کیسے کیسے انقلاب!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یکسر تبدیلی برپا ہو جانے، سراسر گھوم جانے یا ماہئیت قلبی واقع ہو جانے کو انقلاب کا نام دیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے ان معانی کے حقیقت میں ڈھلنے کا عمل نرم اور غیر تکلیف دہ ہرگز نہیں ہوتا۔ دنیا میں بہت زیادہ انقلابات آئے ہیں لیکن عام طور پر معروف چند ہی انقلاب ہو سکے ہیں، جن میں سے ایک انقلاب فرانس تھا جس کی نوعیت فوری، متشدد اور عارضی تھی۔ ہر اس مرد اور عورت کی گردن ”گلوٹین“ تلے آ کر کٹی تھی، جس کے ہاتھ نرم تھے، چاہے وہ دانشور تھا یا رئیس۔ بادشاہت کا خاتمہ تو ہوا لیکن مستقبل میں ایک فوجی طالع آزما نپولین بونا پارٹ نے شہنشاہ کی حیثیت اختیار کر لی تھی کیونکہ وہ اپنے ملک فرانس کے علاوہ بھی کئی اور ممالک کو مفتوح بنا چکا تھا۔

1917 میں روس کا ”اکتوبرانقلاب“ برپا ہوا تھا جس کے پس پشت روس کی کمیونسٹ پارٹی کی طویل جدوجہد، برطانیہ اور جرمنی کے مطلق العنان حکمرانوں کی روس کے زاروں سے مخاصمت اور دیگر انواع کی ریشہ دوانیاں تھیں۔ اس انقلاب کے لئے پہلا پتھر ایک زاردشمن پادری کی جانب سے سینٹ پیٹرزبرگ میں وسیع پیمانے پر لوگوں کی شرکت سے زار کے خلاف کیا گیا مظاہرہ ثابت ہوا تھا، زار کی پولیس نے لوگوں کو بلاتخصیص گولیوں کا نشانہ بنایا تھا، یوں کمیونسٹوں کو میدان مارنے کا موقع ہاتھ آ گیا تھا۔ یہ انقلاب کئی کروڑ لوگوں کی جان لینے اور پوری دنیا کی سیاست کا نقشہ بدل دینے کا باعث بنا تھا۔ اس انقلاب کے خاصے مثبت اثرات کے ساتھ ساتھ اس کے انتہائی منفی اثرات بھی 74 برس تک جاری رہے تھے۔

پھر چین کا ثقافتی انقلاب تھا جس کی بنیاد میں بھی لاکھوں افراد کا خون شامل تھا۔ انقلاب کا محدود سرمایہ داری سے اختلاط مزید لاکھوں افراد کی زندگی آہستہ آہستہ چوس رہا ہے۔

اس کے بعد انے والے ایران کے اسلامی انقلاب کی خون آشامی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، اخری انقلاب افغانستان کا نام نہاد ”انقلاب ثور“ تھا، جس کے پرتو میں آج تک وہاں مغرب کی اتحادی افواج کی موجودگی اور اس کے اثرات ہیں۔

یہ تو وہ انقلاب تھے جو کسی حد تک یا بہت حد تک فی الواقعی انقلاب تھے۔ پھر انقلابوں کو انجنییر کرنے کا سلسلہ چلایا گیا جس کی ابتداء سلاویکیہ کے ”مخملیں انقلاب“ سے ہوئی تھی اور جس کا ایک رنگ تیونس کا ”انقلاب یاسمین“ تھا۔ اس سے پہلے گروزیا یعنی ملک جارجیا کا ”انقلاب گلاب“ ، یوکرین کا ”نارنجی انقلاب“ اور کرغیزستان کا ”انقلاب گل لالہ“ بھی انجنییرڈ تھے۔

ان ”مرتب کردہ“ یعنی انجنییرڈ انقلابات میں ”سٹیٹس کو“ کو برقرار رکھا جاتا ہے البتہ ریاست کا بالائی ڈھانچہ بدل دیا جاتا ہے اور زیریں ڈھانچے میں اصلاحات کا عمل شروع کیا جاتا ہے۔ چند ایک افراد تو قربانی کے بکرے بن جاتے ہیں لیکن مراعات یافتہ طبقے کی اکثریت کو پہلے سے ہی متنبہ کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ پہلے سے ہی ملک سے سرمایہ نکال کر باہر لے جائیں، دوسرے ملکوں میں جائیداد خرید لیں، ان کے پاسپورٹوں پر مستقل ویزے پہلے ہی ثبت ہوتے ہیں اور حالات زیادہ بگاڑ دیے جانے سے پہلے ان کا رفو چکر ہونا آخری عمل ہوتا ہے۔

ایسے ملک کی معاشی بنیادیں تو پہلے ہی کھوکھلی ہو چکی ہوتی ہیں جنہیں کثیرالقومی کارپوریشنیں سہارا دیتی ہیں۔ متاثرہ طبقات کو انقلاب کے ضمن میں پہلے ہی برتا جا چکا ہوتا ہے اس لئے ان کے پاس ماسوائے صبر کے اور کوئی چارہ کار نہیں بچ رہتا۔ علاوہ بھی کئی اور ممالک کو مفتوح بنا چکا تھا۔

ایسے واقعات کو امید کی نگاہ سے دیکھنا خدشے، خوف اور خواہش کے ضمن میں آتا ہے جیسے خواب۔ خواہش کی تکمیل کی خاطر خدشے سے بے نیاز ہو کر بلاخوف کچھ کر گزرنے کا کارنامہ اگر محض عوام پہ چھوڑ دیا جائے تو نتیجہ ماسوائے طوائف الملوکی یا نراج پسندی کے اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ ظاہر ہے انقلاب کے لئے ملک پر کسی فرد اور یا پارٹی کی اکتا دینے والی، اذیت کیش حکومت کے خلاف، دبائی گئی حزب اختلاف کو ہی برتا جاتا ہے۔ پاکستان میں نہ تو کوئی فرد اور نہ ہی پارٹی انتہائی طویل عرصے سے متمکن ہے اور نہ ہی اذیت کوشی کا کوئی مظہر عیاں ہے، پھر ایسی حزب مخالف بھی موجود نہیں جس کو بے حد دبایا گیا ہو۔

بڑی بڑی تمام پارٹیاں کسی نہ کسی طرح حکومت میں شریک اور اس کی فریق ہیں۔ وہ پارٹیاں جو انتخابات میں حصہ لینے سے گریزاں رہیں ان کی عوام میں پذیرائی کا پیمانہ کوئی اتنا زیادہ نہیں ہے۔ انقلاب کی بات کرنے کو تو سبھی کرتے ہیں لیکن انقلاب کی نوعیت کیا ہو سکتی ہے اور انقلاب کا انجن کون ہوگا، اس بارے میں کچھ بھی واضح نہیں۔

انقلاب انجنییر کرنے والے ادارے یعنی کثیرالقومی کارپوریشنیں اور سرمایہ دار ممالک ظاہر ہے مذہبی یا مقامی نوعیت کی پارٹیوں کی سرکردگی کو نہ تو قبول کرنے کو تیار ہیں اور نہ ہی ان کو کسی نوع کی امداد فراہم کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ کسی بڑی قومی پارٹی کی اس عمل میں شمولیت کے بغیر خالصتاً مذہبی یا مقامی جماعتوں کی مہم جوئی کا چارہ بننے کی خاطر ذہنی طور پر تیار نہیں چنانچہ اگر کسی ”مذہبی نکتے“ پر جوش اٹھے بھی تو کڑہی کے ابال کی طرح یا تو خودبخود ختم ہو جاتا ہے یا پھر ابال کو ٹھنڈا کر دیا جاتا ہے۔ یوں ملک میں یکسر تبدیلی، ہییت مقتدرہ کے گھوم جانے یا سیاست دانوں کی ماہییت قلبی کیے جانے کی باتیں ماسوائے باتوں کے کچھ اور نہیں ہیں بعینہ ویسے جیسے آشوب چشم کی وبا اٹھتی ہے، پھیلتی ہے اور ختم ہو جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply