لڑاکا مرغا آٹھ ماہ سے پولیس کی حراست میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کبھی کبھی ایسے عجیب اوردلچسپ واقعات رونما ہو جاتے ہیں کہ انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے؟ کچھ ایسا ہی حیران کردینے والاعجیب اور دلچسپ واقعہ سندھ کے ضلع گھوٹکی کے علاقے سید پورمیں آج سے آتھ ماہ قبل پیش آیا جہاں کچھ جواری جواء لگا کرمرغوں کی لڑائی کروارہے تھے، دیگر تماشائی بھی خونی کھیل کا مزے سے نظارہ لے رہے تھے۔ دو تگڑے، پھرتیلے اور جنگجو قسم کے لڑاکامرغے خون میں لت پت لڑ رہے تھے پھر بھی ان میں سے کوئی بھی مرغا ہار ماننے کو تیار نہ تھا۔

لڑاکامرغوں کی یہ لڑائی تب تک جاری رہتی ہے جب تک کوئی ایک مرغا ہار نہ مان لے یا جان سے نہ چلا جائے۔ دلچسپ اورغیرقانونی خونی کھیل جاری تھا کہ اطلاع ملنے پر پولیس نے جوئے کے اڈے پرچھاپہ ماردیا جس کے نتیجہ میں تین جواریوں حمزو محمدانی، غلام حیدر شیخ اور فدا حسین کو ایک لڑاکا مرغے کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔ کچھ عرصہ بعدتینوں ملزمان نے ضمانتیں کرالیں لیکن کسی نے لڑاکا مرغے کی ضمانت نہ کرائی اور وہ پولیس کی حراست میں ہی رہا۔

پولیس نے چونکہ مقدمے میں مرغے کی برآمدگی کا بھی ذکر کیا تھا اس لیے عدالت میں سماعت پر ہر بار پولیس اہلکاروں کو مرغے کو بھی پیش کرنا پڑ تاہے۔ اسی وجہ سے تھانے میں موجود اہلکاروں کو نہ صرف مرغے کی دیکھ بھال اور خوراک کی وجہ سے پریشانی لگی رہتی ہے بلکہ ان کو یہ ڈر بھی لگا رہتا ہے کہ کہیں کوئی جانور مرغے کو کھا نہ جائے۔ لڑاکامرغے کو حوالات میں بند کرنے کی بجائے تھانے کے اندرموجود ایک درخت کے ساتھ باندھ کر رکھا گیا ہے۔ ضمانت کے منتظرلڑاکا مرغے کی آٹھ ماہ سے قید کی خبر نجی ٹی وی پر آتے ہی ہر کسی کے لئے ایک انوکھی اور دلچسپ خبر بن گئی اورسوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی۔

مرغوں کی لڑائی کے حوالے سے ایک دلخراش واقعہ اسی سال جنوری میں بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع ویسٹ گوڈاواری میں واقع ایک گاؤں میں پیش آیا جہاں مرغوں کی لڑائی کے دوران ایک لڑاکا مرغے نے تماشائیوں میں سے ایک شخص کی جان لے لی۔ انڈین میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مرغوں کی لڑائی کے دوران ایک شخص نے اپنے مرغے کی ٹانگ کے ساتھ بلیڈ لگایا ہوا تھا، مرغے لڑتے ہوئے ارد گرد بیٹھے تماشائیوں کے قریب چلے گئے جہاں اس مرغے کی بلیڈ والی ٹانگ کا وار ایک تماشائی کے جسم پر پڑا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگیا۔ آندھرا پردیش میں مرغوں کی ٹانگوں کے ساتھ بلیڈ باندھ کر انہیں لڑانے کا رواج بہت عام اور اکثر لڑائی میں مرغے بھی جان سے چلے جاتے ہیں۔ مرغوں کی اس خطرناک لڑائی میں متعدد افراد زخمی بھی ہوچکے ہیں تاہم یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی شخص کا قتل مرغے کے ہاتھوں ہوا ہے۔

پاکستان میں مرغوں کی لڑائی کروا کر جواء کھیلنا ایک غیر قانونی عمل ہے پھر بھی یہ کھیل چوری چھپے کھیل کر جواء پر بڑی بڑی رقم لگائی جاتی ہے۔

مرغا کو پالنے اور لڑائی کے لیے تیار کرنے والے کو ککڑ بازکہتے ہیں ککڑ باز صرف قوی جسامت اور طاقت ور مرغا پالتے ہیں اور انہیں لڑائی کے لیے تیار کرتے ہیں مرغا کو طاقت ور خوراک کھلائی جاتی ہے اور داؤپیچ بھی سکھائے جاتے ہیں مرغوں کی لڑائی کے کھیل کو کارا کہتے ہیں جب ککڑ باز اپنے مرغے کو تیار کر لیتا ہے تو دوسرے مرغے والے کو مرغے کی لڑائی کی دعوت دیتا ہے اگر دوسرے مرغاوالا یہ للکار قبول کر لے تو طے شدہ دن طے شدہ میدان جسے سرائیکی میں بلہن کہتے ہیں میں مقابلہ منعقد ہوتا ہے مرغوں کی لڑائی میں دو مرغے جو دو حریفوں کے ہوتے ہیں ایک دوسرے کے مقابل ہوتے ہیں مرغوں کی لڑائی خون خوار اور بعض اوقات جان لیوا بھی ہوتی ہے بعض دفعہ مرغے شدید زخمی ہو جاتے ہیں بعض اوقات کسی اعضا سے محروم ہو جاتے ہیں۔

مرغے کا مالک شکست تسلیم کر لے تو کھیل ختم ہو جاتا ہے اور مدمقابل کو فاتح قرار دیا جاتا ہے اس کھیل میں نہ صرف مرغے کے مالکان جوا لگاتے ہیں بلکہ شائقین بھی شرطیں لگاتے ہیں جیتے والا ہارنے والے مرغے پر لگی شرط والی رقم جیت جاتا ہے جیتنے والے مرغے کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے یہ وسیب کا کھیل ہے جو سرائیکی خطے سے نکل کر دنیا کے کئی خطوں میں پہنچ گیا ہے سرکاری طور پر اس کھیل پر پابندی ہے قانون کی خلاف پر قیدو بند کے ساتھ جرمانہ بھی کیا جاتا ہے جوا پر لگی رقم اور دیگر سامان بحق سرکار ضبط کر لیا جاتا ہے حتی کہ شائقین کو بھی قانون کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اپنے شوق کی خاطر جانوروں اور پرندوں کو لڑوا کر مروادینا ایک غیر انسانی فعل ہے جس کی اجازت نہ ہمارے مذہب میں ہے اور نہ ہی ہمارے ملک کا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *