کس چہیتے کے خلاف وزیراعظم نے انکوائری کا حکم دے دیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”کپتان“ نے اپنے ”وسیم اکرم پلس“ کے خلاف کرپشن کے سنگین الزامات کی چھان بین کا حکم دے دیا ہے، دوسری طرف انہیں اپنے معاملات درست کرنے کے لئے ’آخری وارننگ‘ دے دی ہے، یوں لاہور کا ”رنگ روڈ سکینڈل“ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی سیاسی بقا کے لئے ٹیسٹ کیس بن گیا ہے جس کے حوالے سے وزیراعلیٰ بزدار پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی گزشتہ جمعہ کو ایک ہفتے میں پرائم منسٹر ہاؤس میں دوسری دفعہ طلبی اور ان سے تیسری ون آن ون ملاقات انٹیلیجنس بیورو کی ایک رپورٹ پر کی جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب پر کرپشن میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ وزیراعظم کو ملنے والی خفیہ ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور کے رنگ روڈ پراجیکٹ کی تکمیل کرپشن کی نذر ہو چکی ہے کیونکہ ملک ریاض نے لاہور والے بحریہ ٹاؤن میں رنگ روڈ کے لئے مختص سرکاری زمین بھی شامل کر رکھی تھی۔

وزیراعظم نے جب رنگ روڈ پراجیکٹ جون میں مکمل کرنے کا اعلان کیا تو کمشنر لاہور نے بطور چیئرمین رنگ روڈ اتھارٹی وزیر اعظم کے مقرر کردہ ہدف (جون تک کی میعاد) کی روشنی میں بحریہ ٹاؤن کی وہ تعمیرات گرانا شروع کروادیں جو بطور تجاوزات رنگ روڈ کی حدود میں قائم تھیں۔ اس پر ایک صوبائی وزیر اسد علی کھوکھر جو دراصل قبضہ مافیا سے تعلق رکھتا اور ملک ریاض کا فرنٹ مین ہے، اس نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو اعتماد میں لے کر ان کی طرف سے ملک ریاض کے ساتھ ڈیل کی اور راتوں رات رنگ روڈ اتھارٹی کے چیئرمین یعنی کمشنر لاہور کا ٹرانسفر کروایا۔

وزیراعلیٰ نے یہ اقدام چیف سیکرٹری پنجاب سے بالا بالا صوبائی سیکرٹری سروسز ڈاکٹر شعیب اکبر کے ذریعے براہ راست اٹھایا اور ”اپنے کام کے آدمی“ کے طور پر آصف بلال لودھی کو کمشنر لاہور لگوا دیا، جس نے بطور چیئرمین رنگ روڈ اتھارٹی بحریہ ٹاؤن کی وہ تجاوزات گرانے کا کام فوری روک دیا جو رنگ روڈ کی حدود میں قائم ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے چیف سیکرٹری پنجاب کی ہنگامی رپورٹ پر فوری ایکشن لیتے ہوئے ایک ہفتہ قبل فوری لاہور آکر کمشنر لاہور اور سیکورٹی سروسز پنجاب کو عہدوں سے ہٹا دیا تھا اور وزیراعلی عثمان بزدار سے ملاقات میں سخت تنبیہ کی تھی کہ وزیراعظم کو اسلام آباد واپس آنے کے دوسرے ہی دن وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو پھر طلب کرنا پڑا جب انہیں وزیر اعلیٰ بارے مزید سنگین شکایات موصول ہوئیں جبکہ پچھلے جمعہ کو موصوف کو ایک ہفتہ میں تیسری ملاقات کے لئے پرائم منسٹر ہاؤس طلب کرنا پڑا جب وزیراعظم کو آئی بی کی تفصیلی خفیہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار اپنے 2 فرنٹ مین حضرات کے ذریعے سنگین مالی بدعنوانیوں میں ملوث ہیں، ان میں وزیر اعلیٰ کا ایک پرانا اور نہایت قریبی انجینئر دوست فیاض بزدار اور صوبے کا ایک اعلیٰ بیوروکریٹ طاہر رشید شامل ہیں۔ ۔

خفیہ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فیاض بزدار کو عثمان بزدار نے وزیراعلیٰ بنتے ہی ایکسیئن سے پروموٹ کر کے ڈپٹی سیکریٹری بنایا اور وزیراعلی سیکرٹیریٹ میں ڈائریکٹر تعینات کرکے اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے جو ”باس“ کا سب سے پہلا فرنٹ مین ہے جبکہ طاہر رشید کمشنر کے عہدے کے علاوہ صوبائی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات رہ چکا ہے، اور شہباز شریف کے خلاف آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل میں star witness (کلیدی گواہ) ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کا دوسرا فرنٹ مین بتایا جاتا ہے، خفیہ رپورٹ کے مطابق یہی دونوں حضرات وزیراعلیٰ کے لئے سرکاری افسران اور نجی ”پارٹیوں“ سے ڈیل یعنی معاملہ طے کرتے ہیں۔ خفیہ ایجنسی کی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں متذکرہ فرنٹ مینوں، بالخصوص طاہر رشید نے وزیراعلیٰ کی طرف سے بیوروکریٹس سے ڈیل کرکے ایک ایک کروڑ روپے رشوت کے عوض صوبے کے مختلف ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں بطور کمشنر تعیناتیاں بھی کروائی ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کرپشن کے ان سنگین الزامات کی تصدیق کی غرض سے ایف آئی اے کو انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply