پاکستان میں اظہار پر کڑی پابندیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لکھنا چاہتا تھا کہ ایک کامیاب سفارتکار ناکام صدر کیوں ثابت ہوا۔ آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان مقتدرہ کی چوائس اس لیے تھے کہ وہ عالمی برادری میں اپنے سفارتی تجربے کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں گے بغیر لگی لپٹی کہ یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ وہ ناکام ترین صدر ثابت ہوئے۔

مگر اس وقت ذہن میں جو موضوع کچوکے لگا رہا ہے وہ ہے پاکستان میں اظہار پر کڑی پابندیاں۔ صدر آزاد کشمیر کی ناکامیوں پر پھر کبھی لکھیں گے۔ صحافی کے ہاتھ میں توپ نہیں ہوتی، اس کے ہاتھ میں قلم ہوتا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ایوبی دور سے لے کر عمرانی دور تک نیم سیاسی حکومتیں ہوں یا آمریت کا دور رہا ہو، ہر ایک نے نہ صرف صحافیوں بلکہ ہر اس شخص کو نشانہ بنایا جو اظہار کرنا جانتا ہو۔ جس نے بھی طاقتوروں کے کالے کرتوتوں کو بے نقاب کیا اس کی زبان بندی کر دی گئی۔

قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب ”شہاب نامہ“ میں لکھتے ہیں کہ فوجی زندگی کی تربیت اور تجربات نے صدر ایوب کو زیادہ تر ”یس سر اور جی ہاں“ سننے کا خوگر بنا رکھا تھا۔ اس کے علاوہ صحافت کے حوالے سے چند ایسے تعصبات بھی تھے جو زمانہ دراز سے ان کی رگ وپے میں سرایت کیے ہوئے تھے۔ انھوں نے اکھڑے صحافیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے press and publication ordinance نافذ کیا جو بلاشبہ پاکستان کی دنیائے صحافت میں ”کالے قانون“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ دور ایوبی میں اخبارات پر بڑا کڑا سنسر لگایا گیا۔ افواہیں پھیلانا بھی جرم تھا۔ قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ ایک صبح سویرے قرۃ العین حیدر میرے پاس آئی۔ بال بکھرے، چہرہ اداس، آنکھیں پریشان، آتے ہی بولی، ”اب کیا ہو گا؟“

میں نے وضاحت چاہی کس بات کا کیا ہو گا؟ عینی بولی اب ادبی بیٹھکوں میں گفتگو کرنا بھی جرم ٹھہرا۔ ہاں میں نے کہا ”گپ شپ بڑی آسانی سے افواہ سازی کے زمرے میں آ کر گردن زدنی قرار دی جا سکتی ہے“

عینی بڑے کرب سے بولی ”گویا اب بھونکنے پر بھی پابندی ہے“ شہاب لکھتے ہیں کہ میں نے مارشل لاء کے ضابطوں کے تحت بھونکنے کے خطرات سے اگاہ کیا تو عینی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ آنسو چھپانے کے لیے مسکراہٹ لائی اور لاپرواہی سے بولی، ”ارے بھئی روز روز کون بھونکنا چاہتا ہے۔ لیکن بھونکنے کی آزادی کا احساس بھی تو ایک عجیب نعمت ہے۔“

ایوبی دور کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کا جمہوری دور شروع ہوتا ہے۔ کہنے کو تو آمریت رخصت ہوتی ہے مگر صحافت کے لئے آمریت برقرار رہتی ہے۔ صدر ایوب کے ہاتھوں بنے ہوئے نام نہاد خود مختار ادارے نیشنل پریس ٹرسٹ کو جمہوری حکومت نے بھی اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا صحافتی اداروں کے اشتہارات بند کرنے، روزنامہ ڈان، روزنامہ جسارت اور دیگر اخبارات کے مدیروں کی گرفتاری سمیت صحافت کے خلاف استحصالی ہتھکنڈے برقرار رہے۔ بھٹو دور میں ڈاکٹر اعجاز قریشی، الطاف قریشی اور حسین نقی جیسے بڑے نام پابند سلاسل ہوئے۔

ضیاءالحق دور شروع ہوتا ہے۔ صحافت پر جبر کے پہاڑ توڑے دیے جاتے ہیں۔ اخبارات میں بدترین سنسرشپ کا نفاذ کر دیا جاتا ہے۔ ضیاءالحق نے ایوب خان کے پی پی او میں مزید ترامیم کر کے اسے ریوائزڈ پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈنینس کا نام دیا۔ اس کے تحت حکومت کے خلاف خبروں (چاہے وہ حقائق پر مبنی ہوں ) کی اشاعت پر صحافیوں کو سزائیں دی گئیں۔ انھیں کوڑے مارے گئے۔ جبر کی پالیسیوں کے خلاف چار سو سے زائد صحافیوں نے گرفتاریاں پیش کیں۔ صحافت کا رستہ روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی۔

ضیاء امریت کے بعد جمہوری دور آتا ہے۔ صحافی خوش تھے کہ اب اظہار پر پابندی نہیں ہو گی مگر ان کی خوشی فریب ثابت ہوئی۔ 1992 ء میں ڈاکٹر ملیحہ لودھی اخبار دی نیوز کی ایڈیٹر تھیں۔ ان کی ادارت میں مقامی اخبار میں احتساب سے متعلق ایک طنزیہ نظم شائع کی گئی جس میں ذو معنی انداز میں وزیراعظم نواز شریف کی ہنسی اڑائی گئی تھی تو اخبار کی انتظامیہ کے خلاف بھی غداری کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ نواز شریف کۓ 1997ء والے دور میں نجم سیٹھی گرفتار ہوتے ہیں۔ ان کے خلاف بھی غداری کی فرد جرم عائد ہوتی ہے۔ ایک ماہ پابند سلاسل رہنے کے بعد عدالت عظمیٰ انھیں باعزت رہا کرتی ہے۔ نواز شریف دور میں ہی کثیر الاشاعت اخبار جنگ ایک صفحہ پر آیا تھا۔ مشرف دور میں تو پاکستانی عوام نے جبر کے تحت زندگی گزاری۔ اگر کوئی صحافی مشرف امریت کے خلاف قرطاس پر ایک لفظ بھی لکھتا وہ خاموش کروا دیا جاتا۔

موجودہ وزیراعظم عمران خان اقتدار میں آنے سے قبل آزاد میڈیا کے زبردست داعی تھے۔ پریس کی آزادی کے حوالے سے وہ اکثر مغربی میڈیا کی مثالیں دیتے۔ مگر جیسے ہی وہ اقتدار میں لائے گئے یا آئے انھوں نے سب سے پہلا کام پریس کا گلا گھونٹا۔ سال 2019 ء 26 اور 27 کی درمیانی شب بزرگ صحافی عرفان صدیقی کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے گھر اسلام آباد بارہ کہو کے قریب ویگو ڈالا آتے ہیں۔ باوردی اہلکار انھیں رات کے لباس میں اٹھا لیتے ہیں۔ اٹھانے والے یہ نہیں بتاتے کہ ان کا قصور کیا ہے؟

اگلے دن 76 سال کے نامور استاد کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر مقامی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اور جرم بتایا جاتا ہے کہ انھوں قانون کرایہ داری کی خلاف ورزی کی۔ اور انھیں اڈیالہ جیل بند کر دیا گیا۔

ان کی گرفتاری پر میڈیا کا شدید ردعمل سامنے آیا۔ وہ سوشل میڈیا کا ٹاپ ٹرینڈ بن گئے۔ بین الاقوامی میڈیا نے اس گرفتاری کے خلاف منفی ردعمل دیا۔ چھٹی کے دن یعنی اتوار کو عدالت لگی اتوار کو چند گھنٹوں میں خودکار سسٹم کے تحت کارروائی مکمل ہوئی اور سہ پہر عرفان صدیقی کو رہائی ملی۔ شاہد چھٹی کے دن عدالت لگنے اور جیل کا پھاٹک کھلنے کا یہ اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ تھا۔ عرفان صدیقی کی گرفتاری کے حوالے سے اس وقت کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ اس واقعہ سے عدلیہ کی سخت سبکی ہوئی۔

مہینہ جولائی کا ہی ہوتا ہے سال 2020 کا ایک بار پھر اسلام آباد کے قلب جی سکس سے صحافی مطیع اللہ جان کو دن دیہاڑے اغوا کیا جاتا ہے۔ شدید ردعمل کے بعد ان کی فتح جنگ سے بازیابی ہوتی ہے۔ عرفان صدیقی کیس کی طرح یہاں بھی بتایا جاتا ہے کہ انکوائری ہو گی کہ مطیع اللہ جان کو کس نے اغوا کیا؟

عرفان صدیقی کیس کو ایک سال ہو گیا ابھی تک پتہ نہیں چلا۔ انکوائری کمیٹی بنی بھی یا نہیں، اس کے ممبران کون ہیں؟ کیا تفتیش ہوئی کہ رات کے اندھیرے میں ایک معزز شہری کو دہشت گردی کے انداز میں گرفتار کرنے کا حکم کس نے دیا؟ ذمہ داروں کا تعین ہوا کہ نہیں اگر ہوا تو انھیں سزائیں کیا دی گئی؟

مطیع اللہ جان کے تازہ واقعے نے ان سوالوں کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ ہمارا وتیرہ بن گیا ہے کہ حکومت یا ریاست کسی شخص کی عزت نفس پر حملے اور اسے غیر قانونی برتاؤ کا نشانہ بنانے میں کوئی مسئلہ نہیں سمجھتی۔ عرفان صدیقی کا دعویٰ ہے کہ ان کی گرفتاری کے لئے ڈی سی کے جعلی دستخط سے دفعہ 144 کے نفاذ کا جعلی حکم نامہ جاری کیا گیا۔

اللہ تعالیٰ قرآن میں کہتا ہے کہ میں نے انسان کو بولنا سکھایا ہے۔ مفسرین لکھتے ہیں بولنے سے مراد ظالم جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے۔ یہ صفت اللہ نے انسان کو دی ہے تو یہ کون ہوتے ہیں زبان بندی کرنے والے۔ سوال اٹھانا جرم نہیں۔ یہ کیسی ریاست ہے کہ ججز کی کارکردگی پر سوال اٹھایا جائے تو توہین عدالت لگا کر پس زنداں کر دیا جاتا ہے۔ جرنیلوں کے سیاسی معاملات میں حصہ لینے پر سوال کیا جائے تو قومی سلامتی کو خطرات میں ڈالنے کی فرد جرم عائد کر دی جاتی ہے۔

اگر پوچھ لیا جائے کہ مقتدرہ کے جن لوگوں کو سزائیں دی جاتی ہیں انھیں ایک عام انسانی آنکھ کیوں نہیں دیکھ سکتی۔ اس پر بھی سلاسل مقدر ٹھہرتے ہیں۔ اگر طاقتوروں کو صحافی سے اتنا ہی خوف ہے تو وہ اپنا قبلہ درست کریں۔ ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرے۔ آئین اور قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔ کوئی مقدس گائے نہیں۔ طاقتور اگر یہ سوچتے ہیں کہ اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے آواز دب جائے گی تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ دیوانے سوال اٹھاتے رہیں گے، حق دبنے سے ابھر کر سامنے آتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بشارت راجہ

بشارت راجہ رفاہ یونیورسٹی سے میڈیا سائسز میں ایم فل کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ بطور کورٹ رپورٹننگ کر رہے ہیں۔ مختلف ویب سائٹس کے لیے بلاگ اور کالم بھی لکھتے ہیں۔

bisharat-siddiqui has 116 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *