بلی کے ساتھ ریپ اور ہماری اخلاقی حیثیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کل ایک روح فرسا خبر سننے کو ملی جس کو سنتے ہی میں کانپ اٹھا، ویسے تو ہر روز ہی کچھ ایسے واقعات سامنے آتے ہیں کہ اپنے انسان ہونے پہ شرمندگی ہوتی ہے لیکن یہ معاملہ کچھ مختلف نوعیت کا تھا۔

خبر کچھ یوں تھی کہ لاہور میں چند لڑکوں نے مل کر محض چند ہفتوں کے بلی کے بچے کو پانچ دن تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جس سے ہسپتال لے جانے کے باوجود اس کی جان نہ بچائی سکی اور وہ تڑپ تڑپ کر وفات پاگیا۔

میرا سوال ہے ہر اس فرد سے جو اس زعم میں رہتا ہے کہ ہم بہت اعلی اقدار کے مالک ہیں، کہاں ہیں وہ لوگ جو صبح شام مغربی تہذیب کو نشانے پر رکھتے ہیں ان کو غیر مہذب کہتے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں مغرب ہماری اخلاقی اقدار کو تباہ کر رہا ہے۔

جس چیز کا وجود ہی نہ ہو اس کو خطرہ کیسا ایک سال سے کر ہر عمر کے بچوں اور خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا، ہمارے یہاں بلی سے کر مرغی تک کوئی بھی جانور ایسا نہیں جسے جنسی زیادتی نشانہ نہ بنایا جاتا ہو اور تو اور خواتین کی لاشوں کو بھی نہیں بخشا جاتا تو کیا یہ سب مغرب والے ہم سے کروا رہے ہیں۔

ہم ہیں کہ سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے کہ ایسا ہوا ہے لیکن حقائق یہ کہتے ہیں واقعی ہی ایسا ہو رہا ہے۔

بی بی سی کی 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں کار کے ساتھ غیر مناسب جنسی حرکات کرتے شخص کو گرفتار کیا گیا اور عدالت نے اسے جرمانہ بھی کیا، ہمارے یہاں تو معصوم لوگوں کے قاتل سے لے کر ریپسٹ تک ہر مجرم نہ صرف سزا سے بچ جاتا ہے بلکہ معاشرہ اسے قبول کرتا ہے اور اس کے حق میں دلائل دیے جاتے ہیں۔

مغرب میں جانوروں کے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا جاتا ہے اور سانپ تک کسی چیز کو ایذا نہیں پہنچائی جاتی، میرا مقصد مغربی تہذیب کو برتر دکھانا نہیں بلکہ ایک موازنہ پیش کیا ہے۔

اس کے علاوہ مولانا طارق جمیل سے یہ سوال ہے کہ کیا اب بلیوں کو بھی پردہ کرانا چاہیے اور کیا اس بلی کے ساتھ اور دوسرے جانوروں کے ساتھ ہونے والی بربریت پر بھی کوئی عذاب آئے گا یا عذاب صرف عورتوں کے دوسرے انسانوں کے برابر اپنے حقوق کی جدوجہد کرنے، ان کے خلاف کیے جانے والے منظم جرائم کے خاتمے اور سیاسی نمائندگی کے سوال کرنے سے ہی آتے ہیں۔

پنجاب اسمبلی میں تحفظ بنیاد اسلام بل منظور ہوا ہے لیکن اس وقت جانوروں، معصوم بچوں اور خواتین کے تحفظ کے کے لیے قانون سازی اشد ضرورت ہے۔

جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک خاتون جنہوں نے اس کیس کو ہائی لائٹ کیا انہوں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ ”اگر یہ معاملہ پولیس کے پاس گیا تو وہ ہنسیں گے یا نظر انداز کر دیں گے کیونکہ جانور ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ یہ جانوروں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کا پانچواں واقعہ ہے۔ میں نے کیس کیے، پرائم منسٹر کے سٹیزن پورٹل پر کمپلینز کیں لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ وکلاء کے پاس گئی لاکھوں لوگوں سے بات کی۔

میں ایک بار پھر کورٹ میں کیس کروں گی وکیل کروں گی۔ میں ان لڑکوں کو ایسی ہی سزا چاہتی ہو جیسے انہوں نے بلی کو ٹارچر کیا، یقیناً آپ لائک اور شیئر کریں گے اور یہ سب پرانا ہو جائے گا، اور ریپسٹ کوئی اور جانور ڈھونڈ لیں گے کیوں کہ کمزور اور بے زبان جانوروں کے ساتھ ایسا کرنا آسان ہے کیوں کہ وہ آپ کے شیطانی فعل کو کسی کے سامنے بیان نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا جس لڑکی نے یہ واقعہ رپورٹ کیا وہ کسی بھی پلیٹ فارم پر پیش نہیں ہونا چاہتی اور ڈاکٹر نے بھی کوئی رپورٹ دینے سے انکار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اینیمل پولیس اور ہیلپ لائن کا قیام ضروری ہے جہاں پہ جانوروں کے ساتھ ہونے والے جرائم کو رپورٹ کیا جا سکے ”۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *