ڈاکٹر خالد سہیل اور نعیم اشرف کا ادبی مکالمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معزز قارئین! یہ میری خوش بختی ہے کہ مجھے ڈاکٹر خالد سہیل اور رابعہ الرباء کی پچاس خطوط پر مشتمل کتاب ”درویشوں کا ڈیرہ“ کو انگریزی میں ترجمہ کرنے کا موقع دیا گیا تھا۔ اپریل 2019 ء میں جب یہ ترجمہ مکمل ہو گیا تو باہم مشورے سے انگریزی کتاب کا نام Dervishes Inn رکھا گیا تھا۔ درویشوں کا ڈیرہ اور Dervishes Innکی مشترکہ تقریب رونمائی 14 جولائی 2019 ء کو کینیڈا کے شہر مسی ساگا میں منعقد ہوئی۔ مجھے اس تقریب میں شمولیت کی خصوصی دعوت دی گئی تھی۔ میں نے پوری تقریب کا احوال ”سفر نامہ کینیڈا“ میں تفصیل سے بیان کیا ہے جو ہم سب کے گزشتہ شماروں میں چھپ چکا ہے۔

تقریب کے چند دن بعد ڈاکٹر خالد سہیل نے، انگریزی میں خطوط کے تبادلے کی تجویز پیش کی۔ جو راقم الحروف کو پسند آئی۔ ڈاکٹر صاحب کا خیال تھا کہ مکتوبی ادب Letter Fiction کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس کو جاری رہنا چاہیے۔ ہم نے اپنے خطوط میں بین الاقوامی کلاسک لٹریچر کا احاطہ کرنے پر اتفاق کیا۔ امید ہے کہ اس طرح بہت سے لوگوں میں ان مشہور ناولوں کو پڑھنے کی تحریک بھی پیدا ہوگی اور مکتوبی ادب کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

ڈاکٹر صاحب اور میں نے نوے دنوں میں ایک دوسرے کو پچاس خطوط لکھے مگر کتاب کے لئے تیس خطوط منتخب کیے گئے۔ کتاب کا نام : Literary Love Letters رکھا گیاہے۔ اور یہ کتاب کینیڈا میں شائع ہوئی اور ایماذان Amazon پر موجود ہے۔ اس مضمون میں چند چنیدہ خطوط میں سے دو خطوط کا اردؤ ترجمہ پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔

نعیم اشرف کا خالد سہیل کے نام خط

محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب! میں آپ کی اس بات سے پوری طرح متفق ہوں کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ان کتب پر تبادلۂ خیال کرنا چاہیے جو ہمیں پسند آئیں۔ مجھے یہ اعتراف کرتے ہوئے کچھ عار نہیں کہ میرا مطالعۂ آپ جتنا نہیں ہے۔ میں بنیادی طور پر سائنس کا طالب علم ہوں۔ میری عمر اس وقت پینتیس سال تھی جب مجھے معلوم ہوا کہ کہ میری محویت تو لٹریچر تھی۔ بہرکیف، میں نے بساط بھر اردو اور انگریزی کا مشہور ادب پڑھا ہے۔ تمام کتب اور مصنفین کو لکھنا ممکن نہیں ہے۔ انگریزی ادب میں جو کچھ پڑھا اس میں سے چندکتب میرے ذہن میں نقش ہو گئیں :

” دا فارٹی رولز آف لو“ (ایلف شفق) ۔ ”دا کائٹ رنر“ ( خالد حسینی) ۔ ”الکیمسٹ“ (پالو کوہیلو) ۔ ”بریل ایٹ سی“ (خوشونت سنگھ) اور ”دا برائڈ“ (باپسی سدھوا) ۔ خوش قسمتی سے میں نے ان مصنفین کی تمام کتب پڑھی ہیں مگر مجھے یہ فن پارے زیادہ پسند آئے۔ آج میں آپ کے ساتھ ایلف شفق کے ناول دا فارٹی رولز آف لو پر اپنے تاثرات بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اس ناول کے سرورق پر شمس تبریز کا یہ فقرہ لکھا ہے :

”ہر سچی محبت اور دوستی، دو انسانوں کی ’کایا پلٹ‘ کی ایک بے مثال کہانی ہوتی ہے۔ اگر ہ محبت میں مبتلا ہونے کے بعد ویسے ہی ہیں جیسے محبت کرنے سے پہلے تھے تو ہماری محبت میں کچھ کمی رہ گئی ہے۔“

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے۔ یہ ناول ادبی طرز میں تیرہویں صدی کے ایک عظیم صوفی درویش شمس تبریز کے بیان کیے گئے عشق (حقیقی) کے چالیس اصولوں کا ایک دلکش بیانیہ ہے۔ ناول دو کہانیوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ ایک کہانی ترکی میں تیرہویں صدی عیسوی کی ہے جبکہ دوسری کہانی اکیسیویں صدی میں امریکہ کی ہے۔ کرداروں کی مماثلت سے یہ ایک ہی کہانی بنتی نظر آتی ہے۔ البتہ دونوں کہانیوں کا موضوع ”محبت“ ہے۔ خالق اور مخلوق سے محبت، جو کہ صوفی سلسلے کا نقطہ ماآخذہ ہے۔

صوفیوں کا مذہب بھی محبت ہے جو اس ناول کا مرکزی خیال ہے۔ تیرہویں صدی کی کہانی اس وقت کے مشہور عالم دین مولانا جلال الدین رومی اور ایک صوفی درویش شمس تبریز کے گرد گھومتی ہے۔ ایران کے رہنے والے شمس تبریز ترکی میں جلال الدین رومی کو ان کے آبائی شہر کونیہ میں ملتے ہیں اور چند سال ان کے ساتھ گزارتے ہیں۔ وہ قتل یا غائب ہونے سے قبل رومی کو ایک عالم دین سے صوفی شاعر بنا دیتے ہیں۔ ان کی ملاقات اور ساتھ بتائے عرصے کی داستان نہایت عمدہ اور حیرت انگیز ہے۔ ناول اپنے پڑھنے والے کو ان پرانے وقتوں کی سیر کرواتا ہے، بلکہ بعض اوقات قاری اپنے آپ کو کہانی کا ایک خاموش کردار تصور کرنے لگتا ہے۔

اکیسویں صدی کی کہانی ایک شادی شدہ امریکی عورت عیلٰی روبن سٹین اور ایک ترک فوٹو گرافر عزیز الزہاراکے مابین محبت کی خوبصورت داستان ہے۔ عزیز الزھارا جو زندگی میں ایک المیہ پیش آنے کے بعد نگری نگری گھومنے والا درویش بن چکا ہے ”معصوم گستاخی“ نامی کتاب لکھتا ہے۔ یہ کتاب شمس تبریز کی زندگی کی کہانی اور ان کے وضع شدہ محبت کے چالیس اصول بہت خوبصورت پیرائے میں بیان کرتی ہے۔ یہ کتاب، شائع ہونے سے قبل تنقید کے لئے عیلٰی روبن سٹین کے پہنچتی ہے تو وہ اس کی کہانی پڑھتے ہوئے عزیز سے ای میل کے ذریعے رابطہ کرتی ہے۔

دونوں کے درمیان خط وکتابت شروع ہو جاتی ہے۔ عزیز عیلٰی کو روح اور روحانی تجربات سے عیلٰی کو روشناس کرواتا ہے۔ عزیز کے ساتھ اس روحانی سی دوستی سے قبل عیلیٰ کی زندگی میں ایک عجیب سا خلا تھا۔ عیلٰی کی زندگی ایک گھریلو عورت کی لگی بندھی زندگی تھی۔ اس کو اکثر محسوس ہوتا کہ اس کا خاندان جو اس کے شوہر اور دو بچوں پر مشتمل تھا، اس کو ایک وفا شعار بیوی، ماہر امور خانہ داری اورایک ہر دم تیار خدمتگار سمجھتا تھا۔ کتاب کے مصنف، عزیز کے ساتھ دوستی کا مضبوط رشتہ قائم ہو جانے کے بعد عیلیٰ ایک دن اپنا خاندانی خول توڑ دیتی ہے، وہ اس بندھن سے آزاد ہو کر عزیز کے پاس چلی جاتی ہے۔ کہانی مزید دلچسپ ہو جاتی ہے مگر عزیز اور عیلیٰ کی رفاقت دیر پا ثابت نہیں ہوتی اور ایک المیے سے دو چار ہو کر اختتام پذیر ہو جاتی ہے۔

دوسری طرف تیرہویں صدی میں کونیہ میں رومی اور شمس کی تین سال سے اوپر کی رفاقت کم و بیش ایسے ہی انجام سے دو چار ہو کر اختتام پذیر ہوتی ہے۔ جہاں شمس، رومی جیسے جید عالم دین کو ایک صوفی شاعر میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ مگر ان کو رومی کے خاندان بالخصوص ایک بیٹے کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا ہوتاہے۔ اور بالآخر یہ رقابت شمس کے قتل پر نتیجہ خیز ہوتی ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے شمس تبریزی کے چند ارشادات زیر قلم کرتا ہوں :

1۔ ”“ ہم میں سے ہر ایک انسان کا خدا کا تصور در حقیقت ہماری ذات کا ہی تصور ہوتا ہے۔ اگر ہمیں خدا خوف زدہ کرنے والی اور الزام سر دھرنے والی ہستی محسوس ہو تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہمارا دل خوف اور الزام تراشی جیسی کثافتوں سے اٹا پڑا ہے۔ اور اگر ہمیں ہمارا خدا بے پناہ محبت کرنے والی اور مہربان ہستی لگے تو ہم خود دراصل ویسے ہیں۔

2۔ ”آپ خدا کو ہر شے اور انسان کے اندر دیکھ سکتے ہیں۔ خدا کسی مندر، مسجد یا گرجا گھر میں نہیں رہتا۔ مگر آپ کی تسلی نہ ہو اور خدا کے گھر تک پہنچنا ہی مقصود ہو تو وہ آپ کو ایک سچے عاشق کے دل میں ملے گا۔“ آخر میں، میں نے شمس تبریزی کے ایک قول کو منظوم کیا ہے :

” جب میں ایک بچہ تھا
تو مجھے فرشتے نظر آتے تھے
مجھے زندگی کی بلندیوں
اور پستیوں کے رازنظر آتے تھے
میرا خیال تھا تمام انسان یہ دیکھ سکتے ہیں
آخر مجھے پتہ چلا کہ وہ ایسا کچھ بھی نہیں دیکھ سکتے ”

محترم ڈاکٹر صاحب! آپ یہ جان کر خوش ہوں گے کہ میں نے اس ناول کا ترجمہ اردو میں کیا ہے، جو ایک آن لائن میگزین میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔

خیر اندیش۔
نعیم اشرف

٭٭٭     ٭٭٭


خالد سہیل کا نعیم اشرف کو جواب

عزیزم نعیم اشرف! اپنی پسندیدہ کتب اور مصنفین بارے مجھے معلومات دینے کا شکریہ۔ ان کتب میں سے، تین میں نے پڑھ رکھی ہیں۔ اب میں مارسلینا سے کہونگا کہ ہو سکے تو وہ مجھے بقیہ دو کتب بھی منگوا دیں۔ ”دا فارٹی رولز آف لو“ کو پڑھنے کے بعد میں اس کا گرویدہ ہو گیا تھا۔ اور رومی اور شمس کے تعلق بارے اتنا متجسس ہوا کہ میں نے درج ذیل کتب منگوا کر پڑھ لی ہیں :

1۔ ”می اینڈ رومی“ شمس تبریزی کی خود نوشتہ سوانح حیات: ترجمہ : ولئیم چٹک۔
2۔ ”رومی : پاسٹ اینڈ پریزنٹ، ایسٹ اینڈ ویسٹ“ : فرینکلن لیوائس۔
3۔ ”دیوان شمس تبریز“ ۔ ترجمہ : آر۔ اے۔ نکلسن۔
4۔ ”رومی۔ بائیو گرافی اینڈ میسج“ سیان اولکو یو کو۔

عزیزم نعیم! اس خط میں، میں رومی اور شمس کے تعلق بارے اپنے تاثرات بیان کرونگا۔ سات سو سال گزر جانے کے باوجود آج بھی رومی اور شمس کے درمیان تعلق ایک رازہے۔ کچھ مورٔخ اس رشتے کو روحانی، کچھ تخلیقی، کچھ فلسفیاتی اور کچھ لوگ جذباتی بھی سمجھتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ ان تمام رنگوں نے مل کر رومی کے گرد ایک وجودیاتی قوس قزح بنا دی ہو جس کے سائے تلے رومی کو حقیقی بصیرت، روشن خیالی اور روحانی زندگی ملی ہو۔ 1244 ء میں جب رومی شمس سے ملے تو ان کے عمر سینتیس جبکہ شمس کی عمر ساٹھ سال تھی۔

اس عمر کو پہنچتے پہنچتے رومی ایک عالم، دانشور اور فلاسفر بن چکے تھے، جن کے ہزاروں پیرو کار تھے۔ ہر ہفتے سینکڑوں لوگ دور دراز سے سفر کر کے ان کا خطبہ سننے آتے۔ ذاتی زندگی میں وہ اپنی بیو ی اور بچوں کے ساتھ ایک خوشگوار زندگی بسر کرنے کے علاوہ، سماجی طور پر شہرت کی بلندیوں پر تھے۔ ان کے سینکڑوں طالب علم تھے۔ جو نہ ان کو پسند کرتے تھے۔ بلکہ والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔ مگر زندگی میں سب کچھ ہونے کے با وجود رومی اپنے دل میں ایک خلا محسوس کرتے تھے۔

ایک عجیب خواہش ان کو ستاتی رہتی۔ وہ چاہتے تھے کہ کوئی ہو جو ان کو متاثر کرے، ان کو للکارے، اور ان کی کایا پلٹ کر رکھ دے۔ مگر دور دور تک کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا تھا۔ پھر ایک دن غیر متوقع طور پر کہیں سے ایک درویش صوفی مسافر رومی سے آن ملا۔ وہ درویش ان کی ایک پر سکون جھیل جیسی زندگی میں کنکر کی صورت گرا۔ ان کی کایا پلٹ چکی تھی۔

ان کی ملاقات نے رومی کے دل میں لہریں اور لہروں نے ارتعاش پیدا کر دیا۔ رومی شمس سے اتنے متاثر ہوئے کہ ان کو اپنے گھر لے آئے۔ رومی کھانا اور سونا تک بھول گئے۔ ان کے درمیان طویل دورانیہ کا مکالمہ ہوتا تھا۔ رومی اپنا زیادہ سے زیادہ وقت شمس کے ساتھ گزارنے لگے۔ انھوں نے شاگردوں کو پڑھانا اور خاندان کو وقت دینا چھوڑ دیا۔ حتیٰ کہ رومی کے عقیدتمند، طالب علم اور اہل خانہ شمس سے حسد محسوس کرنے لگے۔ شمس کو جب یہ احساس ہوا تو وہ ایک دن اچانک کہیں چلے گئے، اسی پر اسراریت کے ساتھ جس پر اسراریت سے کونیہ میں وارد ہوئے تھے۔

رومی کو تنہا پا کر ان کا خاندان اور عقیدتمند بہت خوش ہوئے۔ اب رومی ان کے پاس ہونے کے باوجود ان کے نہ تھے۔ انھوں نے دیکھا کہ رومی اکثر رو پڑتے ہیں اور شمس کو یاد کر کر کے ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں۔ یہ دیکھ کر ان کے رشتے دار اور شاگرد بھی دل مسوس کر رہ جاتے۔ بالآخر رومی کا بڑا بیٹا سلطان، شمس کو ڈھونڈنے کے لئے نکل کھڑا ہوا۔ وہ قریہ قریہ شمس کو ڈھونڈتا پھر ا مگر شمس کا کوئی اتہ پتہ نہ ملا۔ وہ تھک ہار کر کونیہ واپس لوٹنے لگا تھا کہ شام سے آنے والے ایک شخص نے اس کو بتایا کہ شمس کو شام میں دیکھا گیا ہے۔ سلطان شام جا پہنچا اور شمس کو ڈھونڈ نکالا۔ اور منت سماجت کر کے ان کو رومی کے پاس واپس لے آیا۔

شمس اور رومی کے مابین، زندگی، تخلیق، روحانیت اور شاعری پر طویل مکالمات کا سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا وہیں سے دوبارہ شروع ہو گیا۔ اب کی بار رومی شمس کو دوبارہ کبھی کھونا نہیں چاہتے تھے۔ اور ان کو ہمیشہ اپنے قریب رکھنے کے لئے رومی نے اپنی لے پالک بیٹی ک ’کمیہ‘ کا ہاتھ نکاح میں شمس کو دے دیا۔ مگر اس پر ایک نئی مصیبت آن کھڑی ہوئی۔ رومی کو معلوم نہ تھا کہ ان کا چھوٹا بیٹاعلاؤالدین کمیہ کی محبت میں پہلے سے مبتلا ہے اور اس سے شادی بھی کرنا چاہتا ہے۔ جب شمس کی کمیہ سے شادی ہو گئی تو علاؤالدین شمس سے حسد اور نفرت کی آگ میں جلنے لگا۔

بالآخر ایک دن جب شمس اور رومی ایک دقیق مکالمہ کر رہے تھے، عقبی دروازے پر دستک ہوئی۔ شمس دیکھنے کے لئے باہر گئے اور پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئے۔

شمس کے دوبارہ غائب ہونے کے بارے میں مختلف روایات مشہور ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ شمس کو علاؤالدین نے قتل کروا دیا تھا۔ جب کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شمس دوبارہ روپوش ہو گئے تھے۔ شمس کے جانے کے بعد رومی کا دل پھر سے ٹوٹ گیا تھا۔ مگر اب کی بار ماتم کرنے کی بجائے وہ اپنا غم شاعری میں منتقل کرنے لگے۔ انھوں نے شمس کی یاد میں ہزاروں شعر لکھ ڈالے۔ اور دیوان کا نام بھی ”دیوان شمس تبریز ی“ رکھا، گویا یہ شاعری شمس نے کی تھی۔ رومی اکثر کہا کرتے کہ میرے اندر شمس بولتا ہے۔ ان کا ایک شعر ہے :

”مولوی ہر گز نہ شد مولائے روم
تا غلام شمس تبریز نہ شد ”

( ”کوئی مولوی اس وقت تک ’مولائے روم‘ نہیں بن سکتا، جب تک وہ شمس تبریز ی کی شاگردی اختیار نہ کرے“ )

روپوش ہونے سے قبل شمس نے پیشین گوئی کی تھی کہ رومی ایک دن بہت بڑا شاعر بنے گا، دنیا رومی کی شاعری کو پڑھے گی، سراہے گی۔ مگر رومی کو یقین نہیں آتا تھا کیوں کہ شمس کے ساتھ ملاقات سے قبل وہ شاعری کرنا نہیں جانتے تھے۔ شمس کی بات سچ ثابت ہوئی۔ رومی کی شاعری کی گونج صدیوں سے ساری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔ رومی کو حال ہی میں امریکہ کا سب سے بڑا صوفی شاعر قرار دیا گیا ہے۔ آج اگر رومی دوبارہ زندہ ہو جائیں اور دیکھیں کہ ان کی شاعری میڈونا اور دیپک چوپڑا گا رہے ہیں تو ان کو کیسا محسوس ہوگا؟

نعیم صاحب آپ کا اس بارے کیا خیال ہے؟ رومی نے ایک دفعہ کہا کہ جب کوئی صوفی شاعر فوت ہو جاتا ہے تو وہ قبر میں نہیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں جا بستا ہے۔ رومی بھی دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں۔ وہ سب لوگ ان کی شاعری اور فلسفے سے آج بھی متاثر ہیں۔ مگر رومی اور شمس کے تعلق کی کہانی دیو مالائی داستان بن گئی ہے۔ جس کے اندر حقیقت اور افسانہ مدغم ہوتے جا رہے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دھند چھٹنے کی بجائے مزید گہری ہوتی جائے گی۔

عزیزم نعیم! میں نے ”سدھارتھا“ کے مصنف ”ہرمن ہیس ’کی سوانح عمری ابھی ابھی ختم کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اگلے خطوط میں، میں ہرمن ہیس کی زندگی کے بارے میں اپنے تاثرات قلم بند کروں گا۔ جو دلچسپ بھی ہیں اور عجیب بھی، جو متاثر کن بھی ہیں اور منفرد بھی۔

امن کا متمنی
خالد سہیل

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *