اقتدار کی دیوانگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لفظ ’پاگل پن‘ اب سائنس میں متروک ہوا۔ ’دیوانگی‘ اب شاعری کا استعارہ ہے۔ ’جنون‘ ایک فلمی گیتوں کا نعرہ ہے۔ لفظ بدل جاتے ہیں۔ معنی بھی بدل جاتے ہیں۔ عباس عالم کا شعر ہے،

پھر یوں ہوا کہ بات سمجھنے لگی فضا
پھر یوں ہوا کہ بات کے معنی بدل گئے

مصرع ثانی اہم ہے۔ ’پھر یوں ہوا کہ بات کے معنی بدل گئے۔‘ باتوں کے معنی بدل جاتے ہیں۔ کچھ باتیں مٹ جاتی ہیں۔ کوئی پہچانتا ہی نہیں۔ تصورات مٹ جاتے ہیں۔ رسومات مٹ جاتی ہیں۔ مگر ’پاگل پن‘ ایک تصور کے طور پر مٹا ہرگز نہیں ہے۔ پاگل پن تو قوی ہوا ہے، بڑھا ہے۔ مگر اب اس کا نام بدل دیا گیا ہے۔ اب ’پاگل پن‘ کی جگہ وہ ’نفسیاتی الجھن‘ اور ’نفسیاتی پریشانی‘ ہے۔ ’ذہنی توازن کا بگڑ جانا‘ ہے۔ ’نفسیاتی بیماری‘ ہے اور لفظ ’پاگل‘ اب ایک ہلکے درجے کی گالی ہے۔

مگر نفسیاتی الجھن جس انسان کو ہوتی ہے اسے سماج ہلکی یا بھاری گالی بکے نہ بکے مگر کنارے ضرور کر دیتا ہے۔ سماج اس سے قوت اور اہمیت کے مقام چھین لیتا ہے۔ ذہنی مسائل کی بہت سی صورتوں میں تو جائیداد کا انتظام بھی کسی کفیل کے ہاتھ چلا جاتا ہے۔ معاشرہ نفسیاتی مسائل سے دوچار افراد کو طاقت و قوت کے مقام پر کہاں رہنے دے گا سماج ایسے افراد کو فوراً قابو میں کرنے اور پاگل خانوں میں قید کر دینے پر تلا رہتا ہے۔ اور یہ کر کے رہتا ہے۔

مگر تاریخ میں کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ کسی پاگل کو اقتدار مل گیا ہو۔ ایسے واقعات انسانیت کے اجتماعی شعور میں دیوانگی سے متعلق خوف کی وضاحت کرتے ہیں۔ ایسے واقعات یہ بھی واضح کردیتے ہیں کہ اگر کسی نفسیاتی مسائل کے شکار شخص کو سیاہ و سفید کا مالک بنادیا جائے تو وہ دیوانگی کیسے رفتہ رفتہ بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک تاریخی مثال پیش خدمت ہے۔

عالم اسلام پر ایک ایسا بھی دور گزرا ہے جب ایک نہیں بلکہ تین تین خلیفہ موجود تھے۔ ایک خلیفہ بغداد میں بیٹھا تھا، دوسرا قرطبہ میں اور تیسرا قاہرہ میں۔ وہ دور عمومی طور پر فتنے اور نا اتفاقی کا دور تھا۔ اس عہد میں عملاً سب سے قوی وہ خلفاء ہوگئے تھے جو کہ شمالی افریقہ اور شام کے حاکم تھے۔ ان کی طاقت کی ابتداء تیونس سے ہوئی تھی اور بعد ازاں ان کے قبضے میں مصر اور شام بھی آگئے۔ عمومی طور پر ان خلفاء کا زیر فرمان علاقہ باقی دونوں خلافتوں سے زیادہ پر امن تھا۔

سنہ 996 ء میں خلیفہ العزیز باللہ کا انتقال ہوا۔ تب اس کا بیٹا منصور محض گیارہ سال کا تھا۔ گیارہ سالہ منصور ’الحاکم بامر اللہ‘ کے لقب سے تخت نشین ہوا۔ اب ظاہر ہے کہ اس عمر میں اتنی بڑی مملکت کو چلانا اس کے لئے ممکن کب تھا۔ تو اس کا اطالیق ’برجوان‘ (جو کہ ایک سفید فام مخنث تھا) عملاً بادشاہ بن بیٹھا۔ اس شخص نے اپنی طاقت کو بڑی تیزی سے وسعت دی۔ گیارہ سالہ منصور (جو کہ اب نام کا حاکم تھا) یہ سب دیکھتا رہا۔

برجوان نے اتنی قوت پائی اور اسے اپنا اقتدار اتنا مضبوط لگنے لگا کہ اس نے منصور کی توہین کرنے کو اپنا شیوہ بنالیا۔ وہ منصور کولوگوں کے سامنے چھپکلی کہہ کر پکارا کرتا۔ ایسا منصور کے لئے بہت تکلیف دہ ہوتا۔ مگر وہ اپنے نام کی مناسبت سے حاکم بننے کے امکانات کوجانچ رہا تھا۔ برجوان اپنی حد سے اتنا آگے بڑھا کہ اس نے منصور کے گھڑسوار ی اور تحائف کی تقسیم کرنے پر بھی پابندی لگا دی۔ جب منصور پندرہ سال کا ہوا تو اس نے ایک غلام کے ذریعے برجوان کو مروا دیا۔ ایوان اقتدار میں اس معاملے پر کھلبلی تو مچی مگر سب برجوان سے تنگ ہی تھے تو انہوں نے حقیقی خلیفہ کو اپنا اقتدار بحال کرتا دیکھ کرتسلیم کر لیا۔ وہ جانتے نہیں تھے کہ اب ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔

منصور کا اقتدار سنہ 1021 ء تک رہا۔ اس دوران رفتہ رفتہ اس کے رویوں میں عجیب نوع کی تبدیلیاں آئیں۔ ہر دن اس کے سر میں کوئی نیا سودا سماتا اور ہر کچھ عرصے میں وہ اپنے وزراء اور اعلیٰ عہدہداروں کو مروا دیتا۔ اس کا جنون اس قدر بڑھ جاتا کہ اکثر وہ اپنے دربار میں جلاد کے بجائے خود ہی لوگوں کو ہلاک کرتا۔ اس نے اس عہد میں عجیب و غریب افعال کیے ان میں سے چند درج زیل ہیں،

وہ راتوں کا دربار لگاتا۔ لوگوں کے لئے بھی رات کو ہی کاروبار کرنے کا حکم جاری ہوا۔ رات دن بن گئی۔

عورتوں کے لئے سخت حکم جاری ہوا کہ وہ گھر پر ہی رہیں۔ اس بات پر عملدرامد کے لئے موچیوں کو حکم ہوا کہ عورتوں کے جوتے نہ بنائیں۔ حاکم نے عورتوں پر یہاں تک پابندی لگائی گئی کہ وہ مکانات کے دریچوں سے سر باہر نکالیں۔

رات کے دربار کا سلسلہ تین سالوں تک جاری رہا پھر اچانک ہی حاکم نے یہ سلسلہ موقوف کیا اور حکم جاری ہوا کہ اب کوئی رات کو گھر سے نہ نکلے۔

’جرجیر‘ ، ’متوکلیہ‘ اور ’طوخیہ‘ نام کی غذاؤں کے کھانے اور ان کی خرید و فروخت پر پابندی لگا دی۔

بغیر چھلکے کی مچھلیوں کی فروخت پر پابندی لگی اور مچھروں سے عہد لیا کہ ان کو نہیں پکڑیں گے اور جس نے خلاف ورزی کی اسے سزائے موت دی گئی۔

شراپ نوشی پر سخت پابندی عائد ہوئی۔ انگور کی سیکڑوں بیلیں کاٹ دی گئیں۔
شہد کے پانچ ہزار مٹکے دریائے نیل میں بہا دیے گئے۔

جوئے پر پابندی لگادی گئی، شطرنج وغیرہ کے جتنے مہرے ملے انہیں جلادیا گیا۔

حاکم عوام کے مذہبی معاملات میں بھی دخیل ہوا اور اس نے صواۃ الضحیٰ پڑھنے پر بابندی لگا دی اور تراویح کی نماز موقوف کردی۔ اذان تبدیل کردی گئی۔

دکانوں، مکانوں اور قبرستانوں پر ’سب السلف‘ لکھوایا گیا۔ عوام پر حکم جاری ہوا کہ اپنے مکانوں پر رنگین اور منقش تحریروں میں اپنے بزرگوں پر لعنت ملامت لکھوئیں۔

حکم ہو کہ ماہ رمضان کی ظاہر روایت پر عمل نہیں کریں بلکہ حساب سے روزے شروع کریں اور ختم کئے جائیں۔

ابتدائی آٹھ سال میں حاکم کا سخت رویہ صرف مسلمان رعایا پر تھا مگر پھر اس نے اچانک اپنی غیر مسلم رعایا پر سختیاں شروع کردیں۔ انہیں تین باتوں میں سے اختیار کرنے پر مجبور کیا۔

( 1 ) اسلام قبول کر لیں یا ملک سے نکل جائیں۔

( 2 ) اگرعیسائی ہوں تو کالا لباس پہنیں اور اپنی گردنوں میں وزنی صلیب ڈالیں اور یہ صلیب ان کے کپڑوں میں سے نظر آتی ہوں۔

( 3 ) اگر یہودی ہوں تو پیلے رنگ کے عمامے پہنیں اور اپنے گلے میں ایک لکڑی کی بنی ہوئی گائے کے بچھڑے کی شکل لٹکائیں۔

اس کے علاوہ ان کے حمام بھی علیحدہ کر دیے گئے۔ ان کے اوقاف ضبط کر لیے گئے۔

اس نوع کا سب سے دردناک واقعہ جب پیش آیا جب عیسائیوں کے نزدیک سب سے مقدس کلیسا کو منہدم کر دیا گیا۔ یہ کلیسا the church of Holy Sepulcher جاتا ہے جہاں عیسائی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ کی تدفین ہوئی تھی اور وہیں سے وہ جی اٹھے تھے۔ اس کے علاوہ بھی اکثر کلیسا اور سائیناگاگ چھین لئے گئے۔

رفتہ رفتہ حاکم کا جنون بڑھتا ہی جاتا تھا۔ وہ اپنے محل سے دنوں اور ہفتوں کے لئے بیابانوں میں چلاجاتا۔ ایک مرتبہ جو وہ گیا تو واپس نہ لوٹا۔ جب اس کی تلاش میں اہلکار گئے تو ان کو اس کا گدھا مرا ہوا ملا اور اس کا خون آلود لباس بھی وہیں پڑا تھا۔ مورخین کا خیال ہے کہ اس کو اس کی بہن ست الملک نے ہلاک کروا دیا۔

مگر کیونکہ دیوانگی میں ایک نوع کی کشش بھی ہوتی ہے اس لیے آج کے دن تک حاکم بامر اللہ کا تذکرہ ساری دنیا میں The Mad Chaliph کے نام سے موجود ہے۔ علم نفسیات ہماری منصور کی دیونگی کے حوالے رہنمائی کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آج کی اصطلاح میں منصور شزوفرنیا کا شکار تھا۔ اس میں ’پیرا نویا‘ کی علامات کافی تعداد میں پائی جاتی ہیں۔ وہ شک میں ڈوبا رہتا اور بہت سے افعال اس نے امکانی طور پر کسی نوع کے خبط کے زیر اثر کیے ۔

وہ کیوں اس حالت تک پہنچا یہ سمجھنا اب مشکل ہے لیکن مورخین نے اس کی وجوہات میں کہیں نہ کہیں برجوان کے اس کے ساتھ سلوک کو قرار دیا ہے۔ مگر جو بھی ہو ایک دیوانے کی حکومت نے اس طرح عوام کے چھکے چھڑائے کہ وہ باپ باپ کراٹھے۔ یاد رکھنے کی اس میں بات یہ بھی ہے کہ برجوان طاقت کا لوبھی، ظالم اور بدعنوان تھا مگر پاگل نہیں تھا۔ وہ جب قتل ہوا تو عوام نے سکون کا سانس لیا کہ اب اقتدار ’صحیح‘ حاکم کے پاس آ گیا۔ پھر جو ہوا وہ اوپر بیان ہوچکا۔ اس میں (شاید) ہمارے لئے بھی سبق تو ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *