوچھا: کیا کروں؟

جواب دینے سے قبل مقامی شخص سے تفصیل پوچھی۔ اس نے بتایا: مذکورہ نسخے کی ادویات ہمدرد دوا خانے سے مبلغ پانچ سو روپے نقد میں ملیں گی اور میری کوئی فیس نہیں ہے۔ روداد سن کر میں نے تو دوست کو فوری منع کیا اور سمجھایا کہ یہ ٹھگنے کا منصوبہ ہے۔ جس پر انہوں نے اپنی توند کو حسرت بھری اور ہمیں خشمگیں نگاہ سے دیکھا۔ بہرحال سمجھانے بجھانے سے وہ ادویات خریدنے سے تو باز رہے، لیکن ہم کو جب بھی دیکھتے خفگی کی نظر سے دیکھتے۔ ہوٹل پہنچ کر ان کو بھی احساس ہوا کہ ان کو ٹھگا جا رہا تھا۔

دوست کی خفگی زیارت کا پروگرام بنا کر دور کی۔ چھے سو روپے میں آنے جانے کے لئے کار بک کی۔ اور زیارت کے دل چسپ سفر کا آغاز علی الصبح کیا۔ زیارت ریزیڈنسی کے اطراف برف پڑی ہوئی تھی۔ جو بھلی لگ رہی تھی۔ چند منچلے ایک دوسرے پر برف کے گولے بنا کر پھینک رہے تھے، تو بچے مجسمہ سازی کے فن کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ اور ہم دوست مناظر قدرت سے لطف اندوز کے ساتھ خوب صورت مقامات اور اپنی تصاویر بھی کیمرے میں محفوظ کر رہے تھے۔ مغرب تک کوئٹہ واپس آ گئے۔ سامان وغیرہ کی پیکنگ کی۔ اور دوسرے دن کراچی کے لئے عازم سفر ہوئے۔ یوں شہر کوئٹہ کا یادگار تیسرا سفر بھی اختتام کو پہنچا۔ یہ سفر بھی یادگار رہا اور قدرے مختلف کے دوستوں کی سنگت میں وقت گزرا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *